تاجدار ختم نبوتؐ زندہ باد

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے لبیک یارسول اﷲ ﷺ ۔تاجدارختم نبوتؐ ۔زندہ باد کی صدائیں اسلامی پاکستان کی نوید سنارہی ہیں۔راقم کے جانب سے شان و شوکت والا تاجدارختم نبوتؐ لانگ مارچ نکالنے پر تمام اہل ایمان خاص طورپراہلسنت اور خاص الخاص تحریک لبیک یارسول اﷲ ﷺ پاکستان کی قیادت و کارکنان کودل کی گہرائی سے مبارکباد۔علامہ خادم حسین رضوی صاحب کی پرخلوص محنت نے ثابت کردیاہے کہ اہلسنت کااصل سرمایہ کہلانے کاحق انہیں کوہے۔جناب محترم علامہ خادم حسین رضوی اکثرفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دربارمیں نوکروں کی کمی نہیں،فرشتوں نے آجاناہے،گل وچ ہور اے،بیشک کریم آقاﷺ کے دربارمیں نوکروں کی کوئی کمی نہیں،گل وچ ہوراے یعنی اندر کی بات،صحافی لوگ توپہلے ہی اندرکی بات باہرنکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں پرخادم حسین رضوی صاحب کامعاملہ کچھ اورہے اس لئے یہ سوال درویش وقت،مرشد حق جناب محترم المقام عظیم روحانی پیشوا، سیدعرفان احمدالمعروف نانگامست کی خدمت میں پیش کیے تاکہ درست رہنمائی حاصل ہو،مرشد سرکارنے فرمایاخادم حسین رضوی صاحب جس مقام کے بندے ہیں اُسے سمجھناعام لوگوں کے بس کی بات نہیں تواندر کی بات عام لوگوں کیسے سمجھ سکتے ہیں، ہم ہرچیزدیکھ رہیں ابھی وقت نہیں ہے بتانے کا ،خادم صاحب فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے آجاناہے،راقم نے مرشد سرکار سے سوال کیاکہ فرشتے کب اور کس مقام پرآئیں گے؟آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایاکیااتناکافی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ نیکوں کی مدد فرماتاہے،اس بات سے کیافرق پڑتاہے کہ فرشتے آچکے ہیں یاآجاناہے،ہم بھی نبی کریم ﷺ کے نوکرہیں ،ہم نے خادم حسین رضوی کاکیس (مقدمہ)عظیم ترعدالت میں پیش کردیاہے،ناموس رسالت مآب ﷺ کے رکھوالے اﷲ تعالیٰ سے جب ،جہاں اور جیسی مددمانگیں گے اﷲ سبحان تعالیٰ مددفرمائے گا،دشمن جتنی چالیں چلے گاتمام میں ناکام ونامرادرہے گا،ناموس رسالت مآب ﷺ کیلئے جان قربان کرنے والے اﷲ تعالیٰ کوبہت پسند ہیں ،غازی علم دین شہید ؒ،غازی ملک ممتازقادری شہید سمیت تمام شہیدان ناموس رسالت مآب ﷺ کانام قیامت تک روشن رہے گا،اُن کے مزرات پرتلاوت قرآن مجید اوردورد و اسلام کے نذرانے جاری رہیں گے،جو شہیدان ناموس رسالت مآب ﷺ کے ساتھ کھلے عام یادل میں محبت کریں گے اﷲ تعالیٰ،رسول اﷲ ﷺایسے لوگوں پر رحمت فرمائیں گے،اُولیاء اﷲ اُن کے ساتھ خصوصی شفقت فرماتے رہیں گے اورکل روزعشر پیارے آقاکریم ﷺ اُن کی شفاعت فرمائیں گے،مرشد سرکارکے فرمان کے مطابق اندر کی بات عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں ،پھر بھی آپ نے اتنابتادیاہے کہ جناب محترم خادم حسین رضوی صاحب اورتمام عاشقاان رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی مددہمیشہ موجودرہی ہے ،آج بھی ہے اورآئندہ بھی رہے گی، جب مزید ضرورت ہوگی اﷲ سبحان تعالیٰ مدد فرمائے گا۔بیشک لاکھوں جعلی ہیرے سنبھال رکھنے سے بہترہے ایک اصل پتھر سینے سے لگائے رکھو،اﷲ تعالیٰ ایک قیمتی ہیراعطافرمائے تواُس کی حفاظت کیلئے بھی چند پتھرکونے میں لگائے رکھو،قیمتی چیزوں کوچوروں ،ڈاکوؤں سے بہت بچاکے رکھناپڑتاہے وہی پتھرلٹیروں کے سرمیں لگیں گے تووہ بھاگنے پرمجبورہوجائیں گے،جب اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ننھے پرندوں نے ہاتھی والوں پرپتھربرسائے تووہ تھیس نہس ہوگئے،اُن کانام نشان بھی باقی نہ رہا،اﷲ سبحان تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا،کیا ان کا داؤ غلط نہیں کیا؟ (گیا)،اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور(ابابیل) بھیجے،جو ان پر کھنکرکی پتھریاں پھینکتے تھے،تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسا‘‘(سورۃ الفیل )،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کودوربھگانے کیلئے پتھرمارے تواﷲ کریم کوآپ علیہ السلام کی ادااس قدر پسندآئی کے قیامت تک حاجی شیطان کوپتھرمارکرسنت ابراہیمی پوری کرتے رہیں گے،ایک مقدس پتھر خانہ کعبہ کی دیوارمیں نصب ہے ،جس کانام حجراسودہے،اس مبارک پتھرکوقیامت تک مسلمان بوسہ دیتے رہیں گے، معلوم ہوا اﷲ تعالیٰ کے حکم سے پتھر شیطان اوراُس کے پیروکاروں کوسبق سکھانے کے کام آتے ہیں،بہت سارے مطلبی،منافق دوستوں،ساتھیوں سے ایک دومخلص دوست ،ساتھی بہترہیں کہ منافق کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتاہے،یہ بھی طے ہے کہ مطلب پرست مفادحاصل کرنے کے بعد دغادے گا،خاص طورپرجب کوئی بڑامقصدحاصل کرنے کیلئے بڑی جماعت کولے کرچلناپڑے توقائدین لوگوں کوجماعت میں شامل کرتے وقت بہت سوچ سمجھ ،دانش مندی اور مخلص ساتھوں کی مشاورت سے فیصلے کرنے چاہئے،بیشک جناب محترم خادم حسین رضوی درست فرماتے ہیں کہ وہاں نوکروں کی کمی نہیں پھر بھی ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ منافقین کیلئے آقاکریم ﷺ کے ہاں کوئی گنجائش نہیں،اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا’’منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورۃ نازل ہو کہ انہیں بتا دے جو منافقوں کے دل میں ہے، کہہ دو ہنسی کیے جاؤ، جس بات سے تم ڈرتے ہو اﷲ اسے ضرور ظاہر کر دے گا(سورۃ التوبہ ،آیت،64)اور تمہارے گرد و نواح کے بعض گنوار منافق ہیں، اور بعض مدینہ والے بھی، نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، ہم انہیں جانتے ہیں، ہم انہیں دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے(سورۃ التوبہ ،آیت،101)منافقین ہردورمیں موجودرہے ہیں آج بھی ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ منافقین کوبرقت پہچان کراپنی صفوں سے الگ کردیاجائے،تحریک لبیک یارسول اﷲ ﷺ جن سیاسی ٹولوں کیخلاف الیکشن 2018ء لڑنے جارہی ہے وہ بے حدمکاراوربے اُصولے ہیں۔تیراورشیرالگ نہیں ہیں ،شکاری تھک جائے توشیرشکارسے حصہ دیتاہے جب شیرکی کوئی مجبوری ہوتوشکاری شکارکرکے شیرکے سامنے ڈال دیتاہے،اس سے پہلے کہ ناپاک لوگوں کے متعلق گفتگوکرتے کہیں اورنکل جاؤں مختصرکہوں گاکہ موجودہ سیاست منافقت،مکاری،مفادپرستی،دھوکہ دہی،ناحق قتل وغارت،ناجائزمنافع خوری،وطن فروشی اورنجانے کون کون سی لعنتوں کے بل بوتے پرہورہی ہے،اہلسنت جن قوتوں کیخلاف الیکشن2018ء لڑنے جارہی ہے ان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی نہ کسی طریقے سے اہلسنت کوالیکشن کی تیاری سے دوررکھاجائے،قائدین کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانا،گرفتاریاں ،جیلیں ،خاندانی وابستگیاں استعمال کرنااورکچھ بھی کرسکتے ہیں،الیکشن کی تیای بہت ضروری ہے ،تحریک لبیک یارسول اﷲ ﷺ کا نعرہ توپوری دنیامیں پھیل چکاہے جبکہ انتخابی نشان ’کرین‘ بھی مل چکاہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی نشان’’کرین‘‘ کی ایسی پہچان کرائی جائے ک بچے بچے کی زبان پرجاری ہوجائے،راقم اپنی رائے کااظہارکررہاہے فیصلہ نہیں،قیادت جومناسب سمجھے کرے ،ہم بھی غلام کی حیثیت میں ہروقت عاشقان رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ ہیں۔جیساکہ سب جانتے ہیں علامہ خادم حسین رضوی صاحب کی قیادت میں تاجدارختم نبوتؐ لانگ مارچ لاہورسے اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے ۔ہم دعاگوہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس قافلے میں شامل تمام عاشقان رسول اﷲ ﷺ پر اپنی خصوصی مہربانی فرمائے۔ریاست پاکستان میں رسول اﷲ ﷺکا دین اسلام نافذ ہواورخوشحالی آئے (آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 301016 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Nov, 2017 Views: 920

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ