اسراف معاشرے کا ناسور

(Tariq Noman, )

جس قوم ومعاشرہ میں اسراف جیسی مہلک بیماری پائی جاتی وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا آج ہم مسلمانوں میں ایک حد تک یہ فیشن بنتا جا رہاہے ہماری شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا عام تقریبات اس میں تو بے حد اسراف کی مختلف صورتیں دکھائی دیتی ہیں ۔اسراف معاشرے کا ناسورہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی معاشرہ شتربے مہارکی طرح دولت لٹانے میں مصروف ہے ۔

فضول خرچی کو فضول خرچی سمجھنا بھی دورِحاضر میں ایک نعمت ہے کیونکہ جب کوئی بندہ فضول خرچی کی صورتوں کو سمجھے گا تو اس سے بچاؤ کی تدابیر کرے گا تو وہ یقینا کامیاب ہو گا ہمارے ہاں ایک بیماری یہ بھی پائی جاتی ہے کہ کوئی بندہ فضول خرچی واسراف سے بچنے کی تدبیر کرتاہے تو لوگ کہتے ہیں بڑا کنجوس ہے اس لفظ کنجوس نے بھی کئی لوگوں کو اسراف پہ مجبور کیاہے آئیے ذراقرآن وسنت کی روشنی میں ’’اسراف ‘‘کو دیکھتے ہیں

کسی دینی اور دنیوی قابل ذکر فائدہ کے بغیر مال کو تباہ وبرباد کرنا اور بے جا خرچ کرنا اسراف کہلاتا ہے۔
ایک آدمی اپنے مال کو دانستہ طور پر سمندر میں یا کسی کنویں میں یا آگ میں ڈال کر تباہ کردیتا ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں رہتا ہے یا اپنے مال کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے یا توڑ کر رکھ دیتا ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں رہتا ہے یا اپنے باغ کا پھل پکنے کے بعد درختوں سے نہیں اتارتا یا کھیتی کی تیار فصل نہیں سنبھالتا، یہاں تک کہ پھل سڑ کر خراب ہوجاتا ہے اور فصل تباہ ہوجاتی ہے یا اگر اس کا مال جانوروں اور غلاموں کی صورت میں ہے تو اس کو گھر میں نہیں رکھتا ہے، جانوروں کو چارہ نہیں کھلاتا ہے اور سخت سردی میں غلاموں کو کپڑے نہیں پہناتا ہے، یہاں تک کہ جانور بھوک سے اور غلام سردی سے مر جاتے ہیں، یہ سب اسراف کے ضمن میں آتا ہے۔

بھلائی میں اسراف نہیں ہے
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص جبل ابوقبیس کے برابر سونا اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی میں خرچ کرے تو اس میں اسراف نہیں ہے، لیکن اگر ایک درہم بھی اﷲ تعالی کی نافرمانی میں خرچ کرے تو یہ اسراف میں شمار ہوگا، چنانچہ حاتم طائی سے کسی نے کہا کہ اسراف میں کوئی خیراور بھلائی نہیں ہے، تو حاتم طائی نے جواب میں کہا کہ بھلائی میں اسراف نہیں ہے۔بہرحال ایسے صدقہ کرنے میں بھی اسراف ہے کہ آدمی خود مفلس ہوکر دوسروں کا محتاج بن جائے یا اس کے ذمہ پر بھاری قرضہ ادا کرنا ہے اور وہ اپنا مال صدقہ کررہا ہے، بلکہ مقروض آدمی کے لئے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ روٹی کے ساتھ بطور سالن زیتون یا سرکہ استعمال کرے، اس کو چاہئے کہ پہلے قرض ادا کرے۔ (طریقہ محمدیہ)

عام طورپر لوگ معاشی قوت کاراز یہ باورکرتے ہیں کہ آمدنی میں اضافہ ہو،بینک بیلنس بڑھیں۔ اورزمین جائیداد میں بڑھوتری ہو۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشی استحکام کا تعلق بڑی حد تک خرچ کرنے سے بھی ہے۔ کمانے اورآمدنی سے زیادہ مشکل اوراہم خرچ کرنے کا فن ہے۔

اگرانسان اپنی زندگی کاایک نظام بنائے اورخرچ میں اپنے آپ کواس کاپابند رکھے تونسبتاً کم آمدنی کے ساتھ بھی وہ اپنے سے زیادہ کمانے والوں کے مقابلہ میں خوشگوار اورخوشحال زندگی گزارسکتاہے۔

آج معاشرے میں فضول خرچی کی وجہ سے نہ کتنے ہی خوشحال گھرانوں کو برباد اورکتنے ہی آسودہ حال لوگوں کو قرضدار ہوتے دیکھتے ہیں۔اسی فضول خرچی کی وبا اورنام ونمود کے چکر میں نہ جانے کتنے گھرانے اورخاندان تباہ وبرباد ہوچکے ہیں۔

میری آنکھوں کے سامنے کتنے ہی خاندانوں کے مناظر موجود ہیں جن کی آمدنی اچھی ہوتی ہے لیکن فضول خرچی کی وجہ سے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اس فضول خرچی کا اثر ان کی اولاد پہ بھی نظر آتاہے جوکہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور وہ اپنے والدین کے دیکھا دیکھی فضول خرچی میں ان ہی کے نقش قدم پہ چل رہے ہیں
اسلام کا تصور یہ ہے کہ دنیاضرورت پوری کرنے کی جگہ ہے خواہشات کی پوری ہونے کی جگہ جنت ہے جس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
ترجمہ ۔ یعنی جوچاہوگے وہ ملے گا جس کی فرمائش کروگے وہ پوری ہوگی۔(القرآن)
اخراجات کے چار حصے
اخراجات کے بارے میں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ مصارف یااخراجات کے چار حصے کئے جاسکتے ہیں۔
ایک بہت ضروری جیسے کھانا، پینا علاج ومعالجہ تعلیم وغیرہ۔
دوسرے ضروری یعنی مناسب حال کھاناپیناپہننا سواری وغیرہ۔
تیسری چیز تحسینات یعنی وہ نہ بہت ضروری ہیں اورنہ ضروری لیکن انسان کو اس سے سہولت ہوتی ہے۔ جیسے آرام دہ سواری، اچھے کپڑے۔ اچھااورکشادہ مکان۔
چوتھی چیز ہے غیرضروری دوسرے لفظوں میں اسے فضول خرچی بھی کہاجاسکتاہے جیسے مکان ہے تواس میں حد سے زیادہ آرائش وزیبائش،کپڑوں میں بہت قیمتی ملبوسات کاانبار، کھانے پینے میں ایسی فضول خرچی کہ دس کی جگہ بیس کا کھانا پکایاجائے۔
قرآن پاک میں اسراف کی ممانعت
قرآن پاک میں اسراف کی بہت ممانعت کی گئی ہے اور معاشرے پر اس کے بر ے اثرات کو بھی بیان کیا گیا ہے
قرآن پاک میں ارشادہوتاہے
ترجمہ :۔وہ لوگ کہ خرچ کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان )
ترجمہ :۔اسراف نہ کرو کہ اﷲ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (انعام ۔،اعراف)
ترجمہ:۔اور یقینا مسرفین اصحاب دوزخ ہیں ۔ (مومن)
ترجمہ:۔اور مسرفین کے حکم کی پیروی کی اطاعت نہ کرو ۔
ترجمہ :۔مسرفین پر تیرے پروردگا ر کی طرف سے نشان لگا دیئے گئے ہیں ۔ (ذارعات )
ترجمہ:۔شک نہیں کہ فرعون روئے زمین پر بڑا بن بیٹھاتھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مسرفین میں سے تھا ۔ (یونس)
ترجمہ:۔یقینا اﷲ جھو ٹے مسرف کہ ہدایت نہیں کرتا ۔ (مومن )
ترجمہ:۔اور ہم نے مفسرین کو ہلاکت کر ڈالا ۔ (انبیا ء)
قرآن پاک میں مسرفین کو شیطان کا بھائی اور ہمنشین شمار کیاگیا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کرہ ارض میں موجود نعمتیں اس میں رہنے والوں کے لیے کافی و وافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں بے ہودہ اور فضول استعمال نہ کیا جائے بلکہ صحیح اور معقول طریقے سے ہر قسم کی افراط وتفریط سے بچ کران سے استفادہ کیا جائے ورنہ یہ نعمتیں اس قدر غیر محدود بھی نہیں کہ ان کے استعمال کے مہلک نتائج نہ نکلیں ۔
افسوس کا مقام ہے کہ اکثر اوقات زمین کے ایک علاقے میں اسراف اور فضول خرچی کے باعث دوسرا علاقہ محرومیت کا شکار ہوجاتا ہے یاایک زمانے کے لوگوں کا اسراف آئندہ نسلوں کے لیے محرومیت کا باعث بن جاتاہے ۔
اسراف اور تبذیرمیں فرق
"اسراف " اور " تبذیر " ان دونوں الفاظ کے بنیادی معانی پر نظر کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ جس و قت یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے پر ہوں تو اسراف حد اعتدال سے نکل جانے کے معنی میں ہے بغیر اس کے کہ ظاہرا کسی چیز کو ضائع کیا ہو۔
مثلایہ کہ ہم ایسا گراں قیمت لباس پہنتے ہیں کے جو ہماری ضرورت کے لباس سے سوگنا زیادہ قیمت کا ہے یا اپنی ایسی گراں قیمت غذا تیار کرتے ہیں کہ جتنی قیمت سے بہت سے لوگون کو عزت وآبرو سے کھانا کھلایا جاسکتا ہے ۔ایسے موقع پر ہم حد سے تجاوز کر گئے ہیں لیکن ظاہراکوئی چیز ختم اور ضائع نہیں ہوئی۔
جبکہ تبذیر اس طرح سے خرچ کرنے کو کہتے ہیں کہ جو اتلاف اور ضیاع کی حد تک پہنچ جائے مثلادو مہمانو ں کے لیے دس افراد کا کھا نا پکالیں جیساکہ بعض نادان کے تے ہیں اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں اور بچے ہوئے کھا نے کو کوڑ ے کرکٹ میں پھینک کر ضا ئع کرتے ہیں ۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں
خبر دار !مال کو اس کے مقام استحقاق کے علاوہ خرچ کرنا تبذیر و اسراف ہے ۔
ہوسکتا ہے یہ کام انسان کو دنیا میں بلند مرتبہ کردے لیکن آخرت میں وہ یقینا پست وحقیر ہوگا ۔ہو سکتا ہے عام لوگوں کی نظر میں اسے عزت واکرام حاصل ہو جائے مگر بارگاہ الٰہی میں یہ کام انسان کی تنزلی اور سقوط کا سبب ہے ۔اسلام میں اسراف اور تبذیر کی اس قدر ممانعت کی گئی ہے کہ وضوکے لیے زیادہ پانی ڈالنے سے بھی منع کیا گیا ہے اگرچہ وضو کرنے والا لب دریا ہی کیوں نہ بیٹھا ہو ۔
احادیث میں اسراف کی ممانعت
یاد رکھیے کہ فضول خرچی دوطریقوں سے ہوسکتی ہے ایک تو کہ جائز مصارف میں حد سے زیادہ خرچ کیاجائے ۔
دوسرا یہ کہ بیجامصارف میں خرچ کیاجائے۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ جودنیا میں جتنازیادہ آسودہ ہوکر کھاتاہوگا قیامت کے دن وہ اسی قدر بھوکاہوگا۔(ابن ماجہ)
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ جوکچھ طبعیت چاہے اسے کھاہی لینا اسراف ہی کی ایک صورت ہے۔(ابن ماجہ)
اس معاملہ میں آپ ﷺکا یہ حال تھا کہ اگر کوئی لقمہ ہاتھ سے گرجاتاتواسے بھی پونچھ کر جھاڑکر تناول فرماتے(ابن ماجہ)
حضرت عبداﷲ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے شہرت اوردکھاوے کا لباس پہنا اﷲ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت وخواری کالباس پہنائیں گے۔ (ابن ماجہ)
ایک روایت میں حضرت عبداﷲ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کھاؤ،پیو صدقہ کرو اورپہنو البتہ فضول خرچی نہ ہو اورتکبر نہ ہو۔
صرف جائز امور کی بات نہیں بلکہ آپ نے نیک کاموں میں بھی غلو کو پسند نہیں فرمایا۔
حضرت ثابت بن قیس ؓنامی ایک صحابی نے ایک دن پانچ سو کھجو رکے درختوں کے پھل کاٹے اوراسی دن پورے تقسیم کردئے اہل وعیال کے لئے کچھ نہیں رکھاتوآپ نے اسے پسند نہیں فرمایا اوراسی موقع سے حکم ربانی نازل ہوا"ولاتسرفوا"(الجامع الاحکام القرآن )
آپ ﷺوضو اورغسل میں بھی پانی کے خرچ میں احتیاط برتتے تھے اورجتناپانی غسل اوروضو کیلئے کافی ہوجاتا اسی پر اکتفاکرتے تھے۔ چنانچہ آپﷺغسل ایک صاع پانی سے کرتے جو تین لیٹر سے کچھ زیادہ ہوتاہے اوروضو اس کے چوتھائی حصہ مد سے کرتے ۔آپﷺ نے یہی تلقین صحابہ کرام کو بھی کی۔
چنانچہ آپ ﷺنے فرمایااگر کوئی شخص نہر کے پاس ہو جب بھی وضو میں ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال سے گریز کرے اورایسا بھی ہوا کہ آپ نے نہر کے پاس برتن لے کروضوفرمایا اورجوپانی بچ رہا اسے دوبارہ نہر میں ڈال دیا۔(مجمع الزوائد)
قرآن وسنت سے ہمیں یہی معلوم ہوتاہے کہ اسراف سے ہر حال میں بچنا چاہیے جس قوم ومعاشرہ نے اس سے بچاؤ کا راستہ اختیار کیا ہے وہ آج ترقی یافتہ قومیں کہلاتی ہیں
اﷲ ہم سب کو اسراف سے بچنے کی توفیق دے۔ اوراﷲ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جان ومال کو خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46239 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2017 Views: 1160

Comments

آپ کی رائے