شادی

(Muhammad Ajmal Khan, Karachi)

پہلے کتنی سادگی تھی
بڑی بہن کی شادی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی
لیکن
کوئی شادی ہال بک نہیں کیا گیا
کوئی بیوٹی پارلر سے کنٹیکٹ نہیں کی گئی
کوئی وڈیو یا تصاویر بنانے والے کو نہیں کہا گیا
اور شادی کے رنگ برنگے کارڈ بھی نہیں چھاپے گئے

ابا حضور اپنے دوست احباب کو زبانی دعوتیں دیئے پھر رہے ہیں تو امی جان اپنی سہیلیوں اور پڑوسیوں کو جا کر بتا رہی ہیں کہ اس تاریخ کو بیٹی کی شادی ہے، آپ نے آنا ہے اور ہاں تین دن پہلے ڈوھلکی رکھی گئی ہے اس میں شرکت کرکے ہماری خوشیوں کو دو بالا کرنی ہے ۔
دور رہنے والے رشتہ داروں کو خطوط ارسال کر دیئے گئے ہیں کہ بیٹی کی شادی ہے اور آپ کی شرکت لازمی ہے ۔
اور قریب رہنے والے رشتہ داروں کے یہاں ابا اماں دونوں جاکر دعوت دے رہے ہیں اور جو ناراض ہیں انہیں منایا جا رہا ہے۔
پھر کوئی ناراضگی باقی نہیں رہی اور تمام لوگوں نے خوشی خوشی شرکت کی۔

شادی کی تقریبات کیلئے محلے والوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے
اور یوں سادگی سے شادی ہوگئی ۔
دلہن کو سبھوں نے اپنی دعاؤں میں رخصت کیا ۔
اور اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔

نہ زیادہ اخراجات کا بوجھ پڑا اور نہ ہی مقروض ہونا پڑا ۔

کاش ایسی سادگی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
اور شادی کو آسان بنائی جائے ۔
تاکہ ہر نوجوان بچے اور بچی کی شادی وقت پر ہو جائے!
۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ajmal Khan

Read More Articles by Muhammad Ajmal Khan: 91 Articles with 34755 views »
اللہ کا یہ بندہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی باتوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سیکھنا‘ سمجھنا‘ عم.. View More
30 Oct, 2017 Views: 159

Comments

آپ کی رائے