یاداں

(Gulzaib Anjum, Kotli-a.kashmir)
باکمال لوگ

سیری نالا بان کے دونوں کناروں پر بسنے والے لوگوں کی یادیں ہی کچھ ایسی ہیں کہ بھلانے سے بھلائی نہیں جاتی ۔ لوگ ہی کچھ ایسے ہیں جن کو میاں زمان جیسے شاعر نے ڈھول مٹولیاں کہا ہے ۔ ان لوگوں میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جو گمنامی کی موت مرے ہیں ورنہ ہر مردے کے بھی اتنے ہی کارنامے ہیں جتنے زندوں کے ہیں ۔ اللہ میری بان کے پانی کنارے اور کناروں پر بسنے والوں کو سلامت رکھے کہ میری سیری کی یہی پہچان ییں ۔ جہاں تک یادوں کے تسلسل کی بات ہے شاید یہ تب تک قائم رہیں جب تک بان کے اندر پانی موجود ہے۔ بان سے محبت ایک فطری سا عمل ہے اور یہی محبت ہی تو ہے جو سیری کی ہر یاد کو دل میں سموئے ہوئے ہے ۔ حبیب بینک سیری کی بلڈنگ کے دائیں والی دکان جہاں آج کل کوئی زلف تراش زلفیں تراشتا ہے کبھی یہاں دو کشف دوز بیٹھا کرتے تھے دونوں انتہائی ملنسار خوش گفتار انسان تھے اور خندہ پیشانی ان کا شیوہ تھا ۔ ان میں سے ایک جس کا نام مشتاق تھا پہلے ہوٹل کرتا تھا یہ ہوٹل بھی ملک حسین نسوار والے کی سابقہ دکان کے ساتھ ہوا کرتا تھا ہم اسے سیڑھیوں والا ہوٹل کہتے تھے کیونکہ نسوار والی دکان اور ہوٹل کے درمیان ایک سیڑھی ہوا کرتی تھی جس وجہ سے وہ دکان سیڑھی والا ہوٹل مشہور ہوئی۔ لیکن کوئی خاص گاہکی نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل کو خیر آباد کہنا پڑ گیا۔ گاہکی بھی کیا ہوتی کہ اکثر چائے بھی بہاڑے میں جاتی تھی جب کہ دودھ چینی اور چائے پتی والے صبح آدھار دے کر تیسرے پہر کو پرچی لے کر کھڑے ہوتے تھے ۔ مشتاق لکڑی کے ایک چھوٹے سے بکس جس کو گلہ کہا جاتا تھا (اللہ جانے اردو کا درست لفظ کیا ہو گا تاہم انگریزی میں کیشں بکس ہی کہا جاتا ہے) اس کو کچھ سوچتے سوچتے کھولتا یہ کھولنا بھی دراصل پرچی والوں کی تسلی کے لیے ہوتا تھا جب کہ گلہ میں کیا تھا یہ اسے گلہ کھولے بغیر بھی معلوم ہوتا تھا ۔ وہ گلہ کھول کر اس میں سے ماچس اٹھا کر ہلاتا یعنی اس میں کچھ تیلیوں کا اندازہ لگاتا پھر اس کاغذ کو اٹھاتا جس پر چائے پینے والوں کے نام ہوتے ان میں سے سرفہرست حسین نسوار والوں کا اور دوسرے نمبر پر صوفی فقیر محمد کریانہ والوں کا نام ہوتا مشتاق ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہتا دو چاہ تساں نیاں تے دو تساں نیاں وی اے ناں۔ یہ دونوں حضرات کہتے یرا توں دو روپیے کٹی تے باقی ساڑے اساں کی دے۔ مشتاق صوفی جی کو کہتا آپ کے کل تھے بارہ روپیے دو نکلی گے تے باقی کتنے بچے(یہ لفظ کہتے ہوئے آنکھوں کو یوں کر لیتا جیسے اسے کچھ پتہ نہیں کہ باقی کتنے بچتے ہیں)۔ صوفی جی کہتے دش(دس) مشتاق دس سنتے ہی ہونٹوں کو ایک دوسرے سے ملا کر گردن ہلاتا اور کہتا ٹھیک ہے اے پھہری (آنے والی صبح) کینی کینے۔ صوفی جی ہنستے ہنستے کوئی ایک دو جملے کہتے اور واپس ہو جاتے ۔اب ملک حسین کہتے میکی تے دے نا ۔ مشتاق فل مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہتا ملک جی گل سنو ۔ جن سے میں ماچس سے لے کر چینی پتی اور دودھ تک لیتا ہوں ان کو بھی کل کا کہا ہے تو تساں نی تے اے ہی دو پڑیاں نسوار اے۔ ملک حسین یہ سن کر سگریٹ کا لمبا سا کش لیتے پھر چٹکی بجا کر راکھ جھاڑتے ہوئے کہتے جس آلے توی نسوار نہ نہ لبھی اس آلے میں پچھساں ۔ یہ تو خیر دکانداروں کا آپس کا لین دین تھا کچھ ادھر ادھر سے کٹوتی ہو جاتی تھی مسئلہ تھا ان کا جو چائے پی کر گھر چلے جاتے تھے۔ جب وہ دو تین دن بعد ملتے تو مشتاق ہاتھ میں کاغذ پکڑے ہوئے انہیں پیسوں کی یادہانی کراتا تو وہ کہتے یرا او مہاڑے ناں پر لیخی شوڑی سی آ۔ ہاں آرڈر جو آپ نے دیا تھا ۔ وہ دوسرا سوال کرتے اچھا اس وقت میرے ساتھ کون کون تھا مشتاق یہ انوکھا سوال سن کر کہتا میں چاہ دتی سی کوئی تساں نیاں مجماناں نی لیخ پرت نہی سی کیتی۔ وہ اتنے سوال جواب کے بعد کہتے ٹھیک ہے مل جائیں گے یاد رکھنا۔ مشتاق ٹیڑھی آنکھیں کر کے ان کو سر سے پاوں تک دیکھتا اور اس کاغذ کو پھر ہاتھ سے سہلاتے ہوئے جیب میں یا گلہ میں ڈال دیتا ۔ ۔۔

روز کچھ نہ کچھ قرض مشتاق پر چڑھنے لگا مشتاق ہر روز بہتری کی امید میں ہوٹل کھولتا شام تک کمانے کے بجائے کچھ قرض چڑھا کر گھر چلا جاتا ۔ ایک دن صبح ہوٹل کھولا پانی گرم کرنے کے لیے گلہ میں سے ماچس نکال کر اسٹو جلانے لگا تو دیکھا ماچس میں تیل( دیا سلائی) ہی نہیں ہے ۔ دائیں بائیں دیکھا کہ کوئی سگریٹ نوش مل جائے تو اس سے ماچس لے کر چولہا جلا لے لیکن ضروت پر کب کوئی ملتا ہے ۔ صوفی جی کی دکان کھلی تھی لیکن ان کے پاس صبح صبح ادھاری ماچس لینے نہیں گیا ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ ملک حسین آ گے ۔ دکانداری کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اصول یہ بھی ہوتا ہے کہ صبح صبح نہ ادھار لیا جائے اور نہ ہی دیا جائے۔ بس اب مشتاق انتظار کرنے لگا کہ کوئی سگریٹ نسوار والا ملک صاحب سے کچھ خرید کر بوہنی کرا دے تاکہ وہ ماچس ادھار لے سکے ۔ ابھی اسی انتظار میں تھا کہ ملک جی نے مشتاق کو چائے کا آرڈر دے دیا ۔ آرڈر سن کر مشتاق کو کچھ بہانا ملا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا آج ہم ایک دوسرے کو بوہنی ایسی کرائیں گے کے مثال ہی بن جائے گی ۔ ملک جی نے نسوار میں پانی ملاتے ہوئے پوچھا او کسطرح ۔ مشتاق کہنے لگا نہ میں آپ سے کچھ لوں گا نہ آپ مجھ سے کچھ مانگنا ۔ یہ سن کر ملک حسین کہنے لگے ای شاوا ہس اے۔ اے وی چنگی بوہنی دسی آ۔ یوں مشتاق کو ماچس مل گئی اور ان کو چائے مل گئی ۔

مشتاق کے صبر کی بھی شاید آخری یہ حد تھی یا پھر وہ سمجھ چکا تھا کہ وقت برباد کرنے کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہے۔ ویسے اس سے پہلے ملک حسین اس کی حالت بھانپ کر یہ مشورہ دے چکے تھے کہ یرا دفے مار اسکی کج اور تک سن مشتاق کو بھی یہ مشورہ اچھا لگا اور اسی دن شام تک ہوٹل چھوڑ چکا تھا دو دن ادھر ادھر گھومنے پھیرنے کے بعد اپنے ہی دیرینہ جان پہچان والے اور پکے گاہک شفیع خانپوری کے ساتھ دکان ہر بیٹھ گیا ۔ اللہ جانے کشف دوزی کا فن اس نے کہاں سے سیکھا تھا تاہم ہاتھ میں اچھی صفائی تھی اگر کوئی فرق رہ جاتا تو شفیع بھائی بتا دیتے ۔ اب دونوں جو دن کو کماتے شام کو بانٹ لیتے ۔ مشتاق کچھ کا سودا لیتا اور کچھ پرانا حساب چکتا کرتا ۔ شفیع بھائی اپنے کام کے علاوہ ملی( ایک ایسی تکلیف جو سوزش کی صورت میں اکثر مردوں کے گلے پر اور خاص کر دودھ پلانے والی عورتوں کی چھاتی پر نمودار ہوتی ہے) پر دم بھی ڈالا کرتے تھے وہ یہ دم ڈالنے کے لیے ایسے جھاڑو سے جو ابھی استعمال نہ ہوا ہو اس سے تین، پانچ یا سات تنکے لیتے اور پھر دم ڈالتے اچھے اور بھلے مانس لوگ تھے اللہ تعالی نے زبان میں تاثیر بخشی ہوئی تھی اس لیے مریض جلد شفا پا جاتے ۔ پھر بڑی بات یہ خدمت بنا دام کے کرتے تھے ۔ مشتاق اور شفیع بھائی کی جوڑی بہت عرصہ تک ایک ساتھ چلی پھر بیچ میں کوئی ایسا موڑ آیا کہ شفیع بھائی چوکی روڈ پر منتقل ہو گے اور مشتاق بابا غلام دین کے ساتھ کام کرنے لگ گے ۔ یہ سلسلہ کب تک رہا مصنف ماہ و سال بتانے سے قاصر ہے ۔

مشتاق بابا غلام حیدر کے منجلے بیٹے تھے لیکن ان تینوں بھائیوں میں بہت کم مماثلث پائی جاتی تھی خاص کر بڑے بھائی عبدالرزاق تو بہت ہی مختلف ہیں اور چھوٹے صابر میں کچھ خوبیاں مشتاق والی پائی جاتی ہیں ۔ مشتاق کو اللہ تعالی نے خداداد صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ۔ ان سب میں نمایاں صلاحیت فنون لطیفہ کی تھی وہ اس طرح سے مصوری کرتے کہ تصویر میں جمالیاتی و خیالاتی تصور کو اجاگر کر کے دکھا دیتے اور دیکھنے والوں کی عقل دھنگ رہ جاتی ۔ وہ جانوروں کی تصویر بناتے ہوئے ندی نالے چراگاہ پہاڑ اور انکی اوٹ میں سورج دکھا کر دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتا ۔ وہ ہوٹل پر فارغ ہوتا تو دائیں بائیں اور سامنے والے دکانداروں کو جس حالت میں دیکھتا ( کچھ لوگوں کا بے جا کھجلی کرنا، ناک میں انگلی ڈالے رکھنا خاص کر لنگھی باندھنے والے حضرات جو پاوں کے بل بیھٹتے کچھ لوگوں کا ایک ٹانگ پر زیادہ بوجھ ڈال کر کھڑا ہونا ) ویسی ہی تھوڑی دیر میں پورٹریٹ بنا کر دکان کے پلیر کے ساتھ لگا دیتا ۔ اس کے اس فن سے کافی دکاندار بچنے کی کوشش بھی کرتے لیکن اتنی دیر میں مشتاق کام دکھا دیتا ۔ اس فن میں اس کو کافی مہارت تھی لیکن اس کو وہ اپنا پیشہ نہ بنا سکا، اور نہ ہی پیشے کے طور پر اس نے یہ کام کیا ۔ اگر وہ مستقل مزاجی سے یہ کام کرتا تو شاید عسرت کی بھنک تک نہ پاتا ۔

موسیقی ۔ اکثر شادی بیاہ میں گیٹ ماہیے گانے کا لوک فنکار تھا ۔۔۔ نہایت سریلی اور پرسوز آواز کا مالک تھا ۔ ایک زمانہ تھا کہ مشتاق بالا شیخ اکثر(اصغر)کنی والا اور کالا مغل شادی بیاہ کی رونق سمجھے جاتے تھے اول الذکر دونوں کو بانسری اور دو بانسریوں کو ایک ساتھ ملا کر بجانا آتا تھا تھا ۔ اگر بالا شیخ اس محفل میں ہوتے تو پھر جوڑی ( دو بانسریوں کو ایک ساتھ بجانا) بالا جی بجاتے اور مشتاق گھڑا یا زنبیل بجاتا ۔ کیسر لال موتی اور مچھی والا کہندا مچھی آئی اے ریل تے اس وقت کے مشہور گیتوں میں شامل گیٹ تھے ۔ اور ان پر بالا جی کو مکمل دسترس حاصل تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ مشتاق جب چوتھی پانچویں میں پڑھتا تھا تب سے بانسری بجانا جانتا تھا ۔ یاد رہے اس زمانے میں پانچویں والے لڑکے کی مسیں بھیگنا شروع ہو چکی ہوتی تھی اور لڑکیوں کے رشتے ایسے ہی آنا شروع ہو جاتے تھے جیسے آج کل ایف اے کر لینے کے بعد۔۔۔۔۔۔ مشتاق اور اس کا دوست جب ڈور ڈنگر کو چرانے لے جاتے تو مشتاق بانسری بھی ساتھ لے جاتا وہ پیلی میں بیٹھ کر من ڈھولے میرا تن ڈھولے کی دھن لگاتا تو اس کا دوست ناگن کے انداز میں لیٹ کر ڈانس کرتا۔ بعد ازاں سنا وہ ناگ منی بہت بڑا آفسر بن گیا لیکن مشتاق کے شب و روز ویسے ہی رہے۔

بزلہ سنجی۔ اگر یہ کہا جائے کے اس فن کی اس پر انتہاہ تھی تو غلط نہ ہو گا ۔ برجستگی اس کے انگ انگ میں بھری پڑی تھی۔ اس کا چہرہ ہی قدرت نے کچھ اس انداز سے بنایا تھا کہ روتے ہوئے دیکھتے تو ہنس جاتے۔ ایک بار میں اسی کی پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دکان کے سامنے دو ہکلے آپس میں باتیں کرنے لگے۔ مشتاق کام چھوڑ کر ان کی باتیں سن رہا تھا مہم نے کہا لالہ مجھے یہ کام کر دو کہنے لگا پہلے کلہیاں نی قوالی تے سنی کیناں۔ میری ایک ملاقات اس سے تقریبا چار سال پہلے ایک جنازے پر ہوئی ۔ وہ بھی ایسے کہ جس صف کے بائیں میں کھڑا تھا اسی کی دائیں جانب پہلا آدمی وہی تھا ۔ سلام پھرتے ہوئے نظر پڑھ گئی بعد نماز و دعا کے میں اس سے ملنے کے لیے آگے بڑھا تو عادتا" پلکیں جھپکتے ہوئے کہنے لگا میں نے ایک اندازہ لگا لیا ہے ۔ میں نے پوچھا کس بات کا ؟ کہنے لگا کہ عزرائیل اور قاضیوں کی نظر سے آدمی نہیں بچ سکتا ۔ یہ بات اس نے اس انداز سے کہی کے بڑی مشکل سے ہنسی روکنا پڑی بلکہ کچھ لوگ ہنس بھی گے۔

کہتے ہیں غریبی اور بیماری انسان کو چڑچڑا اور بد مزاج بنا دیتی ہیں لیکن مشتاق نے یہ فلسفہ غلط کر دکھایا۔ اسے مفلسی نے جتنا ستایا وہ اس سے بڑھ کر مسکرایا ۔۔۔۔۔۔۔ حتی کہ مفلسی کو مسکراہٹ سے شکست دے دی۔

کچھ عرصے سے وہ فن باورچی آزما رہا تھا اس کا انکشاف تب ہوا ہوا جب وہ میرے پڑوس میں ایک شادی کے موقع پر دیگ پکوائی کے لیے آیا ۔ مجھ کو رات بھر پتہ نہ چل سکا کہ میرا ہاسیاں دا بادشاہ میرے مکان کے پچھواڑے میں پیاز کٹائی یا دیگر امور میں مصروف ہے لیکن نماز فجر میری اقتدا میں ادا کرنے کے بعد جب اس نے کسی قوال کے انداز میں اللہ اکبر بلند آواز میں کہا تو میں نے فورا" اس جانب دیکھا جہاں سے آواز آئی تھی۔ وہاں مشتاق اور چودھری الیاس کو پایا ۔۔ ان دونوں نے جب تکبیر کہتے ہوئے ایک دوسرے کو مخصوص انداز( ٹھوڑی سینے کے ساتھ لگا کر آنکھیں پوری اوپر اٹھا کر) میں دیکھا تو میں نے فورا" رخ بدل لیا مبادا کے ہنسی نکل جاتی ۔

دورود شریف سب نمازیوں نے اکٹھا پڑھنے کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کیا ۔ میں نے مسجد سے باہر آتے ہوئے پوچھا لالہ آج سویلے سویلے کدر؟ وہی پرانے انداز میں کہنی سے بازو پکڑتے ہوئے کہنے لگے رات پوری تساں نہے کھومبھے رہیاں میں نے پوچھا کہہ کرنے سو ہنستے مسکراتے کہنے لگے پلا(پلاو) پکاناں ساں ۔۔۔ تب پتہ چلا میرا لالہ اب یہ کام بھی کرتا ہے۔ میں نے کہا مجھے بھی اطلاع کر دی ہوتی تو کہنے لگے رخصتیاں ( پردیس سے چھٹی پر آئے ہوئے) کی کہہ تکلیف دینی سی۔۔۔ !

مشتاق کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ جب کبھی خاموش بیٹھتا تو ہونٹوں اور دانتوں کو یوں ہلاتا جیسے کوئی بہت ہی لذیذ چیز کھا رہا ہو ۔ کہیں بار اس کو یوں کرتے دیکھ کر غصہ بھی آیا کہ کتنا کنجوس ہے خود کچھ کھا رہا ہے اور ہمیں لفٹ بھی نہیں دے رہا۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا کھا رہا ہے کوئی بات چھیڑی تو اس نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا تو پتہ چلا کہ کچھ کھا نہیں بلکہ نسوار میں آنے والے موٹے تمباکو کو چبا رہا تھا ۔

لالہ مشتاق کسی مشن کو پورا کر رہا تھا وہ خود سائبان کی طرح دھوپ میں جل کر اولاد کو سایہ بخش رہا تھا وہ سردی گرمی کی پروا کیے بغیر شبانہ روز محنت مزدوری کر کر کے بیٹے کو پڑھاتا رہا یہاں تک کے بیٹا بینک مینجر بن گیا ۔ مشتاق کے سپنے شرمندہ تعبیر ہو گئے یہ مشتاق کی محنت رزق حلال کا لقمہ ثابت ہوئی کون کہہ سکتا تھا کہ کشف دوزی کرنے والے کے گھر ابراہم لنکن کا جنم ہو گا ۔ یہ اللہ نے معجزہ دکھایا کے مشتاق بینک مینجر کا باپ بن گیا لیکن انکساری کا یہ عالم کے کبھی اس نے اس بات کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس بات کا علم۔مصنف کو مشتاق کی وفات والے دن ہوا ۔

جہاں مشتاق کا بیٹا مینجر بنا وہاں ہی شفیع بھائی کا بیٹا آرمی صوبیدار بنا لیکن المیہ اس بات کا ہوا کہ شفیع بھائی اپنے بیٹے کا یہ عروج دیکھنے سے پہلے ہی رحلت فرما چکے تھے ۔ اولاد کو کسی مقام پر دیکھنا یہ والدین کے لیے باعث تسکین یوتا ہے ۔ لیکن ہوتی یہ بھی اللہ کی عنایت ہے کہ وہ کس کو کیا دکھاتا ہے۔
مشتاق اپنے حصے کی ذمہ داری لائق فائق سپوت کو سونپ کر کوئی چھ دن کے لیے بستر علالت کا مہمان بنا ۔۔۔۔ مشتاق کا کھانا پینا بند ہو چکا تھا دوسروں کی بڑی بڑی دیگیں بنانے والا ایک نوالے کو بھی منہ میں نہیں لے رہا تھا پانی دوائی کے طور پر حلق سے نیچے اتارا جا رہا تھا زبان ہر قسم کی گفتگو سے انکار ہو چکی تھی بس دو آنکھیں اور ہونٹ تھے جو ہر آنے والے کا استقبال مسکراہٹ سے کر رہے تھے۔ ہونٹوں کی یہ مسکراہٹ روح کی قفس عنصری سے پرواز تک قائم و دائم رہی ۔

مشتاق انتہائی اعلی اخلاق کا ملک تھا اس کا یہ اخلاق نہ صرف محدود لوگوں تک بلکہ ہر خاص و عام کے لیے تھا ۔ کہتے ہیں کہ کسی کا اخلاق جانچنا ہو تو اس کے گھر سے پتہ کیا جائے ۔ لیکن میں نے از راہ محبت ان کے داماد و بھتیجے شہزاد شام سے پوچھ لیا کہ تمارے چچا میں سب سے بڑی خوبی کیا تھی؟ کہنے لگا یوں تو بہت سی خوبیاں تھی لیکن سب سے نمایاں جو خوبی تھی وہ ان کا اخلاق تھا۔

لالہ مشتاق دس محرم الحرم کو اپنے نہائت ہی پیارے پریوار کے ساتھ ساتھ یاروں دوستوں کو اس وقت رنج و الم سونپ گے جب لوگ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو یاد کر کے اشک بہا رہے تھے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gulzaib Anjum

Read More Articles by Gulzaib Anjum: 61 Articles with 36966 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2017 Views: 250

Comments

آپ کی رائے