اپنے اور غیر سب ہی محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پر فدا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ثمرین یعقوب : خوشاب
آمنہ کے لال سے شمس وقمر شر ما گئے
روشنی پھیلی فضا جھومی محمد صلی علیہ وآلہ وسلم آگئے
محمد لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم ﷺ، رحمت للعالمین اور آپ صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔
پھول عبد اﷲ کا مہکا انوکھی شان سے
بت پگھل کر رہ گئے خاروں کو چکر آگئے

جس وقت آپ کی ولادت ہوئی اس وقت زمین و آسمان میں ایسے عجائبات و معجزات خدا کیطرف سے ظاہر ہوئے خاص کر مشرق میں، اس وقت کی تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔یہ حوادث خبر رسانی کا اس وقت اس سے سریع ذریعہ تھے جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ دنیا میں کوئی عظیم واقعہ ہوا ہے۔ یہ بچہ تمام فرسودہ رسم و رواج کا خاتمہ کرنے والا اور ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھنے والا تھا، انسانوں کو سعادت کی شاہراہ پر گامزن کرنیوالا تھا، لہٰذا ولادت کے پہلے ہی دن سے فرسودہ اور جاہلی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ نوشیرواں کا وسیع و عریض محل،جس کی ابدیت کا خواب دیکھا جارہا تھا، اسی رات اس میں زلزلہ آیا اور اس کے چودہ کنگورے گر گئے،آتش کدہ فارس جو ایک ہزار سال سے مجوسی قوم نے جلا رکھا تھا خود بخود خاموش ہو گیا۔ وقت ولادت ایسی روشنی پھیلی کہ شام و کسریٰ کی عمارتیں دکھائی دینے لگیں، جہاں کہیں بھی بت رکھے ہوئے تھے سب سر نگوں ہو گئے۔ خیالی خدا ؤں کے پجاری جن کا تعصب انھیں کوئی اور فکر کرنے نہیں دیتا تھا وہ بھی ان واقعات کے بعدسوچنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی طرح '' ساوہ '' کے دریا نے خشک ہو کر بیداری کا پیغام دیا۔

ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم اس قدر صاف شفاف حسین وخوبصورت تھے کہ گویا کہ چاندی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بدن مبارک ڈھالا گیا ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بال مبارک قدرے خمدار گھونگریالے تھے (الحدیث)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا ’’یا رسول اﷲ ﷺ آپ کے لئے نبوت کب ضروری قرار دی گئی؟ تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح و جسد کے درمیان تھے۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اﷲ ﷺ ہمیں آپ اپنے بارے میں کچھ بتایے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا ہوں جب انہوں نے کہا تھا ’’اے ہمارے رب، بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے‘‘۔ اور میری بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
جمہوریت کی جدید تعریف Government the people by the people and for the people اس کا عملی نمونہ حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے دے دیا۔ مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب The Hundredمیں دنیا کے ان سو عظیم ترین آدمیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس نے حضور صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے پہلے شمار پر رکھا ہے۔ مصنف ایک عیسائی ہوکر بھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم پورے نسل انسانی میں سیّدالبشر کہنے کے لائق ہیں۔ تھامس کارلائیل نے 1840ء کے مشہور لیکچرز میں کہا کہ ’’میں محمد سے محبت کرتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان کی مزاج میں نام ونمود اور ریا کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہ اخلاص پیش کرتے ہیں‘‘۔ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے ’’محمد دراصل سروراعظم تھے۔15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔ مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرت کی تعلیم کا‘‘۔ جارج برناڈشا لکھتا ہے ’’موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں‘‘۔ گاندھی لکھتا ہے کہ ’’بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا‘‘۔ جرمنی کا مشہور ادیب شاعر اور ڈرامہ نگار ’’گوئٹے‘‘ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے مداح تھے۔ اپنی تخلیق ’’دیوانِ مغربی‘‘میں گوئٹے نے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا۔

28 فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب ’’تاریخ ترکی‘‘ میں انسانی عظمت کے لئے جو معیار قائم کیا۔ اس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے ’’انسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱)۔ مقصد کی بلندی، (۲)۔ وسائل کی کمی، (۳)۔ حیرت انگیر نتائج۔ تو اس معیار پر ایک ہی شخصیت ہیں جو پوری اترتی ہیں وہ ہیں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔اس طرح دیگر کئی غیر مسلم محققین بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار کیا ہے۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت جب قریب آیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں بہت سے امور کے بارے میں تاکید و نصیحت فرمائی۔ مرض نے شدت اختیار کرگیا تو آپ صلی علیہ وسلم کو تین بار غشی کی نوبت بھی آئی، اس لیے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے اور تین بار فرمایا کہ :’’ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ چنانچہ یہ نماز حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے پڑھائی اور باقی تین روز بھی وہی امام رہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائیں جن کا سلسلہ شب جمعہ کی نماز عشاء سے شروع ہوکر اتوار کی نماز فجر پر ختم ہوا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 503304 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2017 Views: 361

Comments

آپ کی رائے