نعت تطہیر نفس اور تعمیر سیرت کا بہت بڑا ذریعہ ہے

(Ishrat Javed, )
عالمی شہرت یافتہ نعت خواں نور محمد جرال (امریکہ )کا خصوصی انٹرویو
نور محمد جرال کا شمار پاکستان کے ان چند خوش قسمت نعت خوانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ ان کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے ان کی آواز میں خوش الحانی بچپن سے ہی اچھی ہے اور انہوں نے کمسنی میں ہی نعت خوانی شروع کر دی۔ نور محمد جرال متعدد بین الاقوامی اور قومی سطح کے نعت خوانی کے مقابلوں میں انعامات حاصل کر چکے ہیں۔ ریڈیو پاکستان پی ٹی وی سمیت مختلف چینلوں سے ان کی نعتیں ٹیلی کاسٹ ہوتی ہیں۔ وہ 4اگست 1960میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ۔پیشہ کے اعتبار سے وہ گرافک ڈیزائنر ہیں اور اسلامک آرٹ اور خطاطی ان کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر وہ کام بھی کر رہے ہیں ۔آ ج کل وہ امریکہ سے پاکستان خصوصی طور پر ’قومی سطح پر ہونے والی سیرتؐ کانفرنس‘ میں شرکت کے لئے آئے ہیں جو 12ربیع الاول کو ہو گی ۔گزشتہ دنوں ان سے خصوصی نشست ہوئی ،جس میں نعت خوانی اور ان کی اس حوالے سے مصروفیات کے بارے میں گفتگو ہوئی اور نور محمد جرال نے اپنے خوبصورت انداز میں نعت رسولؐ مقبول بھی پیش کی۔گفتگو کے منتخب حصے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں:
عشرت : آپ نے نعت خوانی کب شروع کی؟
نور محمد جرال:۔میری آواز بچپن سے ہی بہت اچھی ہے۔ گھر میں سب بہت اچھی نعت پڑھتے ہیں۔ گھر کے ماحول کی وجہ سے ہی میرا نعت خوانی کی طرف رجحان پیدا ہوا۔میرے بھائی ڈاکٹر طارق جرال مرحوم بھی بہت اچھے نعت خواں تھے ۔
عشرت : آپ کے کتنے نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور کیا آپ نے نعتیہ شاعری کے علاوہ بھی شاعری کی ؟
نور محمد جرال:الحمدﷲ ،میری 3نعتیہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں سے ایک 12ربیع الاول کو چھپ جائے گی(انشاء اﷲ)اور اس کے علاوہ میری ایک کتاب( محبت بانٹتے رہنا)غزلوں پر بھی مشتمل ہے۔ 1999 میں میری جو پہلی کتاب شائع ہوئی تھی۔ اس کا نام ’’عین نور‘‘ تھا۔ دوسری نعتیہ کتاب ’’وہ جو لفظ تو نے عطا کئے‘‘اور میری تیسری نعتیہ کتاب ’’تیرا ذکر قلزم خیر ہے‘‘طباعت کے آخری مراحل میں ہے۔
عشرت : آپ کو نعت خوانی میں کون کون سے ایوارڈ مل چکے ہیں؟
نور محمد جرال:۔میں اس حوالے سے بہت خوش قسمت ہوں کہ اپنے نعت خوانی کے کیریئر کے آغاز میں ہی میں نے بہت سی کامیابیاں اپنے دامن میں سمیٹ لی تھیں اور اس وقت مجھے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے انعامات اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ سب سے پہلے میں نے 1979میں وزارت مذہبی
امور کی طرف سے پہلی بار ہونے والے ’کل پاکستان نعتیہ مقابلہ ‘ میں پہلا ایوارڈ ملا اور پھر اس کے بعد 1983میں نعت گوئی کے حوالے سے ’ پی ٹی وی ایوارڈ ‘ تقریب میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بہترین نعت گوئی پر عالمی اردو مرکز (جدہ ) میں گولڈ میڈل سے نوازا گیا ۔اب تک میں 6گو لڈ میڈل حاصل کرچکا ہوں اور بھی بے شمار ایوارڈز ہیں جن میں’ نشان رومی ‘،’نشان جامی ‘ اور’ نشان اقبال ‘بھی شامل ہیں۔
عشرت : آپ نے ریڈیو اور ٹی وی پر کب نعت خوانی شروع کی؟
نور محمد جرال: 1976 میں ریڈیو پاکستان میں میں نے بطور نعت خواں پہلی ریکارڈنگ کرائی ۔پہلے پروگرام میں ہی میری نعت خوانی کے انداز کو بے حد پسند کیا گیا۔
عشرت :۔ آپ کی نعتوں کا کوئی البم بھی ریلیز ہوا ہے؟
نور محمد جرال:۔ جی ہاں!میرے11البم (والیم) انگلینڈ سے ریلیز ہوچکے ہیں۔ نجی مذہبی ٹی وی چینل نے میرے3ویڈیو البم ریلیز کئے۔
عشرت : نعت کے حوالے سے کیا آپ نے دوسرے ممالک میں سفر کیا ہے۔
نور محمد جرال:جی ہاں !میں آج کل امریکہ میں رہتا ہوں۔ اس سے پہلے میں سعودی عرب میں ہوتا تھا۔میں نے نعت خوانی کے حوالے سے مڈل ایسٹ کے علاوہ یورپ اور امریکہ سمیت قریباً14 ممالک کا سفر کیا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
عشرت :۔ نعتیہ شاعری کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالئے۔
نور محمد جرال:نعت دراصل محبت رسولؐ کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس میں ہم (شاعر) اپنی عقیدتوں کی وابستگی اپنے پیارے نبیؐ کے ساتھ کرتے ہیں۔نعت تاریخی اعتبار سے بہت قدیم صفت سخن ہے اورصدیوں سے مختلف زبانوں میں نعتیہ ادب تخلیق پا رہا ہے۔ نبی کریمﷺ کی بعثت سے 600سال قبل کعب بن لوی بن غالب نے اپنے اشعار میں نبی کریمﷺ کی تعریف لکھی۔جس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ بادشاہ جب یمن کی طرف سے فتوحات کرتے ہوئے طائف تک پہنچے تھے اور طائف میں آکر اس بادشاہ نے یہ کہا کہ میری کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ جو حجاز کا علاقہ ہے وہاں ایک نبی آئے گا جو کائنات کے لئے رحمت بن کر آئے گا۔ اب میری تلوار کو شرم آتی ہے کہ میں لوگوں کے سر قلم کرتا ہوا آگے گزرجاؤں لہٰذا میں واپس جارہا ہوں۔اس کے جو نعتیہ اشعار تھے۔ اس کا ترجمہ تھا کہ’’اگر میں اس نبی کے دور میں آتا تو میں اس کی اس طرح مدد کرتا جس طرح چچازاد بھائی اپنے بھائیوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔اسی طرح نعت کی تاریخ دیکھی جائے تو نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں حضرت علیؓ سمیت 46صحابہ کرامؓ باقاعدہ نعتیہ اشعار لکھتے تھے۔ جن کے نعتیہ اشعار آج بھی عربی زبان کی قدیم اور نئی کتابوں میں موجود ہیں۔ میرے پاس (موبائل) میں اس وقت14صحابہ کرامؓ کا کلام موجود ہے۔ ان میں جو مشہور ہوئے، ان میں حسان بن ثابتؓ، عبداﷲ بن رواھاؓ، عبداﷲ بن عباسؓ، حضرت سیدنا فاطمتہ الزہراؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور بے شمار لکھنے والے صحابہ کرامؓ (جونعت کہتے تھے)شامل ہیں ۔نعت گو ئی ایک بہت بڑی انفرادیت ہے۔ وہ اس طرح کہ کعب بن زہیر ایک ایسے صحابی تھے جنہوں نے قصیدہ لکھا۔ ’’بانت سعاد‘‘ یہ 163 اشعار کا قصیدہ تھا اور یہ انہوں نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلامؐ کی بارگاہ میں پیش کیا۔ اس کا ایک شعر تھاجس کا ترجمہ یہ ہے کہ:’’یارسول اﷲ ؐ !آپؐ ہندکی چمکتی ہوئی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں‘‘۔ تو ان کو یہ اعزاز ملاکہ حضورؐ نے ان اشعار کی درستگی کی ، یعنی نعت گو واحد وہ خوش بخت انسان ہے جس کو بحثیت صرف نعت کی تصحیح آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی۔ آپ ؐ نے فرمایا:’’کہ تم مجھے ہند کی طرف منسوب کرکے محدود کررہے ہو، میں تو کائناتوں کیلئے رحمت بن کر آیا ہوں بلکہ اس کو یوں کرو(ترجمہ)’’یارسول اﷲ !ؐ آپ ؐ اﷲ کی چمکتی ہوئی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں‘‘۔ برصغیر پاک و ہند میں نعت فارسی اور عربی سے سفر کرتی ہوئی اردو تک پہنچی ہے لہٰذا ہمارے موضوعات اور ہماری ترکیب میں اور ہمارے شعری محاسن پر ان دونوں زبانوں کا اثر زیادہ نظر آتا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات اور سیاسی اور سماجی تغیر و تبدل کی وجہ سے نعت کے موضوعات بدلتے رہے چنانچہ فضائل اور شمائل کے مضامین سے نعت استغاثے اور التجاؤں
کے مضامین تک پہنچی۔ ایک اپنے عصری مسائل سے باخبر نعت گواپنے مسائل تمام سختیوں کا استغاثہ نبی اکرمؐ کی بارگاہ میں پیش کرتا اور اس طرح موجودہ عہد میں لکھی گئی نعت اشوب زاد سے اشوب کائنات تک کا احاطہ کرتی ہے۔
عشرت : آج کل کے قصائد اور نعتوں کے معیار کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟۔
نور محمد جرال: نعت کے بارے میں ہمارے برصغیر کے ایک عالم امام احمدرضا بریلویؒ اپنے ایک جملہ میں نعت کی تعریف بیان کرتے تھے کہ ’’نعت لکھنا پل صراط کے اوپر سفر کرنے کے مترادف ہے جس کے ایک طرف الوہیت ہے تو دوسری طرف رسالت ؐہے۔آپ کہیں بھی لغو کریں گے دائرہ اسلام سے چلے جائیں گے‘‘۔ دوسری بات ہم جب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام ؐکی تعریف کرتے ہیں تو ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ حضورﷺ اور تمام انبیاء کرام ؑ کے جتنے اوصاف یا معجزات ہیں یہ اﷲ کے عطا کردہ ہیں ان کے ذاتی نہیں ہیں۔ذاتی اوصاف صرف اﷲ رب العزت کے ہیں۔ یہ عطا کردہ ہیں لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے اس کے پیچھے ایک پورا ایمان اور اعتقاد ہوتاہے۔ نعتیہ شاعری کہنے کیلئے حضور قلب کا ہونا نہایت ضروری ہے۔کوشش کرنی چاہئیے کہ نعت لکھنے سے پہلے بڑے بڑے شعرائے کرام کا کلام پڑھا جائے۔
عشرت :نعت خوانی کے آداب بیان کریں۔
نور محمد جرال:کسی بھی نعت گو کیلئے ضروری ہے کہ وہ قرآن اور سیرتؐ کے مطالعہ سے وابستہ ہو اور نعت گوئی کے حوالے سے اسکا علم اس کے سینے میں ہو۔نعت گوئی کیلئے ضروری ہے کہ قرآن ، حدیث اور سیرت رسولؐ سے کماحقہ ہو اس سے استفادہ حاصل کیا ہوا ہو۔مثال کے طور پر علامہ اقبال نے جو نعتیں کہی ہیں،اسی طرح مولانا ظفر علی خان یا ان سے پہلے مولانا حالی یا ان سے پہلے امیر مینائی یا ان سے پہلے امام احمد رضا بریلویؒ یا ان سے پہلے محسن کا کوروی یا ان سے پہلے فارسی میں آئی ہوئی نعت پڑھیں تو آپ سب دیکھیں کہ وہ سارے پڑھ لکھے لوگ تھے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ نعت پڑھنے کیلئے بھی اتنی ہی تعلیم کی ضرورت ہے جتنی نعت لکھنے کیلئے۔میرے نزدیک نعت خواں کا علم ،عمل اور کردار اگر اس کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تو وہ منافقت کررہا ہوتاہے۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ نعت خواں کا اسے پروفیشن بنانا غلط ہے کیونکہ نعت خوانی کوئی پیشہ نہیں ہے۔بلکہ نعت خوانی ایک وہ مقبول عمل ہے جو آپ کو، مجھے اﷲ کے رسول ﷺ کی قربت میں لے جاتا ہے اور رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قربت ہمیں اﷲ کی قربت میں لے جاتی ہے۔ میں آپ کو یہاں ایک بات بتاؤں۔ میں جب امریکہ سے پاکستان آرہا تھا تو جہاز میں کشف المحجوب جو میرے آئی پیڈ میں ہے اس کو پڑھنے لگا۔ ایک جگہ پر حضرت سیدنا علی ہجویریؒ نے لکھا ’’جو شیخ ہوتا ہے جسے ہم عرف عام میں پیر کہتے ہیں۔ اگر وہ اپنے مریدوں سے پیسے لے کر کھاتا ہے تو وہ سب سے بڑا شرک کرتا ہے‘‘۔
عشرت : کچھ لوگ گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
نور محمد جرال: آج کل جو نعت خوانی چل رہی ہے اس میں کچھ لوگ فلمی طرز پر نعت پڑھتے ہیں جو میرے نزدیک احسن اقدام نہیں۔اگرچہ کسی انسان کی آپؐ سے عقیدت کے اظہار کا کوئی بھی طریقہ غلط نہیں لیکن سادگی اور وقار کا طریقہ سب سے افضل ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا کوئی کلام یانعت گوئی آنحضورؐ کی عظمت کا پوری طرح احاطہ نہیں کرسکتے۔ یہ ہماری ادنیٰ کاوشیں ہیں جسے بارگاہ رسالتؐ میں قبولیت مل جائے تو سمجھیں ہماری آخرت سنور جائے۔ مجھے ایک خاتون ملی اور کہنے لگی کہ بھائی میں ایک پروگرام میں گئی تھی تو وہاں ایک نعت خواں نے نعت پڑھی اور وہ جو نعت پڑھ رہا تھا تو میں نے وہ مووی دیکھی ہوئی تھی تو اس مووی میں جو رقص تھا وہ مجھے یاد آگیا۔ کہتی ہے کہ مجھے بتائیں کہ میرا ایمان سلامت رہا ہے کہ نہیں۔میں نے کہا کہ آپ کا سلامت رہا ہے مگر جس نے پڑھی ہے اس کو خیر منانی چاہئے۔بعض نعت خواں یہ بھول چکے ہیں کہ یہ نہایت ادب و احترام کا مقام ہے جسے وہ اپنی کم علمی،فیشن کی نذر کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ‘‘۔ اسی لئے تو میں کہہ رہا ہوں کہ نعت خوانی کیلئے بھی اتنی ہی تعلیم ضروری ہے جتنی نعت کہنے کے لئے ۔نعت پڑھنے کے آداب کو بالکل نظرانداز کیا جارہا ہے تو یہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔یہ سب دنیاداری اور کسی حد تک پیسے کیلئے ہے۔نعت تطہیر
نفس اور تعمیر سیرت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔یہاں میں نعت کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا چاہوں گا کہ کعب بن زہیرؓ کا شمار اسلام کے ابتدائی دور کے شاعروں میں ہوتا ہے اور ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حضورؐ نے انہیں بطور انعام چادر عطا کی تھی ،کعب بن زہیرؓ فتح مکہ سے قبل حضور اکرمؐ کے بدترین دشمنوں میں شامل تھا آپؐ کی ہجو لکھتے تھے، فتح مکہ کے موقع پر جب اعلان ہوا کہ جتنے بھی دشمن ہیں ان سب کو معاف کیا جاتا ہے۔ کعب بن زہیرؓ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور منہ ڈھانپا ہوا تھا تو پیچھے سے ایک شخص جس کا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا نے سوال کیا ’ اگر کعب بن زہیر آجائے تو اس کو بھی معاف کردیا جائے گا؟‘۔ تو حضورؐ نے فرمایا کہ ہاں اس کو بھی معاف کردوں گا۔ اس نے اپنی چادر چہرے سے اٹھائی تو وہ کعب بن زہیر تھے وہ حضورﷺ کے قریب ہوئے تو کہا یارسول اﷲ ؐکلمہ پڑھنے سے پہلے میں آپؐ کی نعت پڑھنا چاہتا ہوں ۔یہ لکھ کے لایا ہوں (سبحان اﷲ)دوسرا یہ ہے کہ نعت آپ کے خیالات کو پاکیزگی دیتی ہے ،جب آپ اﷲ اور اس کے رسولؐ کو خیال میں رکھتے ہیں، اورذکر کرتے ہیں تو آپ کے چہرے اور دل کا ماحول بدل جاتا ہے ۔ میں اگر نعت خوانی کے موجودہ اصولوں پر عمل پیرا ہوں تو مجھے تو شرمندگی ہوگی۔
عشرت :نعت پڑھنے کیلئے جن بنیادی امور پر توجہ دینی چاہیے اور جن باتوں سے گریز کرنا چاہیے وہ کیا ہیں؟
نور محمد جرال:نعت خوان کیلئے دینی اور دنیاوی اعتبار سے معقول تعلیم ہونا لازمی ہے بالخصوص اس کو دینی لحاظ سے اتنی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ نعت کے لئے جس پاکیزہ ماحول کی ضرورت ہے۔ آ ج کل نعت خواں پھولوں والے رنگ برنگے کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ نعت کا ماحول نہیں ہے بلکہ یہ شو بز ہے ۔اگر چہ نبی ؐ کے ذکرکی محافل برکات کا باعث ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں ریا کاری بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ریا کاری ایسے کہ نعت خواں پر پیسے پھنکنا ایک فیشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد پیسوں کی نمائش کرنا ہے جو نعت خوانی کی محفل کی بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔آپ نعت خوان کو پیسے دیں میں یہ ہر گز نہیں کہتا کہ نہ دیں مگر لفافے میں ڈال کر عزت سے بھی دے سکتے ہیں کیونکہ پیسے پھینکنے کا مطلب بازاری انداز کہلاتا ہے یہ نعت کے شایان شان نہیں۔ نیز یہ غیر مسلموں اور دنیا کیلئے بھی غلط مثال قائم ہو رہی ہے ۔تو دوسری بات یہ ہے کہ نعت خوان کو چاہیے کہ وہ کسی سینئر اور باقاعدہ کسی نعت خوان سے نعت خوانی کی تربیت لے۔ میں ایک مرتبہ ایک جگہ نعت پڑھ رہا تھا آپ کو تو پتہ ہے کہ الفاظ کی ادائیگی کی اصناف میں ایک صنف’ اضافت‘ ہوتی جیسے ’شب عاشور‘ ۔میں نے جب نعت پڑھی تو ایک مصرے میں دو اضافتیں موجود تھیں ۔میرے استاد اعظم چشتی بھی وہاں موجود تھے اور میں ان کی لکھی ہوئی نعت ہی پڑھ رہا تھا ،نعت پڑھتے ہوئے میری ایک اضافت کے بعد سانس ٹوٹ گئی پھر میں نے دوسری اضافت سے نعت پڑھنا شروع کیا تو میرے استاد اعظم چشتی ؒ نے میری نعت بند کر ا دی اور کہا کہ آپ نے اضافت توڑی ہے جو بد مزگی کا باعث بنتی ہے۔ اگر ایک مجمع میں 500لوگ ہیں اور اگر ان میں سے کوئی10لوگ اہل علم ہیں تو انہیں زبان سے لگاؤ بھی ہو تو وہ لوگ بد مزہ ہو نگے۔یہ سب باریکیاں ہمارے اساتذہ نے ہمیں سکھائی ہیں ۔
عشرت :آپ کے پسندیدہ نعت خوان اور نعت گو کون کون ہیں۔
نور محمد جرال:نعت خوانی میں میرے استاد الحاج محمد علی ظہوری قصوری مرحوم اور محمد اعظم چشتی جبکہ نعت گوئی میں میرے استاد پروفیسر محمد حفیظ تائب ہیں۔ وہ ہی میری نعتیہ شاعری کی اصلاح کرتے رہے۔ اس عہد میں ان سے اچھا اور کوئی نعت کا استاد نہیں ہے۔اس سے پہلے میں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر نعت خوانی کا باقاعدہ نصاب مرتب کریں اورترتیب دیں کہ نعت لکھنے والا کیسا ہوناچاہیے اور نعت کس طرح لکھی جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو گی کہ حفیظ تائب نعت کا نصاب رکھتے ہیں۔ پرائیڈ آف پرفارمنس حفیظ تائب کی اب تک11کتابیں نعت پر ہیں۔ اب ان کی کلیات آئی ہے۔ میں نے ان جیسا باعمل انسان نہیں دیکھا۔ محمد اعظم چشتی ہیں جو پرائیڈ آف پرفارمنس تھے یہ وہ شخص تھے جونعت کو مسجد سے اٹھا کر ایوانِ صدر تک لے گئے۔ مجھے نعت گوئی میں علامہ اقبال کی نعتیں بہت پسند ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بہت کم نعتیں لکھیں مگر جو لکھی وہ کمال ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نعت لکھنے میں ان کا انداز سب سے مختلف ہے۔ نعت گو کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ خصائل و شمائل رسولؐ کے علاوہ اپنے عہد کے مسائل کا بھی تذکرہ کرے یہ بہت ضروری ہوتا ہے جیسا کہ
مولانا حالی کہتے ہیں کہ
اے خاصہ خاصان رسلؐ وقت دعا ہے
امت پہ تیری عجب وقت آن پڑا ہے
اسی طرح مولانا ظفر علی خان کانعت گوئی کا انداز بھی نہایت عمدہ تھا۔یہ نعت ہی ہے جو تبلیغ کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ محبت کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے،یہ تعلیم کا ذریعہ بھی ہے ،یہ تطہیر کا ذریعہ بھی ہے ،یہ جذبوں کے پاکیزہ اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔
عشرت :ہمارے عہد اور ماضی قریب کے وہ چند نعت گو جنہیں نمائندہ نعت گوئی بھی کہا جاسکتا ہے۔
نور محمد جرال : ہمارے عہد کے نمائندہ نعت گو حفیظ تائب، احمد ندیم قاسمی، صاحبزادہ نصیرالدین نصیر، ڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر خوش رضوی، حافظ لدھیانوی، حافظ مظفرالدین اور اعظم چشتی کے نام قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح معتقدین شعرأ میں احمد رضا بریلوی، محسن کاکوروی، امیر مینائی، الطاف حسین حالی،علامہ اقبال اور مولانا ظفرعلی خان کا کلام محبت رسولؐ سے بھرپور ہے۔
عشرت :آپ گرافک ڈیزائنر بھی ہیں اور اسلامک آرٹ اینڈ کیلی گرافی کے حوالے سے نمائشیں اور ورک شاپس کراتے رہتے ہیں۔ اب تک آپ کتنی نمائشیں کراچکے ہیں اور ان کے بنیادی مقاصد کیا ہیں؟۔
نور محمد جرال:میں اب تک خطاطی کی 7 نمائشیں شمالی امریکہ اور یورپ میں کرا چکا ہوں ،اب پاکستان میں بھی ایسی کوئی نمائش یا ورکشاپ کا ارادہ ہے ۔دنیا میں چونکہ مختلف تہذیبں اور مذاہب ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔نئی نسل کے مسلمان اپنے شناخت کے حوالے سے شک وشبہ میں مبتلاہیں۔ کبھی دہشتگردی ان کے نام لگادی جاتی ہے۔ کبھی انتہاپسندی کبھی غاصبانہ حکمرانی ان کے نام آتی۔ان تمام سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنا آرٹ اور کلچر دنیا کے سامنے پیش کریں اور اس میں خطاطی، مصورانہ خطاطی اور روایتی خطاطی اور اسلامی خطاطی کودنیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ دنیا کے لوگ ہمارے بارے میں منفی سوچتے ہوئے کسی مثبت زاویہ سے بھی سوچیں۔بیرون ممالک میں ایک ٹرینڈ بہت اچھا ہے۔ وہاں مختلف اسلامک سنٹر میں اسلامی خطاطی کی بنیادی تکنیک بچوں اور نوجوان نسل کو بتائی جاتی ہے وہ اپنے مذہب کے ساتھ دلچسپی کے ساتھ جڑے رہیں۔موجودہ دور میں مختلف کلچر زنے ذہنوں کو خراب کیا۔ اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی تشخص برقرار اور مکمل نظر آنے کیلئے ان کو اسلامک خطاطی اور کلچر کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
عشرت :آپ کی فیملی میں سے کوئی اور بھی نعت گوئی کا شوق رکھتا ہے؟۔
نور محمد جرال:ہماری پوری فیملی میں سب بہت اچھی نعت پڑھتے ہیں ،میرے دونوں بیٹے امریکہ میں رہنے کے باوجود نعت سے ذوق رکھتے ہیں مگر ابھی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے محافل میں حصہ نہیں لے پاتے۔
عشرت :آپ نئے آنے والے نعت خوانوں اور انصاف کے قارئین کیلئے کیاپیغام دینا چاہیں گے۔
نور محمد جرال:نعت پڑھنے کے لئے آواز کا حسن تو بہت ضروری ہے جو اﷲ کا عطا کردہ ہے ۔مگر نعت خواں کو اپنا علمی معیار بڑھانا چاہیئے تاکہ کلام کا انتخاب کرتے وقت ادب و احترام اور کلام کے صنفی محاسن کا احساس ہو۔ کیونکہ نعت کا اپنا تشخص ہے۔ اس کو اسی طرح پڑھنا چاہیئے۔ نعتیہ محافل میں غیرسنجیدہ لوگوں کے وجہ سے سنجیدہ افراد جو نعت سے دور ہوتے جارہے ہیں ان کواچھے کلام اور مہذب انداز سے واپس لانا ہے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51744 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2017 Views: 1505

Comments

آپ کی رائے
مجھے آج کافی عرصے کے بعد اپنا انٹرویو اس ویب سائٹ پر دیکھ کر دلی مسرت ہو محترمہ عشرت جاوید صاحبہ نے نہایت ذہانت سے یہ انٹرویو کیا تھا جو روزنامہ انصاف میں شائع ہوا تھا۔ جریدے کے مدیر حافظ محمد اقبال صاحب نے اچانک اس کا اہتمام کیا تھا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اسے پڑھیے شاید نعت کےموجودہ منظر نامے کے بارے میں کچھ حقیقتوں سے اختلاف کر کے میں نے موجودہ طریقۂ نعت خوانی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ آپ بھی ؛ڑھیے۔ اید آپ بھی مجھ سے متفق ہوں۔
By: Noor Jarral, Washington DC, USA on Apr, 26 2020
Reply Reply
0 Like