ختم ِ نبوت کانفرنس ۔۔لال حویلی؟

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

پاکستان کا واحد مسلم لیگی رہنما جو ختمِ نبوت پر قلبِ صمیم سے ایمان رکھنے والاالشیخ رشید احمد طولعمرہ کو ہم غلامانِ رسول ﷺ کا سلام ہو۔ آج بزرگوں کی گدیوں اور آستانوں پر قابض دولت کے پجاریوں کی زبانیں ختم نبوت بارے گنگ ہوگئیں۔ اسمبلی کے اندر نوازو قادیانی نواز کے پجاری اندھے ، گونگے بہرے ہوگئے۔ انتخابی اصلاحات 2017 پڑھے بغیر پاس کردیا۔ سینیٹرز خبیث بک گئے۔ اگر بولا تو شیخ رشید ۔ علامہ طاہرالقادری نے مزید اس ایکٹ کے مطالعہ بعد جو کفریات اور آئین ِ 1973 میں موجودہ حکومت کی خیانت کو طشت از بام کردیا۔ یہ پورا ایکٹ مسترد کرنا لازمی ہوگیا۔ عاشق رسول غازی محمد ممتاز حسین قادری رحمۃ اﷲ علیہ کے قتل کا بدلہ قدرتِ خداوندی کس کس انداز میں لے رہی ہے۔ نہ دنیا نہ آخرت ۔ پورا خاندان تباہ۔ نواز نے اندروںِ خانہ قادیانیوں سے بڑے معاہدے کر رکھے ہیں۔ پاکستان پر قادیانیوں کو قبضہ دلانے اور یہودیوں سے گہرے مراسم ، دینِ مصطفٰے ﷺ اور مسلمانون کو مکمل طور پر ختم کرنے کے منصوبے اب خاک میں مل گئے۔ یہودیوں نے مدینہ پاک سے اﷲ کے رسول کو نکالنے اور دینِ اسلام کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے مگر اﷲ نے انہیں مدینہ پاک سے ذلیل کرکے نکالا، خیبر سے نکالے گئے۔ دنیا میں کوئی جا ٹھکانا نہ تھا۔ امریکی اتحادیوں نے فلسطین پر انہیں ریاست بنا دی۔ اب پھر یہودی قادیانی ہندو اور عیسائی اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ غازی کی شہادت انتہائی غیر معمولی شہادت ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ یزدیوں کا انجام تاریخ میں پڑھ لیں اور اب اس دور کے یزیدیوں کی تاریخ مرتب ہونا شروع ہوگئی۔ دیکھو یزید اور اسکے ساتھیوں کا کیا کیا عبرت ناک انجام منظر عام پر آتا ہے۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جو پانامہ کے نام سے شروع ہواحدیبہ اور نجانے اور کیا کیا اور قتل عام، بھارتی ہندؤں کے ساتھ پاکستان کے خلاف معاہدے اور مزید میں کیا جانوں غازی کا رب جانے ۔ اسمبلیوں میں اقتدار کے مزے لینے والے نواز کے پجاری بھی تیار رہیں ۔ بچے گا کوئی نہیں۔ ان شاءَ اﷲ ۔(خادمِ اسلام:اکبر حسین ھاشمی)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 82077 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
23 Oct, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ