شریف آدمی

(Saba Naz, )

وہ ڈرتی ہوئی بھاگے جارہی تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے انسانی روپ میں حیوان اسے نوچ کھائیں گے ۔
بچتی بچاتی ایک شریف آدمی سے آٹکڑائی جسے دیکھ کر وہ ہر ڈر بھول گئی۔
اس کے گھر میں پناہ لی۔
وہ یوں باتوں میں آگئی کہ اسی رات دونوں نے بنا مولوی کے خود اپنا نکاح پڑھوالیا ۔
صبح وہ اپنی خوش نصیبی پر فخر کر رہی تھی۔
مجازی خدا نے آکر کہا ، اب اپنے گھر جاؤ ۔
اپنے گھر ؟ وہ چونکی ، ہم نے نکاح کیا ہے
ہاہاہا۔۔ اب میں تمہیں طلاق دیتا ہوں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saba Naz

Read More Articles by Saba Naz: 13 Articles with 7940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2017 Views: 545

Comments

آپ کی رائے