روہنگیا مہاجرین:سردی کی آمد……ایک اور المیہ جنم لے سکتا ہے

(عابد محمود عزام, Lahore)

کئی ماہ سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جو پوری اِنسانیت کے خلاف نہایت بھیانک جرم ہے۔ پوری دنیا اس معاملے کو بالکل نظرانداز کررہی ہے یا زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھی۔ میانمار میں برمی حکومت اور فوج نے مل کر روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں پر ہیلی کاپٹروں سے گن پاؤڈر چھڑک کر آگ لگا ئی۔ سیکڑوں بستیوں جلادی گئیں۔ سیکڑوں زندہ افراد بھی جل کر راکھ بن گئے۔ جان بچا کر فرار کی کوشش کرنے والوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ کسی جائے پناہ کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑتے مجبور و لاچار لوگوں پر تاک میں چھپے ہتھیاروں اور چھری چاقوؤں سے لیس پولیس اہلکار ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ زندہ انسانوں کے اعضاء کاٹ کاٹ کر چیل کوؤں کو ڈالے گئے۔ اولاد کے سامنے ماں باپ کاٹے گئے اور ماں باپ کے سامنے ان کے جگر گوشوں کے ٹکڑے کیے گئے۔ سیکڑوں خواتین کی عصمت دری کر کے انہیں فوجیوں میں تقسیم کیا گیا۔ تقریباً سات لاکھ روہنگیا افراد نے برما سے نقل مکانی کر کے جان بچائی۔ نتیجتاً ایک بڑی تعداد پانیوں میں پینے کے پانی اور خوراک کے بغیر بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ چشم فلک نے میانمار میں نہتے لاچار و بے بس انسانوں پر ظلم و بربریت اور بدترین تشدد کے ایسے دلدوز و دلخراش مناظر بھی دیکھے کہ چشم بشر ان کی تاب نظارہ نہیں لاسکتی۔ مگر روہنگیا مسلمانوں نے وہ تمام مظالم خود پر برداشت کیے اور اب تک برداشت کر رہے ہیں۔پاکستان اور دوسرے کئی مسلمان ملکوں کے علاوہ امریکا اور یورپ میں بھی عوامی سطح پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے تو کیے گئے، لیکن ترکی کے سوا شاید ہی کسی ملک نے حکومتی سطح پر ان مظلوموں کی عملی امداد کے لیے اب تک کوئی قابل ذکر اقدام کیا ہو۔ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد اقوام متحدہ کے سب سے مقتدر ادارے سلامتی کونسل نے میانمار کی حکومت سے یہ تو کہا ہے کہ وہ روہنگیا بحران پر فوری قابو پائے مگر وہ مسلم اقلیت کی نسلی صفائی مہم کو بند کرانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرسکی۔ مسلم اکثریتی ممالک میں اس مسئلے کو مسلمانوں کا مسئلہ توکہا گیا، لیکن مسئلے کو مستقل طور پر حل کرانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) بھی آج تک اس مسئلہ کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنا سکی۔ یہی پہلی بار نہیں ہوا، بلکہ ہر بار یہی ہوتا ہے، جب تشدد کی لہر میں شدت آتی ہے، تب مسلم ممالک اور اقوام متحدہ سے دیگر عالمی اداروں کی جانب سے اجلاس منعقد کرکے بیانات دیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی تشدد کی لہر تھمتی ہے توسب خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ روہنگیا مسلمان دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں، جن کی زندگی حیوانوں سے بھی بدتربنا دی گئی ہے۔ اس گمبھیر صورتحال کا تقاضہ ہے کہ دنیا بالعموم اور اسلامی ممالک بالخصوص روہنگیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کا مستقل حل نکالیں، ستاون اسلامی ملکوں پر مشتمل او آئی سی، پوری عالمی برادری کی نمائندہ انجمن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں کو زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے، لیکن مسلم ممالک سمیت عالمی برادری ستو پی کر سوئی ہوئی، اسی لیے ابھی تک برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں۔ مظالم کی صرف خبریں آنا بند ہوئی ہیں، مظالم میں رتی برابر بھی کمی واقع نہیں ہوئی۔
روہنگیا مسلمان دنیا کے چپے چپے پر مشکلات سے دو چار ہیں۔ جہاں ایک طرف میانمار میں ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، وہیں میانمار سے نقل مکانی کر کے بنگلا دیش میں پناہ لینے والے مہاجرین کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں ہے۔ وہ بھی کئی قسم کی مشکلات کا شکار ہیں۔ خصوصاً بچوں کے حوالے سے تو کافی تکلیف دہ صورتحال ہے، کیونکہ خوراک کی قلت اور ناقص خوراک کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد بیمار ہوئی، جو ادویہ کی قلت کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی۔ اب تک سیکڑوں روہنگیا بچے بنگلا دیش میں آنے کے بعد موت کی وادی میں جاسوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے مطابق میانمار سے ہجرت کر کے بنگلا دیش پہنچنے والے تین لاکھ چالیس ہزار بچے بھوک، بیماریوں اور ذہنی صدمے کا شکار ہیں۔ یہ بچے خود کو لاوارث سمجھ رہے ہیں اور انہیں درکار مدد بھی دستیاب نہیں ہے۔ بنگلادیش میں مہاجربستیوں میں یہ بچے اور ان کے خاندان پلاسٹ شیٹس کے ذریعے سرچھپانے کی جگہ بنا کر رہ رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ادارے ان مہاجرین کے لیے اپنی سرگرمیوں میں مسلسل وسعت دے رہے ہیں،تاہم پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور نکاسی آب کی خراب صورت حال کے باعث ان مہاجر بستیوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ان مہاجر بستیوں میں روہنگیا بچوں کو ’ایک جہنم کی سی صورت حال’ کا سامنا ہے۔بنگلا دیش میں موجود ان نابالغ افراد میں پانچ برس سے کم عمر کا ہر پانچواں بچہ مناسب خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ بنگلا دیش کے کاکس بازار میں پناہ گزیں کیمپوں کی صورت حال رہائش کے لیے بالکل مناسب نہیں ہے اور وہاں ناقص انتظامات ہیں۔ بے گھر روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک چوتھائی بچے شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں۔ غذائی قلت کے شکار بچوں کی یہ تعداد بہت زیادہ ہے اور اگر اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو ان بچوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق بنگلادیش میں روہنگیا مہاجروں کے کیمپوں کے اردگرد بردوہ فروشوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، جو پناہ گزینوں کے بچوں کو اغوا کرکے لے جارہے ہیں۔ جبکہ بنگلا دیشی حکومت اور ادارے پناہ گزینوں کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال میں برمی پناہ گزینوں نے اپنی حفاظت خود کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے اور کئی ایسے گمشدہ اور اغوا ہونے والے بچوں کو بازیاب کراکے ان کے والدین تک پہنچایا ہے۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر میانمار سے ہجرت پر مجبور ہوئے، لیکن انہیں بنگلا دیش میں بھی اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بنگلا دیشی حکام کو اغواکاروں کی وارداتوں سے آگاہ کرنے کے باوجود ابھی تک حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے۔

اس کے علاوہ بنگلادیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مہاجرین کے لیے سب سے بڑی مشکل موسم کی تبدیلی ہے، کیونکہ دن بدن سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے گرم ملبوسات کے استعمال کے بغیرگزارا کرنا کافی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ سردی کی شدت کی وجہ سے گھروں میں دہکتی انگیٹھیوں کے سامنے بیٹھ کر ہی دن گزارنا پڑتا ہے۔ ایسے موسم میں ایک عام انسان کے لیے ضروریات زندگی سے بھرپور اپنا گھر بار چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں کیمپوں میں موسم سرما گزارنے کا صرف تصور ہی انتہائی تکلیف دہ ہے، لیکن میانمار میں برمی درندوں کے ظلم و ستم سے بچ کر بنگلادیش کی طرف نقل مکانی کرنے والے سات لاکھ سے زاید روہنگیا مہاجرین بے یارو مددگار مجبوراً کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور بہت سے دربدرکھلے آسمان تلے انتہائی زیادہ سردی میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور سردی کی وجہ سے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ خصوصاً بچوں کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ چونکہ اپنا گھر بار چھوڑ کر زندگی گزار رہے ہیں، ان کے پاس موسم کی شدت سے خود کو اور اپنے اہل وعیال کو محفوظ رکھنے کا ایسا سامان میسر نہیں ہے،جس کا انتظام وہ گھر میں رہ کر کر سکتے تھے، اس لیے یہ زندگی ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔
میانمار میں ریاستی جبر کا شکار لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلا دیش میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کے لیے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے جس کی وجہ سے روز بروز ان کی بے چینی اور بے اطمینانی بڑھتی جارہی ہے کہ انہیں کچھ اندازہ نہیں کہ وہ کب تک اسی طرح تکلیف میں زندگی گزارتے رہیں گے اور کب تک دردرد کی ٹھوکریں کھائیں گے اورکب تک بے سروسامانی کی زندگی بسر کرتے رہیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ میانمار میں برمی درندوں کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بن کر بے گھر ہونے والے لاکھوں روہنگیا مرد وخواتین، بچے، بوڑھے اور جوانوں پر نہ تو عالم اسلام نے کوئی توجہ دی ہے اور نہ ہی عالمی برادری نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ نتیجتاً ہرگزرتے دن کے ساتھ متاثرین کی مشکلات، پریشانیوں اور مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ سردی کی سختیاں کھلے آسمان تلے بے وطن روہنگیا مہاجرین کو رلانے کے لیے کافی ہیں۔ اس کو اپنے مفادات کے گرد طواف کرتے مسلم حکمرانوں کی نااہلی ہی کہا جاسکتا ہے کہ تمام اسباب کے باوجود پانچ درجن مسلم ممالک اور دنیا میں انسانوں کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی عالمی تنظیمیں اور عالمی برادری بھی دنیا کی مظلوم ترین روہنگیا قوم کی مدد نہیں کرسکی۔ سب نے مل کر روہنگیا مظلوموں کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ ہر نکلتے سورج کے ساتھ ان کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات میں سب سے ضروری بنگلادیش میں موجود روہنگیا مہاجرین کی بڑے پیمانے پر امداد انتہائی ضروری ہے، کیونکہ بھی تک شاید صرف ترکی یا ممکن ہے کوئی اور ایک آدھ ملک بھی امداد کر رہا ہو، ان کے علاوہ کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ اگر کسی نے امداد کی بھی ہے تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مثل۔ سردی کے موسم میں ان کو صرف کھانے پینے کی اشیاء ہی نہیں چاہیے، طبی امداد اور گرم لباس اور کم از کم موٹے کمبل رضائیاں وغیرہ بھی ضروری ہیں۔ بصورت دیگر نہ صرف ہزاروں بچوں کی زندگیاں بیماریوں سے دوچار ہوکر خطرے میں ہیں، بلکہ خواتین اور بوڑھے بھی بیماری ہوسکتے ہیں۔ یہ حقیقت نہ صرف ہر مسلمان، بلکہ بحیثیت انسان کسی بھی مذہب کے ہر انسان کو سامنے رکھنی چاہیے کہ روہنگیا مہاجرین کا معاملہ ایک انسانی مسئلہ ہے، اس المیہ پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔ اس مشکل وقت میں متاثرین کو تنہا نہ چھوڑاجائے، تمام ممالک کی حکومتیں زیادہ سے زیادہ امدادی سامان روہنگیا مہاجرین کو فراہم کرنے کا انتظام کریں، بصورت دیگر انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 418401 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2017 Views: 467

Comments

آپ کی رائے