میں سلمان ہوں(١١٨)

(Hukhan, karachi)
اس کی خاموشی ہی اس کی زبان ہے
ہر شے کائنات اس پر مہربان ہے
قیامت سے کیا کم اس کی مسکان ہے
خود سے کس قدر انجان ہے

روزی جیسے ہی گھرکے اندرونی حصےمیں پہنچی،،،ماں کو اپنا منتظر پایا،،،
ماں نے اضطرابی حالت میں روزی کو گلے لگا لیا،،،

روزی نے محسوس کیا،،،ماں کا جسم ایسے کانپ رہا تھا،،،جیسے ماں کے جسم
میں زلزلہ آیا ہوا ہو،،،
وہ اک خوفزدہ معصوم سی بچی کی طرح لگ رہی تھیں،،،روزی کو آج پتا چلاکہ
اس کی ماں کے جسم نے مسز کریم کے وجود کو خیر باد کہہ دیا ہے،،،
وہ مالکن سے اک عورت کے وجود میں ڈھلنا شروع ہو گئیں تھیں،،،اب وہ
صرف دو بیٹیوں کی ماں تھی،،،باقی سب روپ ان کے جسم کو خیر باد کہہ
چکے تھے،،،

ماں نے روزی کے چہرے کو ایسے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا،،،جسے چاند ان
کی دو ہتھیلیوں کے درمیان ہو،،،
روزی کے گال ماں کے پیار کی پھوار میں ایسے بھیگ رہے تھے،،،جیسے ان
کا پیار بادل اور روزی کا چہرہ بنجر زمین ہو،،،اور آسمان اس زمین کی قسمت
بدلنا چاہتا ہو،،،

روزی ماں کی کیفیت کو سمجھ رہی تھی،،،اس نے خود کو ماں کے حوالے کر
دیا تھا،،،اور کوئی بھی سوال پوچھنے سے خود کو روک رکھا تھا،،،
ماں کا پیار جنون میں بدل رہا تھا،،،وہ اس میں ڈوب جانا چاہتی تھی،،،
ایسا پیار ہر اولاد کے نصیب میں کہاں ہوتا ہے،،،

آج برسی ہے رحمت
منتظر تھا جسم جس کا

سلمان سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا،،،اپنی چیزوں کو سمیٹ کر اپنی جگہ
رکھنے کے بعد کمرے کی سیٹنگ پر نظر دوڑائی ،،،
ہر چیز سلیقے اور اپنی جگہ پر موجود تھی،،،سلمان نے سکون کا سانس لیا،،،آج
اسے خاموشی نصیب ہوگئی تھی،،،اس نے اپنے قدرے صاف اور قیمتی کپڑے
جوتوں پر نظر دوڑائیں،،،

گلی والی کھڑکی کھول دی،،،تازہ ہوا کے نرم سے جھونکے نے اس کے تھکے
ہوئے جسم کو ‘‘خوش آمدید‘‘ کہا،،،
سلمان نے اک اور لمبی سانس لی،،،
عرصہ ہوا بھوک سے واسطہ نہیں پڑا تھا،،،کوئی پیسوں کاطلبگار دروازے پر
نہ آیا تھا،،،

سلمان نرم سی ٹی شرٹ پہن کر بیڈ پر لیٹ لیا،،،آنکھیں بند کیں تو اک دم
سے آواز آئی،،،
‘‘تیس منٹ ہیں سلمان صاحب،،،،میں آنے والی ہوں،،،اپنے پھیپھڑوں میں
خوب ہوا بھر لو،،،‘‘
سلمان نے ندا کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا،،،

کیسے سو جاتا ہے وہ
نیند ہماری چرا کے
کہا ذرا مکھڑا دیکھا دو
بھاگ گیا چاند دیکھاکے

ندا نے شرارتی لہجے میں شعر پڑھا،،،پھر جھٹ سے بولی،،،جانے کس احمق
کا شعر ہے۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 863583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2017 Views: 648

Comments

آپ کی رائے
nice bhai
By: rahi, karachi on Nov, 28 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 29 2017
0 Like
sweet one brother
By: sohail memon, karachi on Nov, 28 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 29 2017
0 Like