سندھ میں تعلیم کی زبوں حالی کی ذمے دار سندھ حکومت ہے

(M Nasir Iqbal, Mir Pur Khas)

تاریخ شاہد ہے کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے،مگر شاید ہمارے ملک کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حقیقت سے نا واقف ہیں۔ بالخصوص صوبہ سندھ میں محکمہ تعلیم کی حالت ابتر ہے اور ابتر سے ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اندرون سندھ میں تعلیمی اداروں کا سرے سے کوئی نام و نشان موجود ہی نہیں ہے جہان تعلیمی ادارے موجود ہیں وہاں سہولیات کا فقدان ہے اور جہان سہولیات دستیاب ہیں وہاں اساتذہ غائب ہیں۔

سندھ حکومت کی طرف سے تعلیم کے شعبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے باوجود صورتحال بدستور خراب ہوتی نظر آرہی ہے۔ ماہرین تعلیم کاکہنا ہے کہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے زبانی جمع خرچ کیا لیکن عملی اقدامات کم نظر آتے ہیں، جس کی سب سے بڑی مثال تعلیم کے بجٹ میں قومی مجموعی پیداوارکا 2 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے۔

سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے ، جہاں تعلیم معیار نہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پرایؤیٹ اسکولزبھاری فیسوں کی مد میں تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ہر ملک کی ترقی کا انحصار اس ملک کے تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں خصوصا سندھ میں نظام تعلیم بالکل تباہ ہو گیا ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں سیاست سے آزاد ہو کر اجتماعی سطح پر کوشش کرنی ہو گی، اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا تاکہ نظام تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے اور اس مغلوب نظام تعلیم کو ان جہلا کے چنگل سے آزاد کروایا جا سکے۔ عوام سے تعلیم چھین کر انہیں مزید جہالت کے اندھیرے میں دھکیل کر انہیں ذہینی غلام بنانا ہی ان کی سیاست کا اصل مقصد ہوتا ہے اور تعلیم کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ اور تعلیم کے نام پر ووٹ بٹورے جا رہے ہیں

اقوام متحدہ کے زیلی ادارہ یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کی صورت حال بہت خراب ہیں۔، رپورٹ کے مطابق صوبے کے 50فیصد بوائز اور 47فیصد گرلز پرائمری اسکولز بیت الخلاء سے محروم ہیں، 53فیصد بوائز اور 54فیصد گرلز پرئمری اسلولز پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ یونیسف نے سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

لیکن معیار تعلیم وتربیت یافتہ تدریسی عملے کی کمی کے باعث ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum)کے گلوبل کیپیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 130ممالک کی فہرست شرمناک طور پر 125ویں نمبر پر ہے -

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے تعلیم، صحت، اور اقتصادی منصوبہ بندی جیسے اہم امور پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ملک میں بہتر حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔

سندھ حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کا دعوۃ اُس وقت ناکام ہوا جب کراچی کے علاقے سولجر بازار میں قائم قدیم اسکول جو 1928 میں قائم ہوا اُس پر دن کے اُجالے میں نہ صرف بلڈوزر چلا گیا ساتھ ہی سندھ حکومت کے تعلیمی ایمرجسی کی قلعی کھول دی۔

اور کراچی کا ایک سرکاری اور معیاری اسکول گرا دیا گیا ۔ اس اسکول سے اب تک ہزاروں بچے تعلیم کی زیوار سے آراستہ ھو چُکے ہیں۔

کراچی تا کشمور ہزاروں سے زائد اسکولز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ عمر کوٹ، میرپورخاص، مٹیاری، سانگھر، تھرپارکر کے اسکولوں کی حالتیں بہت زیادہ خراب ہیں۔ اور یہ ہی نہیں سندھ کے دوسرے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لاکھوں بچے کُھلے آسمانوں اور خستہ تباہ حال اسکولز کی عماروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، ہزاروں معصوم بچے خوف کے عالم میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

سندھ کا علاقہ سندھڑی جو سابق وزیراعظم محمد خان جو نیجو کا آبائی گاوٗں ہے وہاں سینکڑوں اسکولز بند ہے جس سے وہاں کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

صوبہ سندھ سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کے اعتبار سے پاکستان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، حکومت سندھ کی توجہ تعلیم پر بالکل بھی نہیں ہر کوئی ہر وقت اپنی کرسی بچانے اور اپنی جیپ کو بھرنے میں مصروف عمل رہتا ہے۔ محکمہ تعلیم میں کرپشن کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے میرپورخاص میں تعلیمی ادراے کے ایک آفیسر جنہوں نے(285 Million)کی کرپشن کی جو آجکل نیب (NAB)کے مہمان ہے۔

حکمران اپنے شاہانہ خرچ کے بجائے سندھ میں تعلیم کی بہتری پر توجہ دیں۔حکومت سندھ شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیم کے فروغ کے لیے عملی جدوجہد کریں۔ ملکی ترقی کے عمل کی تکمیل کے لیے ہم اپنی آنی والی نسلوں کو زیور تعلیم سے ٓراستہ کرنے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیم کے فروغ کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Nasir Iqbal

Read More Articles by M Nasir Iqbal: 13 Articles with 9637 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2017 Views: 918

Comments

آپ کی رائے