دنیا کے ظلم و ستم

(Rana Qamer, hyderabad)
انسان پر کیا گزرتی ہے جب وہ سب کچھ اسکے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے وہ کس طرح اپنی زندگی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے

ایک انسان دنیا میں آیا اسے نہیں پتہ نفرت، محبت، غم، خوشی کا اسے کچھ نہیں پتہ وہ اپنی دنیا میں گم ہے وہ اپنی مستی میں مست ہے وہ اپنے اپکو نہیں پھچانتہ وہ اپنا وجود نہیں پھچانتہ وہ نہیں پھچانتہ وہ کیوں اس دنیا میں بھیجا گیا وہ نہیں پھچانتہ دنیا کہ ظلم و ستم، خوشی غمی وہ کچھ نہیں جانتا ہو خوش ہے وہ ہنس رہا ہے وہ آرام کی نیند سو رہا ہے وہ بلکل خالی ہے نہ اسے کوئی غم ہے نہ اسے کوئی پریشانی اور نہ ہی اسے کسی کہ کھونے کا غم ہے۔ وہ ایک عورت کو دیکھتا ہے مسکراتہ ہے وہ نہیں جانتا وہ کون ہے مگر وہ اسکو ایک ہسرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہے کہ وہ جو بھی ہے میری کچھ ہے وہ اسکے پاس خوش رہتا ہے وہ اسکو اپنا سب کچھ مانتہ ہے وہ بڑا ہوتا ہے اسے نفرت، خوشی دینے والے ہم ہی ہوتے ہے اسکو کسی اور کہلیئے نفرت پیدہ ہم ہی کرواتے ہے اسے خوشی بھی ہم ہی دیتے ہے وہ بھڑتا ہے اپنی زندگی میں وہ دنیا کو دیکھتا ہے وہ زخم بھی کھاتا ہے مگروہ بھڑتا ہے زندگی میں بھڑتا ہے وہ ہر خوشی کو اپنی مان کر مناتا ہے اس لیئے وہ خوش رہتا ہے وہ اس خوشی کو کھونہ نہیں چھتا مگر وہ خوشی بھی اس سے چھین لی جاتی ہے وہ ٹوٹ جاتا ہے وہ بھکر جاتا ہے وہ سمبھلنے کی کرتا ہے وہ آگے بھڑنے کی کرتا ہے مگر آہستہ آہستہ وہ تھک جاتا ہے اسکو اپنی زندگی سے نفرت ہوتی ہے اسکا اپنا وجود اسے نوچتا ہے اسکو زندگی میں ہر ایک سے نفرت ہونے لگتی ہے وہ ہر کسی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ اپنی موت کو یاد کرتا ہے اسے زندگی نہیں موت زیادہ عزیز لگنے لگتی ہے وہ ہارنے لگتا ہے وہ جیتنا چھتا ہے مگر کچھ نہیں پتہ اسے وہ خود کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں اسے کوئی کامیابی نظر نہیں آتی وہ اندھا ہو چکا ہے وہ ٹوٹ چکا ہے وہ اپنی کامیابی کو بھی اپنی ہار سمجھنےلگتا ہے وہ زندگی میں آہستہ آہستہ ہر ایک چیز کھونے لگتا ہے وہ زندگی کے خوفناک اندھیرے میں ہے وہ اسی اندھیرے میں اپنی موت تلاش کرتا ہے اس سے سکون چاہیئے اسکے لیئے موت اسکا سکون ہے۔ موت اسکو آ نہیں رہی وہ تڑپ رہا ہے وہ اپنے اپکو کوس رہا ہے وہ اندھیرے میں خود کوتلاش کرتا ہے جہاں اسنے اپنے اپکو ایک خوفناک اندھیرے میں پایا جہاں اسکے پاس کچھ نہ تھا وہ اکیلا اس اندھیرے میں تھا وہ چلاتا وہ روتا مگر کوئی اسکی نہ سنتا وہ سب کو کھو چکا تھا وہ اس عورت کو بھی کھو چکا تھا جسنے اسے دنیا میں آتے ہی سمبھالا جس کو وہ اپنا سب کچھ مانتا تھا جسکو دیکھ کر وہ ہنستاتھا وہ اسے بھی کھو چکا تھا وہ اکیلا تھا اسے کوئی راستہ نہیں دکھ رہا تھا اس اندھیرے سے نکلنے کا۔ یہ اسکی زندگی کی سب سے بڑی ہار تھی وہ آنکھیں بند کرتا ہے وہ اپنے اپکو ایک رسی میں لٹکا پاتا ہے بلکل خاموش نہ اسکو کوئی پریشانی تھی نہ اسکو کسی بات کا غم تھا وہ اس دنیا سے چلا گیا تھا اسنے اسپنے آپکو بھی کھو دیا تھا جب آنکھ کھولتی ہے تو وہ خود کو مٹٰی میں پاتا ہے جہاں نہ اسکو کوئی سنے والا تھا نہ ہی اسکا کوئی اسکے پاس تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Qamer

Read More Articles by Rana Qamer: 2 Articles with 1779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 444

Comments

آپ کی رائے