غازی علم دین شہیدؒ

(Shoukat Ullah, Banu)

ورثاء کا مطالبہ تھا کہ پھانسی میانوالی جیل کے بجائے لاہور میں دی جائے۔ لیکن حکومتِ وقت نے اُن کی اس درخواست کو قابل اعتنا نہ سمجھا اور31 اکتوبر 1929 ء کو میانوالی جیل میں پھانسی دی۔ جس کے بعد میت کو لاوارثوں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔کتنے افسوس اور تعصبانہ ذہنیت کی بات تھی کہ حکومت نے راج پال کی لاش تو ہندوؤں کے حوالے کی لیکن مسلمانوں کے لئے یہ بہانہ گھڑا کہ میت لاہور پہنچنے پر ہندو مسلم فساد کا خطرہ ہے۔مسلمانانِ ہند کے زعماء و اکابرین اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے۔ فرزندانِ اسلام سخت اشتعال میں تھے،جگہ جگہ احتجاجی جلسے جلوس نکالے گئے، اور اپنے اس عہد پر قائم رہے کہ شہید کی لاش کو لاہور لایا جائے۔
غازی کی نعش لینے ہم گھر سے جارہے ہیں
ناموسِ مصطفیٰ ﷺ پہ جانیں لڑا رہے ہیں

بالآخر مسلمانوں کی کوششیں رنگ لائیں کیوں کہ یہ اندیشہ لاحق ہوگیا تھا کہ کسی وقت بھی غضب و طیش کی یہ چنگاری شعلے میں بدل کر سارے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اور میت کو بذریعہ ٹرین میانوالی سے لاہور لایا گیا۔ایک اندازے کے مطابق نمازِ جنازہ میں چھ لاکھ سے زائد مسلمان شریک تھے۔بھاٹی چوک لاہور سے سمن آباد تک لوگوں کا ایک سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ برصغیر کی تاریخ کا اُس وقت کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔جب میت کو لحد میں اُتارا جانے لگا تو مولانا ظفر علی خان کے الفاظ تھے۔ ’’کاش ! یہ مقام آج مجھے نصیب ہوتا‘‘۔اور علامہ محمد اقبالؒ کے منہ سے یہ تاریخی الفاظ نکلے۔ ’’ ایک ترکھان کا بچہ ہم پر بازی لے گیا‘‘۔یہ جنازہ غازی علم دین شہیدؒ کا تھا۔6 اپریل 1929 ء سے قبل اسے اپنے عزیز و اقارب اور چند دوستوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا لیکن 6 اپریل کے بعد وہ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن بن گیا۔

غازی علم دین شہیدؒ 4 دسمبر 1908 ء بروزِ جمعرات سریانوالہ بازار لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد طالع مند پیشے کے لحاظ سے ترکھان تھے۔آپ کا خان دان فرنیچر سازی کی صنعت سے منسلک تھا۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ایک دن غازی علم دین شہید مسجد وزیر خان کے پاس سے گزر رہا تھا، وہاں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ اُس نے کسی کو ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے سنا۔ ’’ راج پال واجب القتل ہے۔ اُس نے ہر مسلمان کی دل آزاری کی ہے۔ اُس نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کتاب لکھ کر مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے۔ کون ہے وہ شخص جو آگے بڑھے اور راج پال کے قتل کے بدلے جنت کا سودا کرے‘‘۔ جیسے سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ’’نبی ﷺ مومنوں کے لئے اپنی جان سے بڑھ کر ہیں‘‘۔

راج پال لاہورکا ایک ہندو پبلشر تھا جس نے 1927 ء میں قرآن پاک کے خلاف ایک کتاب ستیارتھ پرکاش شائع کی تھی۔ مسلمانوں نے اس کتاب کی اشاعت پر بھرپور احتجاج کیا لیکن برطانوی حکومت نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ کچھ عرصے بعد اس ملعون راج پال نے آپ ﷺ کے خلاف ایک کتاب شائع کی جس میں امہات المومنین کے بارے میں نازیبا باتیں لکھی گئی تھیں۔ مسلمانوں نے اس بار بھی راج پال کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی مگر برطانوی سرکار پہلی کی طرح ٹس سے مَس نہیں ہوئی اور معاملہ یہ کہہ کر ٹالتی رہی کہ قانون میں گستاخ رسول ﷺ کے خلاف کوئی گنجائش نہیں۔جہاں برطانوی قانون غیر مؤثر ثابت ہوا تو وہاں پھر شمع رسالت کے پروانے نے اپنا خون دے کر ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کا فرض ادا کیا۔
بتلا دو گستاخِ نبی ؐ کو‘ غیرت مسلم زندہ ہے
دین پر مرمٹنے کا جذبہ ‘ کل تھا اور آج بھی ہے

24 ستمبر 1927 اور 19 اکتوبر کو گستاخ رسول پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملعون راج پال بچ نکلا۔ 16 اپریل 1929 ء کو غازی علم دین نے بازار سے ایک خنجر خریدا اور راج پال کے دفتر میں گھس کر سیدھا اُس کے پیٹ میں اتار دیا۔ وہ اوندھے منہ زمین پر گرپڑا اور جہنم واصل ہوا۔راج پال کے ملازمین نے پکڑو پکڑو کی آواز لگائی اور لوگوں نے غازی علم دین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ آپ کی زبان پر صرف یہ الفاظ تھے۔ ’’ میں نے آپ ﷺ کا بدلہ لے لیا ہے ‘‘، ’’ میں نے آپ ﷺ کا بدلہ لے لیا ہے ‘‘۔اقرار جُرم کے بعد آپ نے اپنے خان دان والوں سے کہا کہ اُن کے مقدمے کی پیروی نہ کی جائے۔ کیوں کہ وہ شہادت کے رُتبے پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔
نظر اﷲ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر

علامہ محمد اقبال ؒ کی درخواست پر قائد اعظم نے آپ کے مقدمہ کی پیروی کی۔یہ وہ واحد مقدمہ تھا جو قائداعظم نے اپنی زندگی میں ہارا تھا۔بظاہر یہ مقدمہ قائداعظم نے ہارا لیکن غازی علم دین کی شہادت کی بدولت یہ مقدمہ جیت کے سوا کچھ نہیں تھا۔بات آپ کی شہادت پر ختم نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ آپ کی شہادت نے مسلمانان برصغیر کی آزادی کی جدو جہد پر اہم اثرات مرتب کیے۔ایک سال بعد 1930 ء کو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدرات علامہ محمد اقبالؒ نے کی۔انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات ، اُن کے مستقبل اور مسلمانان ِ ہند کی منزل کی نشان دہی کی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو مسلم اکثریت والے صوبوں کو ملا کر ایک علیٰحدہ ریاست کی بنیاد رکھی جائے۔اور اس دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان 14 اگست 1947 ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی مملکت بن کر اُبھرا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124240 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2017 Views: 596

Comments

آپ کی رائے