ٹائم پاس

(Raza Shahid, )

کہاں ہو بھائی نظر نہیں آ رہے،کیا مصروفیات ہیں،بس یار صبح آفس جاتا ہوں شام کو اتنا تھک جاتا ہوں کے باہر آنے کا موقع ہی نہیں ملتا،آفس میں جانے کا ٹائم تو ہے بس آنے کا کوئی ٹائم فکس نہیں ہے،تو بھائی کیا کرتے ہو ٹائم کیسے پاس ہوتا ہے؟ بس یار ٹائم پاس کرنے کے لئے فیس بک،Whatsup وغیرہ ہے اور سب سے بڑی بات ہمارے آفس میں Femails بھی جاب کرتی ہیں ٹائم پاس کرنے کے لئے اچھا موقع ہے بس مل بانٹ کر ٹائم پاس ہوجاتا ہے،اﷲ اکبر،ایسے جملے اکثر ہمیں معاشرے میں سننے کو ملتے ہیں ہم ٹائم پاس کرنے کے لئے دنیا کی مختلف چیزوں کا نام لیتے ہیں،اور بالخصوص کسی کے گھر کی عزت کو ہم اپنا ٹائم پاس کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں،یہ بھول جاتے ہیں آج آپ کسی کی بہن کے ساتھ تائم پاس کریں گے کل آپ کی بہن کے ساتھ کوئی اور ٹائم پاس کرنے کے لئے تیار ہو گا،جب ہم دوسرے کی بہن کو دیکھے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور جب ہماری بہن کو کوئی دیکھتا ہے تو خون کھولتا ہے،جب ہم دوسروں کی بہن کو دیکھتے ہیں تو اُس کے سامنے بچھ جاتے ہیں لیکن جب ہماری بہن کو کوئی دیکھتا ہے تو ہم غصہ میں آ جاتے ہیں،آپ کیا ہیں یہ تو مجھے نہیں پتا لیکن اﷲ کا قانون کیا ہے اس بات کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں ،خدا کا احسان کا بدلہ احسان سے دیتا ہے ،اگر آج میری بہن کو کسی نے دیکھا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ کبھی نہ کبھی میں نے بھی کسی کی عزت کو اسی طرح دیکھا ہو گا،ہم ٹائم پاس کرتے رہتے ہیں،اور پاکستان میں کئی حادثے اس ٹائم پاس کرنے کی وجہ سے بھی ہو چکے ہیں جیسے خودکشی وغیرہ اب یہ بتائیے اس موت کا ذمہ دار کون ؟وہ ہے نا جو اپنا ٹائم پاس کرنے کے لئے دوسروں کی عزت کے ساتھ کھیلتا رہا اور جب معاملہ آگے بڑھ گیا تو یہ کہہ کر لڑکا یا لڑکی پیچھے ہٹ گئے میں تو ٹائم پاس کر رہا تھا یا ٹائم پاس کر رہی تھی تو اس بات سے معاشرہ بگڑتا ہی چلا جائے گا آج ہم نے کسی کی اولاد کے ساتھ ایسا کیا ہے کل ہماری اولاد کے ساتھ کوئی اور ایسا ہی کرے گا اور یہ نہ رکنے والا گناہ آخر کب تک چلتا رہے گا ؟کب تک ہم خرگوش کی طرح آنکھیں بند رکھ کر سوچتے رہیں گی کہ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا تو کوئی اور بھی مجھ کو نہیں دیکھ رہا ہو گا ،یا د رکھئے گا ہم اپنے ہر عمل کے اﷲ کو جواب دہ ہیں آج کی یہ نصیحت یاد رکھئے گا کہ ’’آج تو آپ اپنا ٹائم پاس کر لیں گے لیکن کل قبر میں آپ کا ٹائم پاس کرنا بہت مشکل ہو جائے گا‘‘،خدارا اپنے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کریں ،اس سے پہلے کے ضمیر کے ساتھ بدن بھی نیند کی آغوش میں چلا جائے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 390 Print Article Print
About the Author: Raza Shahid

Read More Articles by Raza Shahid: 162 Articles with 113669 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: