ماھی بے آب (٣٩)

(Mini, mandi bhauddin)

باسط واپس آیا تو شفیق کھانے کی ٹیبل پر اس کا منتظر تھا،،،
یاد آ گیا کہ واپس گھر بھی جانا ہے،،، بس آفس سے گھر،،،گھر سے آفس آج
پارک کے راستے پر کیسے بھٹک کے چلے گئے کہ وہیں کے ہو کر رہ گئے،،،
اس پر نظر پڑتے ہی شفیق بولنا شروع،،،جیسے کسی نے بٹن دبایا اور مشین چلنے
لگی،،،
اوہ،،،باسط نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑائی تو وقت کا احساس ہوا،،،
یار سوری پارک سے مارکیٹ چلا گیا تھا،،،
پتا ہی نہیں چلا وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے،،،

اس کے آخری جملے پر شفیق نے جلی کٹی نظر اس پر ڈالی،،،اب مہربانی کرو
اور بیٹھ کے کھالو،،، باسط نے بمشکل چند لقمے کھائے اور اٹھ کے جانے
لگا،،،

کہاں جارہے ہو،،،کھانا بھی برائے نا م کھایا ہے،،،شفیق نے پوچھا
کمرے میں تھک گیا ہوں،،،اچھا ویسے آج کھانا پکانے کی باری آپ کی تھی
جو آپ گول کرگئے،،،اب چائے کاکیا ارادہ ہے؟؟؟

کچھ لمحے وہ خاموش کھڑا رہا پھر کچن میں آگیا،،، چائے کے لیے مطلوبہ
سامان ساس پین میں ڈالا ،،،برنر جلا کر خاموشی سے کھڑا دیکھنے لگا۔
برتن میں موجود دودھ میں اک ٹھہراؤ سا تھا،،،اک محسوس ہوتا سکون،،،

اک دم سے آگ کے شعلوں نے کی تپش نے اپنا کام دکھایا،،،ایک کونے سے
ایک ننھا سا بلبلا اٹھا،،،اک سے دو،،،پھر تین،،،یکدم اس ٹھہراؤ میں بھونچال
پیدا ہوگیا،،،
جیسے انسان کی ہنستی مسکراتی زندگی،،،ہر لمحہ سکون بھرا،،،اس سکون
میں کوئی خلل آئے اور سب منتشر کر دے،،، ایسے کہ گمان بھی نہ ہو کہ
یہاں کبھی سکون کا ڈیرہ تھا،،،

کیا کرتے ہو یار،،،اس نے چونک کر شفیق کی طرف دیکھا،،،چائے کب سے ابل
رہی ہے،،،کہاں کھوئے تھے،،،اس سے اچھا میں ہی بنا دیتا یہ بھی،،،
جاؤ تم میں لے کر آتا ہوں،،،اسے خاموش دیکھ کر شفیق نے نرم لہجے میں کہا،،

پتا نہیں چائے میں کون سے غورو فکرہو رہے تھے،،،شفیق کی بات پر باسط کو
بے ساختہ ہنسی آئی،،،واقعی آج وہ کچھ ذیادہ ہی کھویا کھویا تھا،،،
پر نجانے کہاں،،،اور،،،کس میں،،، وہ خود بھی حیران تھا،،،

دوسری طرف مایا بھی کسی ایسی سوچ میں تھی،،،جب بھی اسے دیکھا ہربار
یہی محسوس ہوا جیسے اس سے کوئی گہری وابستگی ہو،،، کیا تھا،،،کیوں
تھا،،،یا کیسا تھا،،،پر کچھ تو تھا،،،
پہلی بار اسے گھر کے باہر دیکھ کر کچھ تو تھا جو دل نے محسوس کیا تھا
جانے انجانے میں گزرے کئی دنوں میں اس کی سوچ نے کئی بار دماغ کا
در کھٹکایا تھا،،،
کیا واقعی؟؟،،،،،،(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mini

Read More Articles by Mini: 57 Articles with 35328 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2017 Views: 559

Comments

آپ کی رائے
very niceMini bohoth khoob.....
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks sister,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Dec, 15 2017
0 Like
v nice epi kamal ka tha :)
By: Zeena, Lahore on Dec, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks sis,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Dec, 15 2017
0 Like
har roz wo qalam say kamal karta hay,,,,,,janay kasay wo ye sab bar bar karta hay
By: hukhan, karachi on Dec, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Nice,,,,,Thanks a lot
By: Mini, mandi bhauddin on Dec, 14 2017
0 Like