احمد کا اﷲ پر بھروسہ اور خود اعتمادی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عالیہ ذوالقرنین،
احمد نے پانی میں ڈبکیاں کھاتی چیونٹی کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے اسے اپنی انگلی سے نکال کر خشکی پر رکھ دیا۔ چیونٹی کچھ قدم لڑکھڑا کر چلی اور پھر اپنے پیچھے پانی کی باریک سی لکیر بناتی پودوں میں غائب ہو گئی۔ چلو کوئی تو مایوسی سے نکلا۔ احمد نے اداس سی مسکراہٹ سے خود کلامی کی اور ہاتھ جھاڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
احمد 3بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ والد کسی سرکاری محکمے میں معمولی ملازم تھے۔ رزق حلال کماتے ہوئے وہ معاشرے کے اس سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں یکم آنے سے پہلے ہی تنخواہ ختم ہو جاتی ہے۔ احمد نے، یہ سوچ کر کہ اس کے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے، سخت محنت کی اور ہمیشہ امتیازی پوزیشن حاصل کی مگر اس کی وہ تمام خوش فہمیاں تین سال نوکری کی تلاش میں دھکے کھاتے کھاتے ختم ہو گئی تھیں۔
اب بھی وہ گھر کے قریبی پارک میں بیٹھا پچھلے ہفتے دئیے گئے انٹرویو کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں اسے پورا یقین تھا کہ وہ نوکری ضرور اس کا مقدر ٹھہرے گی مگر پھر نجانے رشوت کی جیت ہوئی تھی یا سفارش کی مگر وہ اس بار بھی ہار گیا تھا۔
ارے احمد! بیٹا تم کب آئے؟ ماجدہ خاتون نے احمد کو اپنے کمرے میں آنکھوں پر ہاتھ رکھے خاموش لیٹا دیکھا تو حیرت سے پوچھا۔
ابھی آیا ہوں امی جان، میں نے سلام کیا تھا مگر شاید آپ کچن میں تھیں اس لیے سن نہ سکیں، افسردگی اس کے لہجے سے عیاں تھی۔
کیا ہوا بیٹا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ پریشان کیوں ہو؟ ماں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے۔
کچھ نہیں امی! اس بار بھی دیے گئے انٹرویو والی نوکری کسی اور کو مل گئی۔کیا میں اسی طرح ناکام پھرتا رہوں گا؟ احمد نے مایوسی سے پوچھا۔
ارے... ارے، احمد یہ کیا بیوقوفی ہے! جس کا مالک اﷲ ہو اور وہ اس پر یقین بھی رکھتا ہو۔ بیٹا اسے ایسی مایوسی نہیں جچتی۔ وہ کریم تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے بھلا وہ ہمارے حالات سے واقف نہ ہو گا، ماجدہ خاتون نے احمد کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا۔
پھر امی جان میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا اﷲ کو نہیں پتا کہ میں کس مشکل میں ہوں اور مجھے نوکری کی کتنی سخت ضرورت ہے؟ احمد نے آج دل کی بات کہہ ہی ڈالی۔
وہ سب جانتا ہے،ماجدہ خاتون مسکرائیں۔ مگر یہ سب اس کی آزمائش کے طریقے ہیں پھر جب بندہ اتنی پریشانی میں بھی اس کا شکر ادا کرتا ہے تو کیا وہ اپنے فرشتوں کے سامنے اس بندے پر فخر نہیں فرماتا ہو گا۔ بیٹا جہاں ہماری برداشت کی حد ختم ہوتی ہے وہاں اس کی شان رحیمی و کریمی شروع ہوتی ہے جس کا وہ اپنے کلام پاک میں یقین دلاتا ہے کہ ’’اﷲ کریم کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہوں‘‘۔ بیٹا! جب مشکلات میں گھر جاؤ تو رب العزت اپنے کسی نیک کام کا واسطہ دے کر دعا کیا کرو وہ حدیث میں بیان کردہ غار میں پھنسے ہوئے 3لوگوں والا واقعہ یاد ہے نا، بے شک جب وہ نوازتا ہے تو حیران کر دیتا ہے۔
جی امی جان ! احمد کو آج ڈوبتی ہوئی چیونٹی کو بچانا یاد آگیا۔
اور بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا کہ مایوسی شیطان کا بڑا کاری وار ہے، جس سے وہ بندے کو اﷲ پاک کے دائرہ رحمت سے نکلوا دیتا ہے ۔
شکریہ امی! آپ نے میری سوچ کی یہ گتھی سلجھا دی۔ یقینا میرا محبت کرنے والا رب مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ میں غسل کر کے تازہ دم ہو جاتا ہوں آپ کھانا نکال دیں، احمد نے مسکراتے ہوئے کہا اور نہانے چلا گیا۔
احمد آج پھر ایک انٹرویو کے سلسلے میں ایک جگہ موجود تھا۔ اس نے کمپنی کی بلند و بالا عمارت پر ایک نظر ڈالی اور دوسری سے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ اے میرے رب! میں تیری رضا میں راضی ہوں۔
گرمی اپنے عروج پر تھی اور انٹرویو دینے والوں کی ایک کثیر تعداد ابھی موجود تھی۔ پتا نہیں میری باری کب آئے گی، اس نے پیاس کی شدت بے حال ہوتے ہوئے سوچا۔ جب صبر جواب دے گیا تو پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائی ۔ آفس کے ایک کونے میں پانی کا کولر رکھا نظر آیا ، اس نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر کولر کی طرف بڑھ گیا۔ گلاس بھر کر نگاہ دوڑائی تو کوئی چیز نہ پا کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا سنت کے مطابق 3گھونٹ میں پانی پی کر الحمد ﷲ کہا اور دوبارہ اپنی جگہ پر آگیا۔ احمد کو بیٹھے کچھ ہی منٹ گزرے تھے کہ ملازم آیا اور کہا ’’احمد کو باس بلا رہے ہیں‘‘۔
السلام علیکم سر! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ احمد نے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت لی۔
وعلیکم السلام ، جی آ جائیں، بیٹھیے۔ اپنے ڈاکومنٹس دکھائیں ۔ایک ادھیڑ عمر شخص نے چشمے کے اوپر سے احمد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
احمد نے اپنی فائل ان کی طرف بڑھا دی۔
ہوں۔۔ ویری گڈ۔۔ تھرو آؤٹ فرسٹ ڈویژن، ماشاء اﷲ۔ ادھیڑ عمر شخص نے ستائشی انداز میں فائل کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا۔ محمد احمد صاحب ہم اپنی کمپنی میں ملازمت کے لیے آپ کو سلیکٹ کر لیں تو کیا ہمیں کیسے یقین ہوگا کہ آپ ہماری امیدوں پر پورا اتریں گے۔ ادھیڑ عمر شخص نے مکمل توجہ سے احمد سے سوال کیا۔
سر! آپ یقین کرسکتے ہیں۔ مجھے اپنے رب پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ میری مدد کرے گا اور پھر اپنے آپ پر کہ مجھے اپنی ذمے داریوں کا احساس ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں اس کمپنی میں جس بھی پوسٹ پر ہوں گا وہ کام اور وہ پوسٹ میرے لیے ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔
ویلڈن! بہت عمدہ خیالات ہیں آپ کے۔ بہت جلد آپ کو فائنل کال کرتے ہیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا۔ احمد اس دن بغیر کسی مایوسی کے گھر لوٹ آیا۔ اگلے روز صبح احمد کے نمبر پر ایک کال موصول ہوئی۔ احمد صاحب بات کررہے ہیں۔ دوسری جانب سے مخاطب کیا گیا۔ جی احمد بات کر رہا ہوں ، احمد نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔ آج سے آپ ہماری کمپنی جوائن کر سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ابھی آپ آجائیں۔ باس کی آواز میں یقین تھا۔
ج... ج……. جی…… کیا واقعی سر! یا اﷲ! تیرا شکر ہے احمد نے اچانک ملنے والی اس نعمت پر بے ساختہ اﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا۔
جی واقعی آپ کو جاب دے دی گئی ہے مگر یہ جاب آپ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پر اعتمادی اور سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی بنیاد پر دی جارہی ہے۔ ہماری کمپنی کو افراد کے ساتھ ساتھ سچے مسلمانوں کی بھی ضرورت ہے۔ ادھیڑ عمر شخص جو اب احمد کے باس تھے مسکراتے ہوئے ویلکم کر رہے تھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2017 Views: 386

Comments

آپ کی رائے