آپریشن رد الکرپشن سندھ میں تعلیمی ادارے ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)

 دشمنانان پاکستان نےاندرون خانہ سازش کے جال بکھیرنے کیلئے اُن شخصیات کو اپنا سہولت کار بنایا جن کے متعلق عام عوام کی سوچ پہنچ نہیں سکتی تھیں، بھارت، امریکہ،روس،برطانیہ ،افغانستان اور ایران کی خفیہ ایجنسیاں اس بابت کارفرمارہی ہیں، بہت کوشش، بہت جدوجہد، بہت روپیہ پیسہ خرچ کرکے اپنےمذموم مقاصد کو پورا کرنا چاہتےتھے، کہیں دہشتگردی، کہیں ڈاکہ زنی، کہیں لوٹ مار،کہیں قتل و غارت، کہیں کرپشن، کہیں بدعنوانی، کہیں رشوت ستانی گویا کوئی حصہ ایسا نہیں چھوڑا جہاں سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچے، اداروں میں بد نظمی سمیت کرپشن و جرائم کے گندے جراثیم کو پیوست کردیا گیا، سیاسی میدان سے لیکر سیاسی ایوان تمام کے تمام ان کے پھیلائے گئے جراثیم کا شکار ہوئے لیکن وہ پاکستانی اور ادارے نہ صرف محفوظ رہے جو خالصتاً پاکستان کی سلامتی و کامرانی کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں، وہ شخصیات اور اداروں نے دشمنانان پاکستان کے ہر حملہ کو ناکام بنانے کیلئے بھرپور انداز میں رد عمل دیکھایا، پاکستان سے پیار کرنے والے اور ہر مخلص شخصیات نے دشمن کے دانت کھٹے کردیئے اور پاک فوج کے اداروں نے ہزاروں جوانوں کی شہادت کے نذرانے بھی پیش کیئے ، پاک فوج کا ہمیشہ سے خاصہ رہا ہے کہ پاکستان میں کہیں بھی ،کسی بھی وقت مدد کی ضرورت پڑی پاک فوج دوسرے لمحہ ہی مدد کو آں پہنچی، کراچی سمیت ملک بھر میں پوشیدہ دہشتگردوں کو چن چن کر جہاں ہلاک کیا وہیں ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا اور ملک بھر میں امن و سلامتی کا ماحول پیدا کیا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! برسوں کا بگاڑ لمحوں میں درست نہیں ہوتا لیکن یہاں بگاڑ کی بات نہیں ملک و قوم کی سلامتی کا معاملہ ہے، جو محب وطن ہیں وہ اپنا قبلہ درست کیئے ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات، نا جائز دولت کے متمنی اور غیروں کے ہاتھ ناچنے والے ابھی تک اپنےگندے ذہن میں گرفتار ہیں، اس معاملہ کیلئے بڑی تحقیق اور مشاہدہ کے بعد آپریشن رد الکرپشن پر کام جاری کیئے ہوئے ہوں اور اس بابت اپنے قوم کو بیدار کرنے اور وطن عزیز کی اہمیت و محبت کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا فرض نبھارہاہوں اللہ میری اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے آمین ثما آمین۔ ۔۔ معزز قارئین !!پنجاب اور سندھ سب سے زیادہ دشمنوں کا آلہ کار ثابت ہوا ہے ان دونوں صوبوں میں بیشتر سیاسی لیڈران، سیاسی جماعتیں سمیت نوکر شاہی کا بھی بڑا طبقہ کرپشن، جرائم اور بد عنوانی کا شکار ہے، سندھ کی بات کی جائے تو سابقہ حکومت آصف علی زرداری سے لیکر موجودہ وقت تک سندھ مکمل بے یقینی کی کیفیت میں ہے، یہاں کے سول ادارے تباہ و برباد ہونے کیساتھ ساتھ اخلاقی جرائم میں بھی ملوث ہیںکیونکہ ناجائز دولت عیش و عشرت اور بے جا اختیارات نے انہیں انسان سے جانور بنادیا ہے، صوبائی وزرا ہوں یا مشیریا پھر سیکریٹریز تمام کے تمام اب بھی مد ہوشی کی زندگی گزار رہے ہیں لگتا ہے کہ انہیں جوتوں لاتوں کی اشد ضرورت ہےتاکہ یہ جرائم و کرائم میں ملوث با اختیار لوگ توبہ و طائف کرسکیں جان سکیں کہ ان کے منفی رویئے سے نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچا ہے۔۔۔معزز قارئین!!سندھ یونیورسٹی کا معاشرہ آصف علی زرداری کے دور سے ہی خراب ہونا شروع ہوگیا تھا اُن دنوں میرے علم میں یہ خبر آئی کہ سندھ یونیورسٹی کے ماروی ہاسٹل میں رہائش پزیر طالبات پر دباؤ کیساتھ غیر اخلاقی حرکات پر مجبور کیا جاتا تھا یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا ہے لیکن کراچی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر فتح محمد برفت کے سندھ یونیورسٹی جام شورو کے وائس چانسلر تعیناتی کے بعد انتہائی خفیہ رکھا گیا کیونکہ پروفیسر فتح محمد برفت ایک با اصول ، مہذب، با اخلاق، با کردار اور قانون پر عمل کرنے والے شخص ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں طالبات نے ہمت کی ہے اور سندھ یونیورسٹی کےچند اساتذہ کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا ہے ،درحقیقت یہ سلسلہ آرمی کورٹ کا ہے کیونکہ مقدس ادارے میں بد ترین غیر اخلاقیات کا سلسلہ جاری رہنا نہ صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس سے معاشرے میں پھیلنے والے منفی اثرات دور تک اپنا منفی اثر چھوڑیں گے، کراچی شہر میں محکمہ تعلیم کے اندر اس طرح کے معاملات بھی بہت زیادہ پائے جارہے ہیں، خاص کر ڈسٹرک ایسٹ میں غیر اخلاقی کردار کے ثبوت اور شواہد کے آنے کے باوجود یہاں کے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر جناب عبد الرؤف کھنڈرو کی مسلسل خاموشی اور ایسے عناصر کی کی جانب رعایت تشویش کا باعث ہے، نشتر روڈ پر واقع سرکاری اسکول ابراہیم علی بھائی کی ہیڈ مسٹریس نا صرف بد تمیز ہیں بلکہ وہ اپنی لیڈیز اساتذہ کیساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کرتی ہیں، جبکہ ڈائریکٹر یٹ آف اسکول کراچی میں تعینات تونیو خواتین اساتذہ سے دوستی اور نا جائز تعلقات کیلئے دباؤ ڈالتا ہے بصورت ان کے کام میں شدید رکاوٹ پیدا کرتا ہے، ڈسٹرکٹ ایسٹ میںواقع میری کلاکو جی بی ایس ایس جیکب لائن کے متعلق کرپشن اور بدعنوانی کی خبر پر تحقیق و مشاہدہ کے بعد ڈسٹرکٹ آفیسر عبد الرؤف کھنڈرو کو تحریری آگاہ کیا تو انھوں نے اس بابت خاموشی اختیار کی اور مجھے اس اسکول کی حدود میں جانے سے بھی روک دیا تاکہ میں وہاں کی خبر نہ لے سکوں ، ٹاؤن آفیسر ایسٹ اسرار تونیو نے کئی بار دورہ کیا تو ہر بار عارضی ہیڈ مسٹریس مس شہلا معید کو غیر حاضر پایا ، ان کے متعلق رپورٹ تیار کی مگر ڈسٹرکٹ آفیسر عبد الرؤف کھنڈرونے رپورٹ کو دبا دیا ، میں نے اس صورتحال کو ڈائریکٹر اسکول کراچی حامد کریم صاحب کو تحریری آگاہ کیا تو وہاں سے بھی خاموشی اختیار کی گئی ، پھرایجوکیشن سیکریٹری کو بھی تحریری آگاہ کیا تو وہاں سے بھی خامشی ملی گزشتہ دنوں نئے سیکریٹری درانی آئے ہیں انہیں بھی تحریری آگاہ کردیا ہے دیکھیں یہ کیا ایکشن لیتے ہیں ،میں نے اینٹی کرپشن کو بھی تحریری آگاہ تو انھوں نے کرپشن و بدعنوانی میں ملوث سے لاکھوں روپے بٹور لیئے اور کلین چٹ دیدی ، آپریشن رد الکرپشن مہم کے تحت میں کراچی بھر کے تعلیمی اداروں میں بے پناہ کرپشن، بد عنوانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے تحقیق و مشاہد ہ کے بعد تحریر کرتا رہونگا کہ شائد کوئی تو ایسا ایماندار اور وطن عزیز سے مخلص بیوروکریٹس میری کرپشن کے خلاف پٹیشن پر غور کرتے ہوئے سخت محکمانہ تادیبی کاروائی کرتے ہوئے اسے روکے۔۔۔معزز قائرین!! کراچی سمیت سندھ بھر میں یوں تو اساتذہ کرام اور پروفیسرز کی تنخواہیں ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں لیکن یہ نہ کلاس میں پڑھاتے ہیں اور نہ ہی وقت پر اانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ، سندھ حکومت نے لوٹنے بٹورنے کیلئے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جسے مانیٹرنگ اینڈ بائیو میٹرک سسٹم کہتے ہیں اس ادارے میں من پسند لوگوں کی بھرتیاں کی گئیں ہیں جو اپنے فرائض سے مکمل غافل ہیں ، کئی کئی ماہ گزرنے کے بعد اسکول میں چکر لگالیتے ہیں ان کی کارکردگی انتہائی بیکار اور بے معنی ہے اگر اس ادارے کو درست نہ کیا گیاتو مزید تعلیمی حالات خراب ہوجائیں گے۔۔۔معزز قائرین!! پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کے دیگر اداروں کو جس طرح تباہ و برباد کیا ہے وہاں سب سے زیادہ بد تتر حالت اسکول اور کالجوں کی ہے، فنڈ بے شمارلیئے جاتے ہیں مگر استعمال کہیں نظر نہیں آتا، لوٹ مار کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہیگا یہ کسی کو معلوم نہیں ، نا اہل لوگوں کی بھرتیاں، بد کردار لوگوں کی تعیناتی بھی اس ادارے کو بتباد کیئے ہوئے ہے، اب وقت ضرورت بات کی ہے کہ محکمہ تعلیم کو ایک بار مکمل احتسابی عمل سے گزارا جائے تاکہ سن دوہزار سے اب تک تقرریاں، پروموشن اورسرٹیفیکٹ و ڈگریوں کی مکمل تحقیق کی جائے کیونکہ جعلی سرٹیفیکٹس اور ڈگریوں سے بے شمار اساتذہ نے پروموشن اور تقرریاں حاصل کی ہوئی ہیں ان میں ایسے بھی بہت لوگ ہیں جو اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ، میری نظر سے کئی ایک ایسے لوگ آئے جنھوں نے جعلی ڈگری پر تقرری حاصل کی ہوئی تھی پکڑ پر چار لاکھ اینٹی کرپشن کو دیئے اور اپنی پینشن کو جاری کرالیا، سندھ بھر میں حق تلفی اور نا انصافی کا دور دورہ ہے ، سندھ میں محکمہ تعلیم میں میگا آپریشن کی شدید ضرورت ہے اس سے قبل تمام ترقیاں اور تقرریاں روک دی جائیں ، ایک بار حقیقت میں میگا آپریشن رد الکریشن کیئے بغیر ہم نہ اچھی تعلیم دے سکیں گے اور نہ ہی اچھا ماحول بنا سکیں گے ، سندھ اور پاکستان کیلئے یہ لازم و ملزوم بن گیا ہے کہ پرائمری اسکول سے لیکر منسٹر آف ایجوکیشن بشمول سیکریٹری، ڈائریکٹرز، ڈی ای اوز سمیت سب کامکمل سخت سے سخت ترین احتساب کیا جانا چاہیئے یہ احتساب عدالت عظمیٰ یا پھر آرمی کورٹ کے ذریعے کیا جائے، بڑی امید ہے کہ رات کے بعد دن کا اجالا دیکھیں گے، بڑی امید ہے کہ اندھیرے میں دیپک جلا دیکھیں گے، بڑی امید ہے کہ ہم پاکستان اور سندھ کو با وقار دیکھیں گے ،اللہ ہم میںسے ایماندار کو ہمت بخشے کہ وہ ردالکرپشن پر اپنی تمام قوت صرف کردے اور اپنے اختیارات کے تحت بگڑے سندھ کے تعلیمی ماحول کی درستگی کیلئے سپہ سالار کی طرح ہنگامی بنیادوں پر ایکشن لے، میں یہاں واضع کرتا چلوں کہ اس بابت میں نے اکاؤنٹینٹ جنرل آف سندھ کو بھی محکمہ تعلیم سندھ میں پائے جانے والے کرپشن اور بد عنوانی کے ثبوت پیش کیئے ہیں دیکھیں وہ کیا کرتے ہیں،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالرؤف کھنڈرو کے دفتر میں پیٹیشن جمع کرائیں، 15 ستمبر2017، 25 ستمبر2017،10 اکتوبر2017، ڈائریکٹر آف اسکول کراچی میں پیٹیشن جمع کرائیں، 14 ستمبر2017، 27 ستمبر2017، 7 اکتوبر2017، سیکریٹری آف ایجوکیشن میں پیٹیشن جمع کرائیں ، 25 ستمبر2017، 03اکتوبر2017، 24 اکتوبر2017، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن میں پٹیشن جمع کرائی ، 03 اکتوبر2017، اکاؤنٹینٹ جنرل آف سندھ میں پٹیشن جمع کرائی ، 25 اکتوبر2017، معزز قائین!! ان تمام با اختیار احباب کے دفتر میں پٹیشن جمع کرانے کے با وجود حاصل نتیجہ صفر ہے مگر میری جدوجہد کرپشن و جرائم کے خاتمہ تک جاری رہیگی ، اللہ سندھ اور پاکستان کے تمام اداروں مین پائے جانے والے ایماندار افسران میں طاقت اور بیداری روح پھونگ دے تاکہ وہ بھی رد الکرپشن کے خلاف قانونی تادیبی کاراوئیاں کرکے ناپاک لوگوں کو نکال باہر کریں یا پھر ان کا قبلہ درست کردیں تاکہ انصاف کا بول بالا ہو ،آمین ثما آمین ۔۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 160498 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 364

Comments

آپ کی رائے