فیس بک

(Subal Zahra, )

فرض کر یں کہ آپ ا یک ایسی دنیا میں رہتے ہوں جہاں ہر چیز آپ کے حکم کی منتظر ہوں آپ جو بھی لینا چاہے لے لیں ایسی دنیا کو آپ کیسا پائیں گے شاہد اس سوال کا جواب تب مشکل ہوتاجب دنیا گلوبل ویلیج نہ بنتی لیکن انٹر نیٹ اور اس کی ایجاد نے جہاں دنیا کی سرحدوں کو ختم کر دے ہے وہیں یہ ایک تصوراتی دنیا کا خاکہ بننے لگا ہے انٹر نیٹ رابطوں اور نیٹ ورک کا ایسا جال ہے جو کہ کروڑوں لوگوں کو دنیا بھر میں رابطے کی سہولت مہیا کرتا ہے فیس بک اس وقت سب سے زیادہ مشہور سوشل وین سایٹ ہے مارک زکر برگ کی یہ تخلیق جس طرح لوگوں میں شہرت پارہی ہے وہ واقعی حیران کن ہے آج کل نوجوان نسل اپنے گھر ،سکول،کالج، اور یونیورسٹیز میں کم اور انٹر نیٹ پر زیادہ پائی جاتی ہے۔ اور انٹرنیٹ میں بھی سب سے زیادہ فیس بک پر مٹر گشت کرتی نظر آتی ہے۔اب ذرا فیس بک کی چیدہ چیدہ تفصیلات بیان ہو جائیں ۔ہاں بھئی باقی ساری apps کی طرح یہ بھی ایک app ہے ۔مگر دنیا بھر اور خصوصاً پاکستان میں شاید سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپ۔ جس کی سادہ سی وجہ اس کا انتہائی سادہ اور آسان طریقہء کار ہے ۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے کسی خاص تکنیک کی ضرورت نہیں تو جناب اب جہاں دیکھوں فیس بک کے ہی چرچے سننے کو ملتے ہیں۔ فیس بک کے ذریعے ہی اب منٹوں میں خبر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے بلکہ اب تو آپ فیس بک پر اپنی کوئی بھی پسندیدہ چیز خرید اور بیچ بھی سکتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو صرف ایک پیج بنانا ہوگا۔آپ کا کوئی دوست اور رشتہ دار دنیا میں کہیں ہو یا نہ ہو آپ کو فیس بک پر آسانی سے مل جائے گا ۔ ایک تو اس کا آکاؤنٹ نہایت آسانی اور سہولت سے بن جاتا ہے باقی کی کسر سمارٹ فونز نے نکال دی تو جناب اب ایک فرد اپنے گھر والوں سے تو دور ہو سکتا ہے بگر اپنی چہیتی فیس بک سے نہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ہم فیس بک کو اپنے سہولت اور فائدے کے لئے نہایت آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں ۔اس کے بہت سے فوائد ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل ایک دوسرے کا مذاق بنانے اور کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کے لئے بھی فیس بک کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اب یہ الزام تراشی کا اڈہ بن چکا ہے ۔جس کا بھی جس کسی کے بارے میں بھی دل چاہتا ہے دل کھول کر اس پر الزام تراشی و بہتان تراشی کی بوچھاڑ کردیتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے تصاویر، ویڈیوذ، غرض ہر چیز کو ایڈٹ کر کے استعمال کیا جا تا ہے اور ایک دوسروں کو دھوکہ دیا جاتا ہے ۔ نیز ایک دوسروں سے بات کرتے ہوئے اپنی مذہبی اور معاشرتی اقدار کو بالکل فراموش کر دیا جاتا ہے اس کا ایک سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ اگر کبھی آپ کوئی بھی ایسا مواد دیکھیں جو کسی کی تضحیک کا باعث بن رہا ہو تو آپ اس مواد کو share ہرگز نہ کریں بلکہreport کریں۔ اس طرح کم از کم آپ مواد کے پھیلانے میں شریک نہیں ہو نگے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو اپنے ملک و قوم میں بہتری لانے کے لئے استعمال کریں ۔تاکہ ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شمار ہوسکیں اور دنیا میں اپنا ایک نام اور مقام بنا سکیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Subal Zahra
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Nov, 2017 Views: 699

Comments

آپ کی رائے