خواتین کی ذمہ داریاں

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ں تو گھر میں اتنا اچھا اورخوشگوار ماحول بنائیں کہ گھر والے خوشی سے خود کہیں کہ دین سیکھنے یا سکھانےجایا کریں۔ ہر قسم کے ڈیپریشن کا علاج ہی قرآن میں ہے تو سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے آپ خود کو دنیاوی مسئلے مسائل سے دور پائیں گی

اسلام میں خواتین نے دین پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بہن کی دعوتِ دین پر ایمان لائے۔ حضرت اُمِ حکیم اپنے شوہر کو کفر سے اسلام کی طرف لائیں۔ آپکی اپنے رشتہ داروں سے محبت ادھوری اور بے کار ہے اگر آپ انکو غلط اور غیر اسلامی راستوں سے نہیں روکتیں جیسے بیماری میں ہم اپنے پیاروں کو پرہیز کرواتے ہیں، اسی طرح دین میں بھی پرہیز گاری کی طرف اپنے گھر والوں کو لانا ضروری ہے گھر والوں کو اپنے رویے سے بغیر لڑائی جھگڑے کے احساس دلائیے کہ ان کا نماز قرآن نہ پڑھنا یا کوئی اور غلط عمل آپ کو تکلیف دے رہا ہے شوہروں سے درس و تدریس کی اجازت لینے کے کئی طریقے ہیں ، جیسے باقی ہر کام کے لیے اجازت لے ہی لیتی ہیں۔ جب آپ درس وتدریس کا کام کریں یا کوئی کلاس لیتی ہیں تو گھر میں اتنا اچھا اورخوشگوار ماحول بنائیں کہ گھر والے خوشی سے خود کہیں کہ دین سیکھنے یا سکھانےجایا کریں۔ ہر قسم کے ڈیپریشن کا علاج ہی قرآن میں ہے تو سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے آپ خود کو دنیاوی مسئلے مسائل سے دور پائیں گی ۔ جب آپ کا مقصد قرآن، حدیث، سنت اور آخرت ہو گی تو شوہر، ساس، بہو، نند، بھاوج قسم کے مسائل بہت چھوٹے لگیں گے ہماری ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ہم اکثر نصحیت آموز باتیں دوسروں کو سوچ کر سنتے ہیں کہ فلاں میں یہ برائی ہے اسکو آگےپہنچا دیں وہ خود کو ٹھیک کرے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہراچھی نصحیت پر سب سے پہلے خود عمل کیجئے اور ہر برائی کو پہلے خود میں تلاش کر کے اسکو ٹھیک کریں پھر دوسروں کو نصحیت کیجیے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 83003 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2017 Views: 467

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ