قلم کی جنگ لڑنے والے خود غیرمحفوظ۔۔۔۔۔۔؟

(Kamran Buneri, )

پاکستان میں کتنے ہی نامور صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا پر ملزمان آج تک گرفت میں نہ ہو سکے۔ حکمرانوں کی جانب سے تعزیت سمیت ملزمان کی جلد گرفتاری کے ٹکرز اور اخبارات میں افسوس کی خبریں شائع کراکر چند دن بعد معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں صحافی برادری وہ مظلوم طبقہ ہے جو اپنے قلم سے دوستوں سے زیادہ دشمن پیدا کرتا ہے۔ محکمہ پولیس میں خاص کر اہلکاروں کی پولیس گردی اور افسران بالا کی کرپشن کے خلاف لکھیں تو وہ دشمن، سماجی برائیوں کی نشاندہی کریں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف لکھیں تو وہ دشمن، سرکاری محکموں میں سرکار کی کرپشن کو بے نقاب کریں تو عتاب کا شکار، کرپٹ حکمرانوں پر تنقید کریں تو سازشی عناصر، اگر حکمرانوں کی تعریف کریں تو لفافہ صحافی کا لیبل فوراً ہی لگا دیا جاتا ہے جبکہ بعض اوقات صحافی حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قلم، مائیک یا کیمرہ لئے عوام کو اندرونی و بیرونی خطرات سے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، تشدد ہوتا ہے، ہمارا قتل ہوتا ہے مگر ہم وطن عزیز کی خاطر کبھی ہڑتال کر کے اخبار یا چینل بند نہیں کرتے اور نہ ہی کبھی کسی صحافی نے اپنے جائز مطالبات کے حصول کی خاطر احتجاج میں کوئی توڑ پھوڑ کی۔ ہمارا تو احتجاج بھی پرامن ہوتا ہے اور حکمرانوں سمیت عوام کو وہ بھی ناگوار گزرتا ہے۔ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے جسے صحافی برادری اپنی محنت، لگن اور جانفشانی کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور بسا اوقات اس کوشش میں اپنی جان کا نذرانہ بھی دینا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحافیوں کیلئے کسی بھی قسم کے حفاظتی انتظامات نہیں اور ادارے بھی جب چاہیں ہمیں ملازمت سے فارغ کر دیتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کیساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے یا اسے کوئی جان لیوا موذی مرض لاحق ہو جائے تو ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ صحافی برادری اتنی تکالیف جھیلنے، تمام حقائق سے آشنا اور غیرمحفوظ ہونے کے باوجود اپنے کام کو پوری ایمانداری سے ادا کرتے ہوئے عوام کو ہر خبر سے باخبر رکھتے ہیں۔ صحافی برادری کی اپنی کوئی سوشل لائف نہیں ہوتی۔ آندھی ہو طوفان ہو حتیٰ کے گھر میں یا کسی عزیز رشتدار کے ہاں کوئی خوشی کا پروگرام ہو یا ماتم ہمیں وہاں جانے کے بجائے وقت پر آفس پہنچنا ہوتا ہے تاکہ ہر لمحہ عوام کو حقائق سے آگاہ رکھ سکیں لیکن افسوس صد افسوس کے اتنی قربانیوں کے باوجود جب کوئی صحافی عوام کو آنے والے خطرات سے باخبر رکھتے ہوئے بعض اوقات کسی اندھی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے اور اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں تو عوام کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اس ظلم کے خلاف ایک دن کا احتجاج ریکارڈ کروا کر لواحقین کے زخموں پر وقتی ہی سہی پر کچھ تو مرہم رکھ سکیں۔ ہماری عوام کو میڈیا سے ہر وقت گلے شکوے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں کہ چند ضمیر فروش صحافیوں نے صحافت کو برائے فروخت سمجھ رکھا ہے اور ان کرپٹ صحافیوں نے بڑا مال بنایا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ایک آپریشن ردالصحافت بھی شروع کیا جائے تاکہ ملک دشمن اور محب وطن صحافیوں کے چہروں سے نقاب ہٹ سکے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ساری صحافی برادری کرپٹ اور بکاؤ ہے۔ باقی شعبوں کی بات ہو تو یہی عوام جو آئے روز میڈیا پر تنقید کے نشتر برسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی بڑے اطمینان سے کہتی ہے کہ اچھے برے تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن میڈیا کی بات ہو تو پھر عوامی رائے یکسر بدل جاتی ہے اور صحافیوں کو بلیک میلر، کرپٹ، ضمیرفروش اور نہ جانے کن کن تنقید کے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ جب صحافی برادری کے مسائل کی بات ہو یا صحافی کیساتھ کسی ریاستی ادارے یا فرد واحد کی جانب سے کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ ہو تو ملک کے حکمرانوں کی طرح عوام کے کانوں پر بھی جوں تک نہیں رینگتی۔ ان تمام حقائق سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود ہم عوام اور پاکستان کی فلاح و بہبود کا مشن اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہیں اور یہ مشن تاقیامت تک اسی طرح جاری رہے گا۔ اللہ پاک وطن عزیز کی عوام اور صحافی برادری کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Buneri

Read More Articles by Kamran Buneri: 4 Articles with 1312 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2017 Views: 307

Comments

آپ کی رائے