سقوط ڈھاکا کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جا سکی؟

(Anwar Abbas Anwar, )

عوام اس وقت بیرونی ذرائع ابلاغ ( نشریاتی اداروں ) پر اعتماد کرنے لگتے ہیں جب ملکی نشریاتی ادارے عوام کی یہ ضرورت پوری کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں جب اس کے خلاف پاکستانی عوام سراپا احتجاج تھے تو ایوب خان نے پاکستان کے واحد ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن کو حقائق بتانے سے منع کردیا تو لوگ بھارتی اور برطانوی نشریاتی اداروں کو کان لگا کر سننے لگے ، جس سے غلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔

ایسے ہی1977 کے انتخابات کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (نوستاروں والے پرچم اور ہل کے انتخابی نشان والے)نے اتخابی نتائج قبول کرنے سے انکار کیا اور تحریک نفاذنظام مصطفی کے نام پر ملک میں شورش برپا کی تو بھٹو صاحب کی حکومت نے بھی ملک کے واحد سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) سے خبریں چھپانی شروع کیں تو تو لوگوں نے ایکبار پھر بھارتی اور بی بی سی لندن قیام پاکستان کے قریبا پچیس سال بعد ہی مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوگیا یا کردیا گیا یہ دل خراش سانحہ دسمبر اکہتر میں رونما ہوا، سولہ دسمبر کو ڈھاکاکے پلٹن میدان میں دنیا کی بہترین فوج کو دشمن فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ 26 مارچ 1971 کومشرقی پاکستان میں پاک فوج کی جانب سے علیحدگی پسندوں بقول بنگلہ دیشی حکام حریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا، ان علیحدگی پسندوں کو دشمن بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی،مکتی باہنی محض ایک گروہ نہیں تھا بلکہ مکمل افواجی یونٹ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ارکان کو بھارت میں باقاعدہ فوجی تربیت و اسلحہ بارود و نگرانی دستیاب تھی۔بمطابق پاکستانی میڈیا و اسٹبلشمنٹ)۔
26 مارچ 1971 سے 16 دسمبر1971 تک کی اس لڑائی میں مختلف روایات کے مطابق 3 لاکھ سے 30 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔کئی مہینوں سے جاری یہ گوریلا جنگ میں بھارتی افواج نے مشرقی پاکستان میں داخل ہوکر بنگالی علیحدگی پسندوں کے ساتھ ملکر محبان پاکستان کا قتل عام کیا۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے اور پاک فوج کا ساتھ دینے والی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ لوٹ مار کا بازار گرم رکھا گیا اور اسکا سارا الزام و بہتان پاک فوج پر دھرا گیا۔

اس جنگ کا خاتمہ سولہ دسمبر 1971 کے دن بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، اس سے بھی بہت پہلے مشرقی پاکستان میں آزادی کا اعلان ہوچکا تھا بنگالی بنگلہ دیش کے پرچم لہرا رہے تھے اور بنگلا دیش کے نغمے بجارہے تھے۔اس جنگ میں جنگ عظیم دوم کے بعد اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے اور فوجی قیدی بنائے گئے ۔ سولہ دسمبر1971 آنے سے قبل ہی کئی فوجی آفیسر کسی نہ کسی طرح مشرقی پاکستان سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بیس دسمبر1971کو نصف شب کو ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپا گیا، انہوں نے پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لا ء ایڈمنستریٹر اور صدر مملکت کا منصب سنبھالا، اپنی پہلے قوم سے خطاب میں مشرقہ پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا، اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمودالررحمان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 1956 کے تحت قائم کیا گیا۔ یہ کمیشن میں جسٹس حمود الررحمان چیف جسٹس آف پاکستان بحثیت صدر، جسٹس انوار الحق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس طفیل علی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ،عبدالررحمان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ پر مشتمل تھا جبکہ لیفنٹنٹ جنرل الطاف قادر کو کمیشن کا ملٹری ایڈوائزر اور اسٹنٹ رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان ایم اے لطیف کو کمیشن کا سکریٹری مقرر کیا گیا۔

اس کمیشن کے ذمے تھا کہ وہ ان حالات کی تحقیقات کرے ،جن کے تحت ’’کمانڈر ایسٹرن کمانڈاور ان کی زیر کمان پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کی افواج کے آگے ہتھیار ڈالے‘‘ کمیشن نے کئی ماہ کی محنت سے ایک عبوری رپورٹ حکومت پاکستان کے حوالے کی اور پھر کئی مہینوں تک اپنا کا تسلسل سے جاری رکھا اور دوسری رپورٹ مکمل کرکے اپنے فرائض کی تکمیل کی۔ اس کمیشن نے متعدد افراد کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمات چلانے اور کچھ کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارشات پیش کیں اس کے ساتھ کمیشن نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان حالات و واقعات کا احاطہ کیا جن کے باعث پاک فوج کو ہتھیار پھیکنے پڑے۔
کے کے عزیز کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے ایک رائٹر کی حثیت سے ان کا نام معتبر سمجھا جاتا ہے۔ ان کی بیگم مسز خورشید عزیز کا کہنا ہے کہ حمود الررحمان کمیشن رپورٹ کئی بکسوں پر محیط تھی ۔

کتنے ستم طریفی کی بات ہے کہ ہم اپنے دیس کی خبریں باہر کے ذرائع ابلاغ سے حاصل کرتے ہیں اور ان خبروں پر ہم پاکستانی اطمینان کا اظہار بھی کرتے ہیں، ایسی نوبت تب آتی ہے جب ہمارے ذرائع ابلاغ کو سچے حقائق عوام سے چھپانے کے احکامات ملتے ہیں، یہ صورتحال بری تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ایسے حمودالررحمان کمیشن رپورٹ کے ساتھ ہوا۔ ہم پاکستانیوں کو حمود الررحمان کمیشن کی رپورٹ کے مندرجات پڑوسی ملک جو ہمارا جانی اور ازلی دشمن بھی ہے اس کے ذرائع ابلاغ کے توسط سے ملتے ہیں۔
سقوط مشرقی پاکستان کو چھیالیس سنتالیس سال بیت گئے لیکن اس کی علیحدگی کے اسباب و عوامل سے ہم آج بھی لاعلم ہیں،۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تلخ حقائق عوام کے سامنے نہیں لانے ہوتے تو پھر حمودالررحمان قسم کے تحقیقاتی کمیشن کیوں قائم کیے جاتے ہیں؟ مشرقی پاکستان کی علیحدگی جیسے کرب ناک سانحہ کے باوجود ہمارے حکمرانوں اور اداروں کے رویئے میں تبدیلی نہیں آئی ۔ ہم صوبوں کے ساتھ برابری اور رواداری کے مطاہرے کرنے کی بجائے آج بھی ان کے ساتھ آقا اور غلام جیسا سلوک کررہے ہیں اسلام آباد نے تاج برطانیہ کی جگہ لی ہوئی ہے جبکہ باقی سب غلام بنا کے رکھے ہوئے ہیں اور توقع یہ رکھتے ہیں کہ دنیا ہمارے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرے ……ہے ناں دیوانے کی’’ بڑ‘‘ والا معاملہ۔

حمود الررحمان کمیشن رپورٹ کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی وجوہات یہ بتائی جاتی ہیں کہ اس رپورٹ کی اشاعت سے ’’ ہمارے جوانوں ‘‘ کا مورال ڈاؤن ہونے کا اندیشہ و احتمال تھا۔ اور رپورٹ کو پوشیدہ رکھ کر پاکستانی قوم کے ذہنوں میں بہت ساری ایسی باتیں بٹھانے کی کوشش کی گئی جن سے وہ سیاستدانوں سے بیزار ہوجائیں ،عوام میں یہ تاثر دیا گیا کہ مشرقی پاکستانی علیحدگی ذوالفقا ر علی بھٹو کی ہوس اقتدار کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ یہ نہ کہتا کہ جو ڈھاکہ قومی اسمبلی کے اجلاس مین شرکت کے لیے گیا اسکی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور جو جانا چاہتا ہے وہ یکطرفہ ٹکٹ لیکر جائیں۔ یہ شوشہ بھی چھوڑا گیا کہ اگر بھٹو صاحب مجیب الررحمان کو اقتدار دیدتے تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی نوبت نہ آتی اور نہ ہی پااااکستانی فوجی قیدی بنتے۔

سقوط ڈھاکہ کا سارا ملبہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ذوالفقا ر علی بھتو، شیخ مجیب الرڑحمان اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی پر ڈالدیا گیا، کہ ان تینوں کی ملی بھگت اور سازش کے باعث مشرقی پاکستان الگ ہوا۔ کوئی فوجی مورخ اور اسٹبلشمنٹ کے تنخواہ دار مورخین نے کبھی مشرقی پاکستان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں ، اختیاری کی گئی ناہموار معاشی و اقتصادی پالیسیوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور نہ ہی قوم کو یہ بتاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے عوام کی امیدوں ی محور قائد اعطم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا۔ طاقت کے نشے میں مخمور ایوب خان اور اسکی انتظامیہ نے کیسے اسے انتخابات میں شکست سے دوچار کیا؟

پاکستان کی تاریخ لکھنے والے غیر ملکی مورخین نے تو حالات کی مکمل تصویر کشی کی ہے لیکن اپنے دیسی مورخین نے اسٹبلشمنٹ کی لکھی لکھائی کہانی میں تھوڑا بہت مصالہ لگا کر ری پروڈیوس ہی کیا ہے۔ کسی نے نہیں لکھا کہ بھائی اقتدار کے سنگھاسن پر تو فوجی جنرل آغا محمد یححی خان براجمان تھا یا اسکی فوجی ٹیم ایوان اقتدار میں مزے لے رہی تھی۔ انتکابات بھی جنرل یححی خان نے منعقد کروائے اور اقتدار کی منتقلی بھی اسکی کی ذمہ داری تھی۔ اگر شیخ مجیب الررحمان کو اقتدار یححی خان اور اسکی فوجی جنتا نے منتقل نہیں کیا تو اس میں بھٹوکا قسوروار کیسے ٹھہرا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anwer Abbas Anwer

Read More Articles by Anwer Abbas Anwer: 203 Articles with 94092 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2017 Views: 451

Comments

آپ کی رائے