قومیت کا فلسفہ ،نظریہ مذہب یا نظریہ ضرورت؟

(Shafqat Ullah, )

گزشتہ روز چند دانشوروں کے ساتھ قومیت کی تشکیل کے فلسفہ پر گفتگو ہو رہی تھی اس میں بندۂ ناچیز نے بھی حصہ لیا ۔سوال یہ تھا کہ ’’کونسا فلسفہ حیات قوم کی تشکیل کرتا ہے؟ کون سا ایسا نظریہ ہے جو انسانوں کو باہم جوڑ کر ایک ملت بناتا ہے؟ مذہب؟ نسل ؟ علاقہ؟۔۔۔اس پر مختلف دانشوروں نے اپنی اپنی آراء سے سیر کیا ۔ ایک دانشور نے کہا کہ ’’میرے خیال سے تو سوال کی رو سے کوئی بھی نہیں ، صرف و صرف نظریہ ضرورت ہی انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے‘‘۔ سوال پوچھنے والے دانشور نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب انسان کو فطری ضروریات کیلئے کسی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہیں سے اس کی قوم اور اتحاد شروع ہو جاتا ہے یعنی انہوں نے جزوی طور پر نظریہ ضرورت سے اتفاق کیا ۔پھر بات لسانیت ،اور قبائل کی آ گئی اور کہا گیا کہ سوال مذہب کی بنیاد پر نہیں کیا گیا تھا ،نسل مذہب اور علاقہ کسی قوم کا بھی ہو سکتا ہے ۔بحث و تکرار جاری رہا تو نظریہ ضرورت کو بنیاد سمجھنے والے دانشور نے مذہب کو بنیاد سمجھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر مذہب ہی قوم کی بنیاد بناتا ہے تو عیسائی مسلمانوں سے زیادہ ہیں دنیا میں ۔پہاڑوں سے اونچا، سمندر سے گہرا اور شہد سے میٹھا دوست چین جس کی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے کا مذہب اسلام نہیں ہے۔اﷲ نے تو قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ اس نے انسانوں کو پیدا فرما کر قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے قوموں اور قبیلوں کے ذکر میں کفر و اسلام کا ذکر تو نہیں ہوا، قوم اور قبیلے مذہب کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتے ،دین اسلام عرب میں نازل ہوا اور وہاں سے پھیلا ،عرب اسلام سے پہلے بھی موجود تھے ، انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ محترم ہر چیز کو مذہب کی عینک لگا کر دیکھ رہے ہیں یہاں بحث دین اسلام کی ہو ہی نہیں رہی ، بحث قوم کی تشکیل پر ہے ، مذہب اس کی ضمنی وجہ تو ہو سکتی ہے لیکن بنیادی وجہ قرار دینا ممکن نظر نہیں آتا ،اس کی مثال ایسی دی جا سکتی ہے کہ آج تک صرف دو ممالک مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئے ۔ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل، ایک اسلام کے نام پر تو دوسرا یہودیت کے نام پر۔ مدینہ میں اسلامی معاشرہ تشکیل پایا لیکن وہ ملک یا قوم نہیں تھا ،ایک شہر تھا۔قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ہمیں ایک ایسے خطے کی ضرورت ہے جس میں ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں لہٰذا نظریہ ضرورت یہاں موجود ہے ۔اسی طرح اسرائیل کو بھی ایک ایسی زمین کی ضرورت تھی جہاں وہ مذہبی آزادی پر عمل کر سکیں ۔پاکستان سیاسی عمل سے وجود میں آیا اور اسرائیل غاصبانہ قبضے کی بنیاد پر ،اکثریت پر اقلیت کو ترجیح نہیں دی جا سکتی ،ان دو ممالک کے علاوہ قریب دو سو دس ممالک پر کوئی قوم تشکیل نہ پائی‘‘۔اس گفتگو سے میں نے جو اخذ کیا اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہوں گا اور سب سے پہلے تو میں محترم کی اس بات کا جواب دینا چاہوں گا کہ اﷲ نے قوموں اور برادریوں میں تقسیم کر دیا ہے لیکن اگر ہم اس پوری آیت کو دیکھیں تو یہ سورۃ الحجرات کی 28آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے لوگوں ،ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری برادریاں اور قومیں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔در حقیقت تم میں سے اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔اس آیت کریمہ میں پوری نوعِ انسان کو خطاب کر کے اس عظیم گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمگیر فساد کی مؤجب رہی ہے ،یعنی نسل ، رنگ، زبان ، وطن اور قومیت کا تعصب ۔اب میں بات کروں گا جو انہوں نے اس کے بعد کی کہ قوموں اور قبیلوں کے ذکر میں کفر و اسلام کا تو کوئی ذکر نہیں ہوا ،قوم اور قبیلے مذہب کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتے‘‘۔تو میں انہیں قرآن پاک کا ہی حوالہ دیتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ سورۃ التغابن میں اﷲ تعٰلیٰ فرماتے ہیں اور ہم نے لوگوں کو پیدا کر دیا ہے جبکہ ان میں سے کچھ کافر ہیں تو کچھ مؤمن ہیں ،سورۃ المائدہ آیت نمبر اکیاون میں اﷲ تعٰلیٰ واضح طور پر فرماتے ہیں کہ اے ایمان والوں یہودیوں اور عیسائیوں کو کبھی دوست نا بناؤ ،یہاں پاکستان کا دو قومی نظریہ قرآن پاک میں ہی ملتا ہے جس کی بنیاد پر قائد اعظم نے اس وطن کو اﷲ کی رحمت سے حاصل کیا تھا کہ پوری دنیا میں صرف دو ہی قومیں آباد ہیں یعنی جہاں انہوں نے قائد کی اس بات کہ ذکر کیا کہ ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں وہیں انہیں یہ بنیادی اور ضروری بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے ۔اس پر ایک حدیث کا مفہوم پیش کرنا چاہوں گا کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہیں وہ ایک وجود کی مانند ہیں جس طرح جسم کے کسی ایک حصے میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے اسی طرح کہیں ایک مسلمان تکلیف میں ہو تو ساری دنیا کے مسلمانوں کو وہ تکلیف محسوس ہو نی چاہئے ‘‘۔اس رشتے کی بنیاد کیا ہے ،مذہب اسلام ہے ۔تاریخ میں اس کی مثال بھی ہمیں واضح طور پر ملتی ہے محمد بن قاسم برصغیر میں کسی نظریہ ضرورت کے تحت نہیں بلکہ محض ایک مسلمان بہن کو راجہ داہر کے ظلم و قید سے چھڑانے کیلئے سفر کیا تھا اور اتنی بڑی جنگ لڑی تھی کہ ساتھ ہی سندھ بھی فتح ہو گیا ۔اب میں تھوڑی سی نظریہ ضرورت پر بات کرنا چاہوں گا کہ کیا اس کی واقعی کوئی حقیقت ہے یا نہیں ! واقعہ کربلا کے بعد ایک یزیدی فوج کا سپاہی سادات کی کلائیوں سے کنگن اتار رہا تھا اور ساتھ ساتھ روئے بھی جا رہا تھا ،سادات میں سے ایک نے پوچھا کہ چچا جی آپ رو کیوں رہے ہیں ؟ توسپاہی کہنے لگا کہ اہلبیت کو اس حالت میں دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے، ،تو سیدہ کہنے لگیں کہ تو آپ کنگن کیوں اتار رہے ہیں؟ تو سپاہی نے جواب دیا کہ میں نہیں اتاروں گا تو کوئی اور اتارے گا! یہاں بھی نظریہ ضرورت پیش تھا لیکن کیا اس نظریہ ضرورت کا کچھ بھی فائدہ انہیں حاصل ہوا ؟ یہاں تک کہ ان پر قدرت کا قہر برسا بیماریاں لگ گئیں اور یزیدیت ہمیشہ کیلئے مٹ گئی ،کیا وہ قوم باقی رہی؟ مذہب کسی بھی قوم کی بنیاد ہے ، یہودی ، عیسائی ،مسلمان ، بدھ مت وغیرہ وغیرہ اپنے مذاہب کی وجہ سے قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نظریہ ضرورت کی نفی یہاں سے بھی ہوتی ہے کہ انسان معاشرے کی اکائی ہے اسے اپنی تمام ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے دوسرے انسانوں سے وابسطہ ہونا ضروری ہے اگر اس کو نظریہ ضرورت ہی سمجھیں تو پوری دنیا کے لوگ ایک قوم کبھی نہیں کہلوا سکتے اور نہ ہی انہیں کہا جا سکتا ہے ۔قوم کا بنیادی فرق ہی مذہب کی وجہ سے ہے ۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:
قوم مذہب سے ہے ،مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبۂ باہم جو نہیں ، محفل انجم بھی نہیں
 

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 87733 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
15 Nov, 2017 Views: 830

Comments

آپ کی رائے