میں سلمان ہوں(٩٨)

(Hukhan, karachi)
مجھے کیا اب کسی سے لینا دینا
اپنا تو بنا غم ہی اوڑھنا بچھونا
تنہا سفر شروع کیا سہارا نہیں ہے اب لینا
خود غرض ہے زمانہ کیا پانا کیا ہے کھونا

روزی کی ماں مسز کریم بے حد غصے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی،،،روزی تھی
کہ واپس آ کے نہیں دے رہی تھی،،،اسے ڈر تھا کہ کہیں روزی کو تمام قصے کا
پتا نہ چل جائے،،،
روزی جیسی حساس لڑکی کو سنبھالنا مشکل ہوسکتا تھا،،،وہ ہر لائن کراس کرسکتی
تھی،،،جس سے اس کی بیٹی کے فیوچر کو کوئی اندیشہ نہ ہو،،،
ان کی ساری جائیدادیں دو دامادوں میں ہی بٹنی تھی،،،

مسز مجید نے روزی کی تعریفیں کر کر کے فراز کو روزی کا دیوانہ کر رکھا تھا،،،وہ یہ
سب کچھ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی،،،مگر اب اس کی آدھی فکر کم
ہو چکی تھی،،،اس کا بیٹا فراز سچ مچ میں روزی کا مجنوں بن چکا تھا،،،
روزی تھی بھی ایسی کہ کسی کو بھی دیوانہ کرسکتی تھی،،،

مسز مجید نے روزی کی امی کو تسلی دی کہ وہ بہت سے کپڑے زیور لے کر گئی ہے
کچھ ٹائم لگے گا،،،اور سلمان کبھی بھی اپنا منہ نہیں کھولے گا،،،

روزی کی ماں کے چہرے پر یہ سب سن کر اطمینان سا آیا،،،مگر اس کادھیان اب بھی
روزی اور سلمان پر سے نہیں ہٹ رہا تھا،،،
پتا نہیں کیا مصیبت پال لی اس امجد کے چکر میں سلمان کے گھر کے چکرلگ
رہے،،،آج میں صاف کہہ دوں گی روزی سے،،،بس بہت ہوگیا،،،اب امجد خودسے
کچھ کرلے گا،،،اب شادی میں ہی شریک ہو بس،،،

روزی کی ماں کا پارا نیچے آ کر ہی نہیں دے رہا تھا،،،احساسِ جرم اس کے گلے کی
ہڈی بن گیا تھا،،،اسے افسوس بھی تھا کہ اسے سلمان پر ناحق ظلم کرنا پڑا،،،
مگر کیا وہ اپنی بیٹی اس کنگلے کی جھولی میں ڈال دیتی،،،جس کا کچھ اتا پتانہیں،،،

کم بخت کسی اچھی شکل کے پڑھے لکھے مزدور کو تو میں اب گھر میں پاؤں بھی
نہیں رکھنے دوں گی،،،

مسز مجید سگریٹ کے لمبے لمبے کش لینے لگی،،،اسے بھی بظاہر پرسکون رہنے
کی ایکٹنگ کرنے کے لیے ،،،سموکنگ کی طلب شدت سے ہونے لگی تھی،،،

سلمان ان کے لیے اک مصیبت بن گیا تھا،،،
یہ مر ہی جائے منحوس کہیں کا،،،روزی کی ماں کے منہ سے سلمان کے لیے
بددعا نکلی،،،

مسز مجید نے چونک کر روزی کی ماں کی طرف دیکھایس ویری گڈ،،سلمان مسٹ ڈائے،،،
روزی کی ماں نے حیرت سے فراز کی ماں کو دیکھا،،،اس کے لہجے میں بلا کی
سفاکیت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 882689 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2017 Views: 582

Comments

آپ کی رائے
very good brutal human nature
By: khalid, karachi on Oct, 13 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 14 2017
0 Like