بیت المقدس کا تحفظ

(Mohsin Shaikh, hyderabad)

بیت المقدس جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول تھا۔ جہاں آخری الزماں پر نور حضرت محمدﷺ نے معراج کی شب تمام انبیاء کی امامت کی۔ پھر معراج پر اللہ کے در پر تشریف لے گئے۔ بیت المقدس پر کنڑول حاصل کرنے کے لیے کئی صلیبی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ بعد از سلطان صلاح الدین ایوبی نے آخری صلیبی جنگ میں بیت المقدس کو فتح کرلیا تھا۔

یوں صلیبی جنگیں اختتام پزیر ہوگی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے جنگ کا طبل بجا کر یہودیت کو فلسطین میں آباد ہونے کا عندیا۔ عرب باغی جنگجوؤں نے اسرائیل کو مدد فراہم کیں۔ یہودیت نے پہلے ہی سے فلسطین پر نظریں جما رکھی تھی۔

صدر ٹرمپ نے بیت المقدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کرکے اسرائیل کے مذموم عزائم کی تکمیل کرکے پورے عالم اسلام کو اشتمال دلا دیا۔ عالم اسلام سمیت بعض یورپی ممالکوں نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کی شديد مزمت کیں ہیں۔ ٹرمپ حکومت اسرائیل نواز حکومت ہے۔

ٹرمپ کی جارہانہ پالیسیاں خود امریکہ کے لیے نقصانات کا باعث بنے گی۔ ٹرمپ کا امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حالیہ اعلان بین الاقوامی اور اقوام متحده کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے منافی ہیں۔ امریکہ کے اس جارہانہ اقدام سے علاقائی امن و استحکام بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ مشرق وسطی میں قیام امن کی تمام تر کوششیں رائیگاں جائے گی۔

اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان سنتے ہی نہتے فلسطینوں پر جارہانہ حملے شروع کردیے ہیں۔ اسرائیل کی معصوم فلسطینوں پر ظلم بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک اسرائیلی پولیس والا ایک معصوم فلسطینی بچہ جسکی عمر تقریباً چھ یا ساتھ سال ہوگی ننھے فلسطینی کو گلے سے دبوچ کر اسکے اوپر بیٹھا ہے۔ بعد از ننھا فلسطینی جان کی بازی ہار گیا۔ یہ ظلم کی انتہا ہے۔ بچوں عورتوں بوڑهوں اور کمزوروں کو مارنا بہادری نہیں بزدلی ہوتی ہیں۔ عرصہ دراز سے اسرائیل فلسطینوں پر جارہانہ حملے کررہا ہے۔

تمام عرب ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اسلام نے تمام مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا ہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حق کو باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیا ہے۔ مگر آج مسلم فرقوں تفرقوں میں تقسيم ہوکر اپنی بربادی کا خود سامان کررہے ہیں۔ جسکا یہودیت خوب فائده اٹھا رہی ہیں۔ نتیجے میں عراق لیبیا فلسطین اور شام سمیت مشرق وسطی آگ کی لپٹ میں جل رہے ہیں۔

عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکہ نے علاقائی امن و استحکام کو خود خطرے میں ڈال رکھا ہے.
اور خطے میں خود انتشار پھیلا رکھا ہے. عالمی امن کا ٹھیکیدار امریکہ خود چاہتا ہے کہ علاقائی امن برباد رہے۔ اور امریکی فوجوں کا خطے میں موجود رہنے کا جواز رہے۔ سابق امریکی صدر براق اوبامہ نے ٹرمپ کو موجودہ ہٹلر کہا ہے۔

امریکی عوامی خود ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ سابق امریکی صدور نے بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے اجتناب برتا. ٹرمپ کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ انسان نہیں بلکہ انسان کے روپ میں درنده صفت ہے۔ اس نے اقتدار سے قبل جو وعدے اپنی عوام سے کیے انہیں پورا کرنے کے بجائے اب اپنے ساتھیوں سے کیے گئے وعدے پورے کررہے ہیں. اسرائیل نے 1967 میں جنگ کرکے فلسطین کے مشرقی حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اور آج تک فلسطین پر قابض ہے۔ اور اسکے ساتھ دیگر عرب ممالک پر بھی قابض ہونے کے درپے ہیں۔

یہ یہودیت کی سازش تھی کہ مسلمانوں کو تقسیم کرکے آپس میں لڑا کر اسلامی ممالکوں میں خانہ جنگیاں کرا کر انہیں کمزور کیا جائے۔ پھر ان پر حملہ کرکے قابض ہوا جائے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کرکے یہودیوں کی آباد کاری کی جائے۔ آج روئے زمین کا سب سے زیادہ حصہ فلسطین شام عراق لیبیا رونگیاں اور کشمیر مسلمانوں کے خون سے تر ہیں۔

فلسطین اور کشمیر بھی گزشتہ ساتھ دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ اسکے لیے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہوکر متحد ہونا پڑے گا۔خاص کر بیت المقدس کے تحفظ کے لیے۔ سلامتی کونسل نے اب بھی کچھ نہیں کیا۔تو پھر عالمی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بن جائے گا۔ ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو اپنے اختلافات ختم کرکے یکجا ہوکر اپنے قبلہ اول کے تحفظ کے لیے آوازیں بلند کریں۔

سوال یہ ہے کہ سعودی سربراہی میں بننے والا 34 ممالکوں کا اسلامی اتحادی نیٹو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بننے سے روک سکے گا یا نہیں۔ 34 اسلامی ممالکوں کا اتحادی نیٹو صرف دہشت گردی کے خلاف بنایا ہے۔ بیت المقدس اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے نہیں بنا تو پھر یہ اسلامی نیٹو کا قیام کس کام کا
بیت المقدس کی حفاظت کی ذمداری کیا صرف فلسطینوں کی ہیں۔ عرب ممالکوں کی نہیں ہیں۔ بیت المقدس کی حفاظت کی ذمداری عرب ممالک سمیت پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: mohsin noor

Read More Articles by mohsin noor: 273 Articles with 162969 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2017 Views: 484

Comments

آپ کی رائے