2۔ میت کے لیے اجتماعی دعا کے سلسلہ میں چند روایات کی تحقیق:

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

تحریر : محدث غلام مصطفے ٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

دلیل نمبر 5
عمیر بن سعد بیان کرتے ہیں :

صليت مع على علي يزيد بن المكفف، فكبر عليه أربعا، ثم مشيي حتي أتاه، فقال : اللهم عبدكه وابن عبدكه نزل بك اليوم، فاغفر له ذنبه ووسع عليه مد خله،، ثم مشيي حتي أتاه وقال : اللهم عبدك وابن عبد ك نزل بك اليوم، فاغفر له ذنبه ووسع عليه مد خه، فانا لا نعلم منه الا خير ا وأنت أعلم نه

”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یزید بن مکفف کی نمازِ جنازہ پڑ ھی، تو علی رضی اللہ عنہ نے اس پر چار تکبیریں (نمازِ جنازہ) پڑھیں، پھر چل کر قبر کے قریب ہوئے پھر یہ دعا کی کہ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہے جو آج تیرے یہاں حاضر ہوا تو اس کے گناہ بخش دے اور اس کی قبر اس پر فراخ فرما دے، پھر آپ چلے اور اس کے مزید قریب ہو کر یہ دعا کرنے لگے کہ اے اللہ ! آج تیری بارگاہ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا حاضر ہوا، پس تو اس کو اس کے گناہ معاف فرما دے اور اس پر اس کی قبر فراخ کر دے، کیونکہ ہم اس کے بارے میں سوائے بھلائی کے کچھ نہیں جانتے اور تو خود اس کے متعلق بہتر جانتا ہے۔“ [ مصنف ابن ابي شية : 331/3، معبو عه بمبئي هند]

تبصرہ :
➊ اس روایت کا نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا سے کوئی تعلق نہیں، اس کا تعلق تو دفن کے بعد قبر پر دعا کرنے کے ساتھ ہے، جیسا کہ محدثین کی تبویب سے پتا چلتا ہے، امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو في الدعاء للميت بعد ما يد فن ويسوي عليه کے تحت ذکر کیا ہے، یعنی انہوں نے اس حدیث کو میت کو دفن کرنے کے اور مٹی برابر کرنے کے بعد دعا کے بیان میں پیش کیا ہے۔

اسی طرح امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ تبویب کی ہے :

في الدعاء للميت حين يفرغ منه
”دفن کرنے سے فارغ ہو کر میت کے لیے دعا کرنے کا بیان۔“ [ مصنف عبد الزراق : 509/3]

دیکھیں کہ اہل سنت کے دو بڑے امام اس روایت کو دفن کے بعد دعا کرنے کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں محدثین کا فہم مقدم ہے، وہ اپنی روایات کو دوسروں سے بہتر جانتے تھے۔

➋ چلنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز جنازہ پڑھ کر قبر پر آئے اور قبر پر دفن کے بعد دعا کی، بلکہ سنن کبریٰ بیہقی [56/4] کی روایت میں صراحت موجود ہے کہ : وقد أدخل ميتا فى قبره، فقال : اللهم . . . ”آپ میت کو قبر میں داخل کر چکے تھے تو دعا کی، اے اللہ!۔۔۔۔۔“

➌ اس روایت میں اجتماعی ہیئت کا بھی ذکر نہیں ہے۔

دلیل نمبر 6

عن أبى هريرة رضى الله عنه اننه صلى على المنفوس، ثم قال : اللهم أعذه من عذاب القبر

”سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک نومولود پر نماز جنازہ پڑھی، پھر یہ دعا کی، اے اللہ ! اس کو فتنہ قبر سے اپنی پناہ میں رکھنا۔“ [السنن الكبر ي للبيقي : 9/4]

تبصرہ :
➊ اس کا ترجمہ غلط کیا گیا ہے، صحیح ترجمہ یہ ہے :
روایت ہے حضرت سید بن مسیّب سے کہ فرماتے ہیں، میں نے حضرت ابوہریرہ کی اقتداء میں اس بچے پر نماز پڑھی، جس نے کبھی کوئی خطا نہ کی تھی، لیکن میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ الہٰی ! اس عذاب قبر سے بچا لے۔ [ مشكوة شريف ترجمه ازا حمد يار خان نعيمي بريلوي : 364/1]

➋ امام اہل سنت امام مالک رحمہ اللہ نے اس روایت کو باب مايقول المصلي على الجنازة ”جنازہ پڑھنے والا نمازِ جنازہ میں جو پڑھے گا، اس کا بیان“ کے تحت لائے ہیں [ الموطا : 228/1]

➌ مزید جوابات حدیث نمبر 1 کے تحت ملاحطہ فرمائیں۔
➍ اس میں نمازِ جنازہ کے متصل بعد فاتحہ اور چار قل کا کوئی ثبوت نہیں، نہ ہی اجتماعی ہیئت کا کوئی ذکر ہے۔

دلیل نمبر 7

کاسانی نقل کرتے ہیں :
ان ابن عباس وابن عمر رضي الله تعالىٰ عنهم فاتتهما سلاة على الجنازة، فلما حضرا زادا على الا ستغفار له۔ واللفط للكاساني

سیدنا ابن عباس اور ابن عمر ایک نماز جنازہ سے رہ گئے تو جب حاضر ہوئے تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔“
[ المبسوط : 67/2، طبع بيروت، بدائع الصنائع : 777/2]

تبصرہ :
یہ رویات بے سند، موضوع (من گھڑت)، باطل، جھوٹی، جعلی، خود ساختہ، بناوٹی، بے بنیاد اور بے اصل ہے، جھوٹی اور بے سند روایات وہی پیش کر سکتا ہے جو بدعتوں کا شیدائی اور سنتوں کا دشمن ہو مقلدین کے ”فقہاء“ کی کتابیں اس طرح کی واہی تباہی سے بھری پڑی ہیں، ان کے دین میں سند نام کی کوئی چیز نہیں، اسی لیے محدثین کرام ان کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ فافهم وتدبر !

دلیل نمبر 8

سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ فرمایا :
جوف الليل الآ خر ودهر الصلوات المكتوابات
”رات کے آخری نصف اور فرضی نمازوں کے بعد والی۔“ [سنن الترمذي : 3499، عمل اليوم واليلة للنسائي : 108]

تبصرہ :
اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ”ضیعف“ ہے،
عبد الرحمن بن سابہ راوی نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا،
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن سابط نے سیدنا ابو امامہ سے سماع نہیں کیا۔“ [ تاريخ يحيي بن معين : 366]

حافظ ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
واعلم أن مايرويه عبد الرحمن بن سابط عن أبى أما مة ليس بمتصل، وانما هو منقطع، لم يسمع منه
”یاد رہے کہ جو روایات عبدالرحمٰن بن سابط سیدنا ابوامامہ سے بیان کرتے ہیں، وہ تمام متصل نہیں ہیں، وہ تو منقظع ہیں، کیونکہ عبدالرحمٰن بن سابط نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔“ [انصف الراية للزيلعي : 235/2، بيان الو هم والايها، : 385/2]

تفصیل ان شاء اللہ، جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 287 Articles with 224515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2017 Views: 507

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ