پاکستانی اسلام ایک بار پھر خطرے میں ہے

(Abdul Hafeez Azad, )

 ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ قبل کی بات ہے جب اسلامی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پورے ملک میں بینرز آویزں کیے گئے تھے ’’مووآن‘‘ نامی جماعت جو کہ اس سے قبل کسی نے دیکھی ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو اس تنظیم کے بارے میں اتا پتا ہے مگر حیرت ا س بات پر ہے کہ ایک برائے نام تنظیمی گروہ نے ایک ہی رات میں منظم انداز سے پورے ملک میں انتشار کی فضاء قائم کردی اور اس سے بڑی حیرت تب ہوئی جب دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی بھی بینرز لگانے والوں سے لا علم نکلی۔ جناب سپہ سالار سابق راحیل شریف کی مراد بر نہ لائی ۔ہانکے کام آئے نہ بینرز۔ جنگ بندی لائن پر شروع کی جانے والی گولہ باری بھی انہیں اپنے منصب پر قائم نہ رکھ سکی مگران کے ملازمت پسند انہ اقدامات کے اثرات کنڑول لائن پربسنے والے کشمیری آج بھی سہنے پر مجبور ہیں ۔

جنرل راحیل شریف کے دور میں اسلام آباد میں ہانکے لگانے کا عمل شروع ہوا جو انکے چلے جانے کے بعد بھی اسی شدومد کیساتھ جاری ہے ۔عمران خان کے ہانکے میں خالص مغربی کلچر، ناچ گانا اور اوئے ،تو ۔۔تا ں ہوتی رہی مگر گزشتہ ماہ ہونے والے ہانکے میں خالص اسلامی گالیوں سے نوازا جا تا رہا ۔تحریک لبیک کے سربراہ نے نہ کسی مذہبی شخصیت کو بخشا ور نہ ہی کسی سیاسی راہنما پر ترس کھایا ۔ 20روز تک جمے رہنے والی اسلامی محفل میں صرف سپہ سالار اور جانثاران سپہ سالار ہی وہ بر گزیدہ مخلوق تھی جو علامہ مولانا خادم رضوی کی عنایات سے محفوظ رہی ۔عدالتی حکم پر دھرنا ختم کرنے کی سول انتظامیہ کی کوشش ناکام ہونے پر حکومت نے فوج کو آپریشن کرنے کاحکم دیا مگر فوج نے اپنے لوگوں پر گولی چلانے سے مکمل انکار کردیا۔پاک فوج نے اسلام بچانے کے نیک مقصد کیے لیے دھرنا دینے والوں کیساتھ مذاکرات کرکے بطور ثالث دھرنا ختم کرایا اور مظاہرین کو زاد راہ دیکر باعزت طریقے سے رخصت کر کے دینا کی رحم دل فوج ہونے کا ثبوت دیا۔ رحم دلی کی یہ مثال صرف اسلام آباد کے لیے ہی ہے کنٹونمنٹ ایریاز ،سوات ،کشمیر ،کراچی اور بلوچستان میں بسنے والے کسی ایسی رحم دلی کے منتظر نہ رہیں ۔مظاہرین کے ساتھ رحم دلی برتنے پر ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں نے فوج کو بدنام کرنے کی مہم برپا کردی جس کے ردعمل میں کچھ محب وطن عناصر نے ایک بار پھر ایک ہی رات میں ملک کے مختلف حصوں میں بینرز آویزاں کر کے دشمنوں کو کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ایسا ہی ایک بینرمظفرآباد میں مرکزی ایوان صحافت کے مرکزی دروازے کے سامنے دیوار پر چسپاں ہے ۔بینرز میں فوجی سربراہ کی فوٹو کیساتھ دھرنا ختم کرانے پر شکریہ اد ا کیا ہے اورمنجانب میں اہلیان مظفرآباد لکھا گیا ہے ۔

جرمن فلا سفر والٹر بنجمن نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اصل حکمران کون ہیں تو اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو کس طبقے پر تنقید کیاجازت نہیں‘‘ جرمن فلا سفرکا قول تو خادم رضوی کے دھرنے تک سچ ثابت ہوتا رہا مگر دھرنا ختم ہونے کیساتھ ہی سوشل میڈیا پرشروع ہونے والی دھمال اور ’’شربت بوٹ سیاہ ‘‘کے اشتہارات نے اسے جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی مگر ابھی تک شرپسند عناصر مکمل کامیابی سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔دھرنے والوں سے کامیاب مذاکرات پر لعن طعن کرنے والی ایک خاتون کا ٹویٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا۔ بوٹ سیاہ کی مارکیٹنگ کرنے والے بھی آخر کب تک خیر منائیں گئے، پاکستان مذہب کے نام پر حاصل کیا گیا اور اس ملک کے قیام میں ہزاروں شہیدوں کا لہو شامل ہے ،ملک کا ہر شہری سچا مسلمان اور پکا عاشق رسول ﷺبھی ہے ۔نیک مقصد کے لیے دھرنا دینے والوں اور اس سے بڑھ کر نیک مقصد اور ملکی وقار کیلئے دھرنا ختم کرانے والوں کیخلاف شیر انگریزی پھیلانے والے اپنی خیر منائیں کیونکہ اب ملک وملت کے ہر فرد کے پاس کفر کا فتویٰ، عذاری کا سرٹیفکیٹ ،قادیانی،مرتد ،دھر یہ قرار دینے کا اختیار ہے۔ ایسا نہ ہو کہ شر پسند کسی سر فروش اسلام کے ہاتھوں مردار موت مر جائیں اور ان کا 10سے 20 فیصد تک استعمال ہونے والا فتوری ذہن قبر کے کیڑوں کی غذا بنے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھٹو نے مملکت پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش کی تو ان ہی سرفروشان اسلام نے ملک کے طول و عرض میں تحریک ’’نفاذ نظام مصطفی ‘‘ شروع کر کے ملک کو بچایا اور بھٹو کو اقتدار سے الگ کیا۔ضیائی کوڑوں پر چیخ و پکار کرنے والوں کو یہ علم ضرور ہونا چاہیے کہ اسلام نے کوڑے مارنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔میرے ہم وطنو ملک میں اسلام کو ایک بار پھر خطرہ لاحق ہے کیونکہ کرپٹ سیاستدان ملک کو اسلامی تشخص تک چوری کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک پاک فوج اس ملک میں موجود ہے وہ اپنے مذموم مقاصد میں کسی صورت کامیاب نہیں ہونگے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Hafeez Azad

Read More Articles by Abdul Hafeez Azad: 3 Articles with 1188 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Dec, 2017 Views: 521

Comments

آپ کی رائے