کیوں نہیں آتی اﷲ کی مدد؟؟؟

(Asif Jaleel, India)

اﷲ جلّ شانہ نے کامیابی کا معیار دنیا کو نہیں بنایا۔ حکومت وچودھراہٹ دے کر ناکام کیا ابوجہل و ابو لہب کو،اور بہت بڑے کھیتی باڑی وباغایت کا نظام چلانے وسنبھالنے والے کھربوں ایکڑ زمینوں کے مالک قومِ ثمود نے ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق پہن لیا۔پوری دنیا کے سب سے زیادہ جسمانی حالت کے رکھنے والے کہ ایسی حالت شاید کہ دنیا میں دوبارہ کوئی بنائیں، زبردست باڈی بلڈر ،قومِ عاد کو بھی اُٹھا کر پھینکا اﷲ نے۔۔۔یہ سارے واقعات اﷲ جل شانہ ُ نے اس لئے بیان کئے ہیں کہ پوری کائنات کی قیمت اﷲ کے یہاں ہے ہی نہیں،کوئی حیثیت ہے ہی نہیں۔تم حیثیت بنانا چاہوگے تو زندگی کا سرمایہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔آخرت میں تو کچھ ملے گا نہیں دنیا میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔صرف بھاگ دوڑ گہماگہمی ہوگی اور ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ہاتھ میں صرف ذلت ،پریشانیاں،قرضے،ٹینشن،بیماریاں،مسائل،کورٹ کچہری بس یہی سب ملے گا۔آخرت تو گئی ہاتھ سے دینا میں یہ آوٹ پُٹ ہوگا۔ پھر قیمت کس کی ہے اﷲ جل شانہُ کے پاس؟؟؟؟؟قیمت اﷲ کے یہاں اﷲ کے دین کی ہے ،اﷲ کے حکموں کو پورا کرنے کی ہے۔اﷲ کے معیار پر اُتر جانے کی ہے۔جس طرح ایک باپ اپنے بچوں کو اپنے معیار پر چلانا چاہتا ہے ،کوئی بچہ اس کے معیا ر پر نہیں چلتا ہے تو اُسے جائداد ،گھر و رشتہ سے بے دخل کردیا جاتاہے۔۔۔۔شوہر اپنی بیوی کو اپنے معیار پر چلانا چاہتا ہے،معیار پر نہیں اُترتی ہے تو طلاق دے کر فارغ ہوجاتا ہے۔۔۔ ۔الیکشن کے موقع پر ووٹ دینے والی عوام کرسی پر بیٹھنے والے لیڈر کو شکست دیتے ہیں کیونکہ وہ اُن کے معیار کا نہیں ۔۔۔!! یہ ساری تو ہماری مثالیں ہیں۔ بالکل اسی طرح اﷲ جل شانہُ کا ایک معیا ر ہے،اﷲ تمام لوگوں کو اپنے معیا ر پر چلانا چاہتے ہیں کہ تم سب میرے معیار پر کھرے اُترو۔۔،تاجر کو بلایا،ملازم کو بلایا،کاشت کار، جوان کو بوڑھے کو ،شوہر کو بیوی کو ،اولاد،والدین،بھائی بہن،پڑوسی،حکمرانوں کو،سب کو بلایا۔۔۔۔!!! اب اﷲ جل شانہ کا کیا معیا ر ہے ؟ یہ بتانے کے لئے اﷲ جل شانہ نے نبیوں کو مبعوث کیا ،تمام انبیاء دنیا میں آکر بتاتے تھے کہ اﷲ کا کیا معیا ر ہے۔اﷲ کے معیار کو جاننے کا نام ’علم‘ ہے ۔اور اﷲ کے معیا ر کو پورا کردینا یہ ذکر ہے۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ’’اﷲ کی کامل اطاعت کرنے والا ذاکر ہے‘‘۔جو اﷲ کے ایک ایک حکم کی مانے وہ ذاکر ہے۔اور اﷲ جل شانہ کا وہ معیار جوبندوں اور مخلوق کے درمیان ہے اُس کانام ’اخلاق‘ ہے۔اور اﷲ کے معیار پر اپنے گھر کا رہن سہن لانااِس کا نام ’معاشرت ‘ہے۔اور اﷲ کا معیار جو لوگوں سے برتاؤ کا ہے اُس کا نام لین دین ہے،(تجارت کا دین)۔ اور اﷲ کے معیار واحکام پر کامل یقین کرکے عمل کرنا یہی اصل راستہ ہے کامیابی وکامرانی کا۔۔۔یہی معیار و احکام رسول اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں ملا،اس کا یقین کرنا ۔۔۔تمام صحابہ کرام ؓ آقائے نامدار حضور اقدس ﷺ کی صحبت میں رہ کر اِسی ایمان کو ،معیار و احکام کو سیکھا کرتے تھے۔اسی لئے تمام صحابہ کا ایمان پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی بلند تھا۔۔۔ اﷲ کے نبی ﷺ نے تمام صحابہ کرامؓ کے اندر سے مال کا تاثر نکال کر اعمال کا تاثر ، دنیا کا تاثر نکال کر آخرت کا تاثر ،مشاہدات سے ہٹا کر مغیبات کی طرف ،مخلوق کا تاثر نکال کر ایک خالق کا تاثر ، نظر کا نکال کر اﷲ کے نبی کی خبر کا تاثر پیدا کرنے والی محنت پر ڈال دیا تھا۔۔۔۔۔تو محنت کر کے تمام صحابہ ؓ کا یقین دل میں اُتر گیا تھا۔۔۔۔آج ہم سب کو صرف’ یقین‘ کی معلومات ہے،ہمارے پاس موبائیل میں سی ڈی میں ، لیپ ٹاپ میں’ یقین‘ کے بیانات ہیں ،مگر افسوس صد افسوس یقین ہے نہیں۔۔!!!یا جیسا یقین ہونا چاہئے ویسا ہے نہیں۔یقین کی لائبریریاں بھری پڑی ہیں،یقین کی کتابیں تقسیم ہوتیں ہیں،یقین کی معلومات چھپتی ہیں اخباروں میں۔۔۔۔۔ !!! معلومات کا نام دین نہیں ہے۔یقین کی معلومات کا نام ایمان نہیں ہے۔۔صرف معاشرت کی معلومات کا نام ’معاشرت کا دین‘نہیں ہے۔۔۔۔ یہ سب کیسے وجود میں آئے؟؟ اِس کا نام ’تبلیغ‘ ہے۔کوئی اور محنت سے نہیں آسکتا ۔۔۔۔۔ زندگی سے ہاتھ کا سرمایہ نکل جائے گامگر امر با المعروف و نہی عن المنکر کے بنا دین دار نہیں بن سکتے۔۔۔یہی حقیقت ہے۔۔۔ہاں ،جُزویات کا دین آجائے گا،کامل دین نہیں آسکتا۔۔۔بغیر دعوت و تبلیغ و امر باالمعروف و نہی عن المنکر کی محنت کے کامل دین نہیں آسکتا۔۔۔ہاں وقتی طور والا دین آئیگا۔۔۔لباس کا دین آگیا، حج کا دین آگیا،زکوٰۃ دینے والا بن گیا،کبھی نماز پڑھنے والا بن گیا،کبھی ذکر کرنے والا بن گیا،لیکن۔۔۔ کامل دین بغیر دعوت و تبلیغ کے نہیں آسکتا۔ورنہ آدمی نمازتو پڑہیگامگر معاشرت ہنود و باطل کا ہوگا۔روزہ بھی رکھے گا،حج بھی کریگازکوٰۃ بھی دیگا مسجد مدرسے کی چندے کی رسید بھی بنوائے گامگرلین دین اور سودی نظام اپنے کاروبار سے نہیں نکال سکتا۔سوٗد جان بوجھ کر دے گا، لے گا۔۔۔۔دین اِس کا نام نہیں ہے کہ چند رکعاتیں پرھ لے،حج عمرہ کی دوڑ کر لیں،اعتکاف میں بھی بیٹھ جائے ،تسبیح بھی پڑھ لے۔۔۔۔۔ بلکہ روزانہ ایک پوری چوبیس گھنٹہ کی زندگی ،رسول اﷲﷺ کے ذریعے سے اﷲ نے اپنا ایک معیار بتایا ہے اسی کا نام ’’دین‘‘ ہے۔اِس پر آئے بغیر کوئی کامیاب ہواہے نہ ہورہا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔یہ اﷲ جل شانہ کا ضابطہ ہے۔۔۔۔ اور آدھے ادھورے دین پر اﷲ کی مدد کبھی نہیں آتی،آدھے ادھورے دین پر عمل کرتے ہوئے یہ غلط فہمی ہوگی کہ ہم تو دین دار ہیں مگر اﷲ جل شانہ کے نزدیک دین دار شمار ہی نہیں ہونگے۔۔ایسے میں اﷲ کی مدد ہی نہیں آئیگی،پھر تو شیطان و نفس بھی بہکا ئے گا کہ کیا مولوی، مولانا، دین ،اسلام ،احکام شریعت ،کے پیچھے پڑا ہے،تُو تو سب کچھ کر رہا ہے ،اور اﷲ کی مدد تو آتی نہیں۔۔۔تو شیطان ایسی جگہ لا کر دھوکہ دیگا کہ دین پر چلنے سیکچھ فائدہ وائدہ تو ہے نہیں۔۔۔حالانکہ یہ خود ادھورا دیندار ہے۔۔۔!! حضرت عبداﷲ ابن سلام ؓ اسلام لانے سے قبل یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے،پھر اﷲ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرما دی تو ایمان قبول کر لیا،( جس طرح ہمارے مذہب میں خنزیر حرام ہے اُسی طرح یہودیوں میں اُونٹ حرام تھا)حضرت عبداﷲ ابن سلام ؓ کی ایک طویل زندگی گزر گئی یہودیت میں اور اونٹ کا گوشت کبھی کھا یا نہیں اور مسلمان ہوگئے، اب تمام صحابہ کو دیکھ رہے ہیں کہ اونٹ ذبح کر کے تناول فرما رہے ہیں۔اب کبھی کھا یا نہیں ہے تو کراہیت ہوئی،تو ایسے میں حضرت عبداﷲ ابن سلام ؓ نے اپنے دِل میں سوچا کہ’ چلواﷲ تعالیٰ نے شرط تو نہیں لگائی کہ مسلمان ہونے کے لئے اونٹ کھانا ضروری ہے۔‘ایسا خیال دِل میں گھڑ لیاکہ کامل مومن ہونے لئے اونٹ کھانا ضرور ی نہیں۔نہیں بھی کھائے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔۔یعنی یہ کہ پُرانے مزاج پر ہی رہنا ہے۔۔۔بس یہ خیال دِل میں آیا ہی تھا کہ حضرت جبرئیل ؑ رسول اﷲ ﷺ پر وحی لے کر آئے کہ ’’ یا ایھا الذین امنودخل فی السلم کافہ‘‘( ائے ایمان والوں، پورے کہ پورے دین میں داخل ہوجاؤ)۔ یہ اس آیت کا شان نزول ہے۔۔۔ اب بتایئے کہ کیا وہ صحابی نعوذ باﷲ بے نمازی تھے؟ زکوٰۃ کو چھوڑ دیا تھا؟تسبیح تلاوت اعتکاف چھوڑا تھا؟قطع رحمی کی تھی؟؟ نہیں نہیں۔۔۔ تمام اعمال میں سر فہرست تھے۔۔۔۔۔پھر۔۔۔ کیا چھوٹ گیا تھا؟؟اﷲ جل شانہ کہے رہے ہیں کہ تم دین دار نہیں ہو،پورے مکمل دین میں آؤ۔۔۔!! در اصل پورے مزاج کو تابع نہیں کیا تھا۔۔۔اور ہم سب کا حال یہ ہے کہ پوری زندگی تابع کرنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔بلکہ اگر کو ئی سنّت شریعت کی دعوت دیتا ہے تو اُسے دلیل دیتے ہیں کہ ایسا لباس شرٹ پینٹ چلتا ہے، ویسا لباس چلتا ہے،سنت پر عمل نہیں بھی کریں تو چلتا ہے۔( نعوذ باﷲ)۔آج لوگ دلیل دینے میں ،بحث و مباحثہ کرنے میں لگے ہیں۔یہودیوں اور غیروں کی زندگی پر رہنے کے لئے منطقی دلیل دینے میں لگے ہیں۔۔۔اور کس کو دلیل دے رہے ہیں؟ ؟ ؟ جو سنّت وشریعت کی ترغیب دے رہا ہے اُس سے بحث کررہے ہیں۔۔۔ !! اِس کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مزاج کو تابع کریں۔۔۔ طبیعت کو اﷲ کے مزاج پر لانے کا نام شریعت ہے۔ اور آج ہم شریعت کو اپنے مزاج پر لانے میں لگے ہوئے ہیں۔۔ ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ جتنے بھی دارالافتاء ہیں، مفتیان ہیں اُن کے پاس جتنے بھی فتوئے جاتے ہیں ۔۔وہ کیوں جاتے ہیں فتوئے لینے کے لئے؟ کہ مفتی صاحب مولوی صاحب ،میَں ایساایسا چاہتا ہوں اب اُسی کو دین بتاؤ۔کسی بھی طرح سے پاس کرو۔۔!!! ہمارے شہر کے ایک بہت بڑے عالم مفتی محمد اسماعیل صاحب اپنے بیان میں ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ’’ مفتی صاحب ،ننانوئے طلاق میں اپنی بیوی کو دے چکا ہوں، میَں اِس لئے آیا ہوں کہ کوئی فتویٰ وغیرہ ہے کیا؟ کہ میں میری بیوی کو رکھ سکوں؟؟ یہ کھلی مثال شریعت کو اپنے مزاج پر لا نے کی ہے۔۔۔ اورتمام صحابہؓ کی یہ مثال تھی کہ اپنے مزاج کو شریعت پر لائے تھے۔۔۔ اسی لئے حدیث پاک میں کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم و خلاصہ ہے کہ’ کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا اُس وقت تک جب تک کہ اُس کی طبیعت اِس دین ے تابع نہ ہوجائے جس کو میَں لے کر آیا ہوں۔‘۔۔۔ اب غور کریں اور ہم میں کا ہر آدمی سوچ لے کہ میری طبیعت کیا ہے اور شریعت کی طبیعت کیا ہے؟خود فیصلہ کریں کہ میں دیندار کتنا ہوں؟؟ کامل دین آنے کے لئے امر با المعروف و نہی عن المنکر اور دعوت کی محنت ضروری ہے۔۔اور دین کہتے ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں اﷲ کیا حکم دے رہے ہیں،اِس حکم کو نبی کے طریقے پر پورا کرنا یہ دین ہے۔۔۔!! علماء سے پوچھ لیں کہ صحابہ ؓکے شروعاتی دور میں کوئی حکم نہیں آیاتھاکہ یہ کرو یہ مت کرو۔۔کسی لائن کا کوئی حکم نہیں آیا تھا،لیکن دعوت کا عمل سب سے پہلے آیا۔کلمہ کی دعوت کے علاوہ کوئی عمل ہی نہیں تھا۔۔۔اور وہ بھی مجلس لگانے والا کلمہ نہیں،بلکہ یہ کلمہ دوسروں کے درمیان میں از خود جا کر پڑھو۔۔۔پڑھنے کا مطلب عدد گننا نہیں ۔۔۔بلکہ لوگوں کے درمیان میں جا کر یہ کہو کہ جتنے بھی بُت ہیں ان سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ کرنے دھرنے والی ذات صرف اﷲ کی ہے۔۔۔مشرکین منافقین کے سامنے بُت کے خلاف کہنا اُن کو بہت بُرا لگتا تھا ۔۔۔!!آج بُت کی شکل دنیا کی شکلیں ہیں،اس لئے دنیا دار کو داعی کی بات بُری لگتی ہیں۔۔دعوت و تبلیغ کرنے والوں کی بات بعضوں کو بہت بُری لگتی ہیں۔۔۔یہ جو نفی کرتے ہیں اسباب کی ،دنیا کی ،کھیتی باڑی کی، کارخانے کی، تو اِس بات کا بُرا لگتا ہے بالکل اسی طرح مشرکین کے دلوں میں بُتوں کا یقین تھا۔۔۔حضرت مولانا یوسف صاحب ؒ اِس بات کو مثال سے یوں سمجھاتے تھے کہ ’جسیے سونے سے بنی ایک مورتی ہے ،کسی مسلمان سے وہ مورتی دکھا کر پوچھیں کہ یہ مورتی سے کچھ ہوگا؟؟ کہے گا استغفر اﷲ ، نعوذ باﷲ ۔۔۔بُت کی پوجا کرنے میں لگا رہے ہو ،استغفراﷲ۔۔۔۔اُس سے کہا جائے کہ بھائی سونے کا بُت ہے۔ تو یقینا کمزور سے کمزور ایمان والا کہے گا کہ سونے کا ہو یا ہیرے کا بُت ہو، بُت تو بُت ہے۔۔۔۔ !! اب اُسی بُت کو پگھلا کر سونے کا بسکٹ بنا لو ،اور بڑے سے بڑے دیندار کے ہاتھ میں دے دو ۔۔ وہ کہے گا اِسی سے سب کچھ ہوگا، گھر میں شادی ہے نا یہ سونے کا بسکٹ کام آجائیگا۔۔گھر بنانے میں کا م آجائیگا۔۔۔کاروبار سیٹ کرنے میں یہ بسکٹ کام آجائیگا۔۔۔۔غرض اسی میں بڑے بڑے خرچ بتائے گا۔! تو حضرت اسی بات کہتے تھے کہ یہ تو سونا وہی ہے جو بُت کی شکل میں تھاآج بسکٹ کی شکل میں ہے۔۔۔۔ ایسے ہی مشرکین مکّہ جو جو یقین کے ساتھ بُتوں کو رکھے ہوئے تھے بالکل اُسی طرح ہم نے دنیا کے اسباب کو،اُس کی محبت کو، گلے لگا لیا۔۔!! تاجر کی تجارت بُت کی حیثیت، ملازم کی ملازمت بُت کی حیثیت، زارع کی زراعت بُت کی حیثیت، غرض جس کے پاس جو شکل ہے کام بننے کی وہ گویا اس زمانے کا بُت ہے ۔۔۔ حضرت کہتے تھے کہ جیسے مشرکین مکہ نے الگ الگ بُتوں کو تراش لیا تھا کہ یہ بارش برسانے والا خدا (نعوذ باﷲ)،فلاں بُت روزی دینے والا، فلاں بچہ دینے والا،۔۔۔ بالکل ایسے ہی ہم نے اسباب کوتو بُت تو بنا لیا مگر اپنے آپ کو بھی بُت بنا لیا،کہ یہ فلاں شخص وزیر خوراک ہے پورے ملک میں یہ راشن تقسیم کریگا، فلاں فلاں وزیر خزانہ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔! تو ہم نے بتوں کو تقسیم کیا اسباب میں اور وزارت میں ۔۔۔ اب اُسی کی دوڑ لگ رہی ہے۔۔۔!!!

تو صحابہ ؓ کے ابتدائی دور میں کچھ بھی عمل نہیں تھالیکن دعوت کا عمل ضرور تھا۔۔۔ کلمے کی دعوت ۔۔۔کلمہ کو پڑھنے کی نہیں بلکہ کلمے کے اصل یقین کو دوسروں کے سامنے پیش کرکے دعوت دینا تھا۔۔حضرت ابو ذر غفاری ؓ مشرکین کو جمع کرکے کہتے تھے کہ تم پجاری ہو بُتوں کے اور جس کو تم خدا مان رہے ہو اُس سے کچھ نہیں ہوتا،تمام کائنات کا رب ایک ہے۔صرف اتنا کہنے پر مشرکین نے اُن کو اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئے۔۔۔ ایسے ہی حضرت ابو بکر صدیق ؓ مشرکین مکہ کو جمع کرکے اُن کے درمیان کلمہکا وِرد نہیں کئے بلکہ کلمے کی دعوت دیئے تو مشرکین نے اتنا مارا کہ سر کا کچھ بال تک اُدھڑ گیا۔۔!! ایسے ہی جو لوگ رسول اﷲ ﷺ پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہمارے عرب میں ہمارے درمیان ایک ایسا بچہ ہے ایسا نوجوان ہے جو آج تک پیدا نہیں ہوا،اُن کے جیسا سچا کوئی نہیں، اُن کے جیسا امانت دار کوئی نہیں، اُن کے جیسا صادق کوئی نہیں۔لیکن جب اﷲ کے رسول ﷺ نے اُن کے درمیان دعوت و تبلیغ کی ہے کہ ایک اﷲ ہے،تو پھر کوئی بھی اﷲ کے نبی ﷺ کو رکھنے کے لئے تیار نہیں ،ہجرت کرنی پڑی۔۔۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں تھا لیکن دعوت ضرور تھی۔۔۔علماء کہتے ہیں کہ یہ ترتیب قیا مت تک کے لئے ہے۔۔۔کامل دین زندگی میں لانے کے لئے پہلا کام دعوت کا کرنا ہوگا۔۔۔۔یہ کام تبلیغی جماعت کا نہیں ہے بلکہ یہ ساری اُمّت کے ایک ایک فرد کی ذمہ داری ہے، ہمیں امت بنایا گیا ہے۔۔امتی وہ ہے جو سارے عالم میں کلمے کی محنت کو لے کر چلنے کے عزائم کرے۔! ہر نبی کے زمانے میں قوم کو دیندار بنانے کے لئے ابتداً انبیاء نے کلمے کی دعوت دی ہے ۔۔۔کلمے کی محنت کی ہے۔حضرت امام مالک ؒ کہتے ہیں کہ ’’اِس اُمّت کی اور قیامت تک آنے والوں کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ کام نہ کرلیں جو پہلوں والوں نے کیا ‘‘۔۔ (یعنی صحابہ ؓ )۔

یہ دعوت و تبلیغ اِس لئے کرنا مشکل ہے کہ یہ محنت نفس پر بوجھ بہت ہے،اور یہ محنت بغیر جان مال کی قربانی کے نہیں آتی۔(یہی تمام صحابہ ؓ کا طرز تھا کہ اپنی جان اپنا مال)۔۔۔۔اوردوسری محنتوں میں جان مال نہیں ہے،اِس کے لئے ایسی جگہ طبیعت چل جاتی ہے ۔۔اب دعوت و تبلیغ میں خود کا جان خود کا مال لگانا پڑتا ہے ۔۔۔اس کے لئے یہ نفس پر بوجھ ہے۔۔ بلکہ دوسری رواجی محنتو ں میں تو مال لگتا ہی نہیں،سفر پر آنے جانے کا نذرانہ ،پھر زبردست لذیز کھانے کی دعوت ،آیئے آ یئے تشریف لایئے کی صدا ،مسجد کو بھی سجا سنوار کر،بیٹھنے کے لئے نرم گدّا ،تو ایسی جگہ تو طبیعت آمادہ ہوجاتی ہے۔۔۔اور دعوت و تبلیغ میں اپنی جا ن اپنا مال لگا کر نکلو اور گشت میں کبھی لوگوں کی کڑوی کسیلی پھٹکار سنو کہ چلو نکلو بڑیچلے تبلیغ کرنے۔۔۔ اس کے لئے طبیعت اس پر آمادہ نہیں ہوتی،دین کی طرف راغب کرنے کے لئے لوگوں کی خوشامدکرنا اور کوئی بد سلوکی کرے توبد دعا نہ کرنا، یہ نہج و طرز تو بالکل انبیاء کا ہے۔۔۔احد میں آپ ﷺ گرے پیچھے پتھر لگا، بے ہوش ہو گئے ،صحابہ ؓکہنے لگے کہ بد دعا دو،مگر اﷲ کے نبیﷺ نے کہا کہ ان کو نہیں معلوم کہ میرا کیا مقام ہے ا گر یہ جانتے کہ میں کون ہوں تویہ حال کیوں کرتے ائے اﷲ ان کو معاف فرما۔۔۔نبی کس کے لئے دعا کر رہے ہیں ؟جا نی دشمنوں کے لئے دعا کررہے ہیں۔۔۔۔اور آج کے دور میں لوگ بددعا کے وظیفے پوچھتے ہیں کہ فلاں نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے اب کچھ ایسا وظیفہ بتاؤ کہ اُس کا کاروبار ہی چوپٹ ہوجائے وہ برباد ہوجائے ۔۔۔آج خود مسلمان ،مسلمان کی دشمنی پر اُتر آیا ہے۔۔۔۔اور وہاں کافروں کے لئے بددعا نہیں کی گئی۔ اِس لئے کہا گیا کہ یہ دعوت و تبلیغ امر باالمعروف و نہی عن المنکر کی محنت نفس پر بوجھ بہت ہے۔۔۔ایک عالم صاحب نے شیطان کے تعلق سے دلچسپ بات سنائی کہ بندوں کو بہکانے کے لئے شیطان نے اﷲ جل شانہ سے بہت سارے اختیارات اور چیزیں مانگی ہیں،جیسے میں اُنھیں دیکھوں مگر وہ مجھے نہ دیکھے، اور جس طرح خون رگوں میں دوڑ رہا ہے اسی طرح میرا بھی اختیار چلے ، جو چاہے وہ شکل اختیار کروں۔۔۔شیطان کبھی تھکتا نہیں،کبھی سوتا نہیں، قیا مت تک مرنا نہیں مانگا ۔۔۔اور اس بہت طرح سارے اختیارات مانگ لئے وہی ایک اہم چیز یہ بھی مانگ لی تھی کہ انبیاء والی محنت یعنی دعوت کی جو لذّت ہے جو ثمرات ہے جو حقیقت ہے ائے اﷲ مجھے اختیار دے کہ میں اس پر پردو ڈال دوں۔!!! اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ عظیم الشان دعوت کا کام جس پر کھُلے گا وہی کریگا۔اور کھُلے گا اُسی پر جو قربانی دیگا،مجاہدہ کریگا۔۔۔یہ کام معلومات سے قطعی سمجھ میں نہیں آئیگا، کہ خوب تبلیغ کی کتابیں پڑھ لی کہ سمجھ میں آجائے یہ ناممکن ہے۔۔۔۔مولانا علی میاں ندوی ؒ اپنی بیشتر کتابوں میں یہ بات تحریر فرما چکے ہیں کہ میں ہر چیز کو کتاب سے سمجھا سکتا ہوں مگر دعوت وتبلیغ کو میں قلم سے نہیں سمجھا سکتااس کے لئے تو بذاتِ خود قدم اُٹھانا پڑیگا۔۔۔کہتے ہیں تبلیغ میں قلم نہیں قدم ہے، جوش نہیں ہوش ہے، تبلیغ میں شخصیت سازی نہیں ہے بلکہ شخصیت سوزی ہے۔، تبلیغ میں زر نہیں بلکہ آہ و زاری ہے،فرمائش نہیں بلکہ فہمائش ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ تبلیغ میں اپنی جاناپنا مال اور وقت لگانا یہ ساری چیزیں نفس پر بوجھ بہت ہے۔۔۔
مرزا غالب کا ایک شعر ہے کہ جانتا ہوں ثواب ِ طاعت و زہد، پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 125872 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
22 Nov, 2017 Views: 542

Comments

آپ کی رائے