متحدہ عرب امارات، بحرین کے بعد کونسا تیسرا اسلامی ملک اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے؟

 
اسرائیل اس وقت بین الاقوامی  سیاست میں مرکز نگاہ بن چکا ہے۔ گزشتہ کچھ  دنوں کے دوران دو اہم عرب اسلامی ممالک  نے اسرائیل  کو تسلیم کرلیا ہے اور اس کے ساتھ معاہدے پر دستخط بھی کردئیے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اب سب سے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ وہ کونسا تیسرا اسلامی ملک ہوگا جو اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین، سعودی عرب کے قریب ترین اتحادی ہیں، اس لئے یہ ممالک سعودی عرب کی مکمل حمایت کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ اب اسرائیل کو تسلیم کرنے والا تیسرا ملک سعودی عرب  ہی ہو۔
 
 

گزشتہ دنوں برطانوی میڈیا کے ادارے ”دی نیو عرب“ میں ایک خبر امام کعبہ کے نام سے شائع  ہوئی ہے، جس کے مطابق امام کعبہ عبد الرحمٰن السدیس  نے گز شتہ دنوں جمعہ کے خطبے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہونے کا امکان ظاہر  کیا ہے۔ خطبے میں امام کعبہ  نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا اشارہ دیتے ہوئے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان باہمی تعاون کا درس دیا۔ انہوں نے عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک واقعہ بیان  کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں  کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم  کئے۔

 
 امام کعبہ کا کہنا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس برداشت کا مظاہرہ کیا، وہ ہمارے لئے بہترین سبق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کیلئے اپنی ڈھال  گروی رکھ دی تھی اور جب خیبر فتح ہوا تو خیبر کے یہودیوں کی زمین سے انہیں  کاشتکاری کیلئے حصہ دیا۔ امام کعبہ نے اس خطبے میں لوگوں کو یہ نصیحت دی کہ وہ اپنے لیڈران سے وفادار رہیں، گمراہ طبقات اور گروپوں کے پروپیگنڈے سے دور رہیں۔ امام کعبہ  کے حوالے سے یہ رپورٹ "دی یروشلم پوسٹ" میں بھی شائع کی گئی ہے۔
 
 
اس بیان کے سامنے آنے کے بعد کئی لوگوں نے ان کے بیان پر غم و غصے کا اظہار بھی  کیا، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ امام کعبہ کا خطبہ شاید اس بات کی طرف اشارہ  کررہا ہے کہ اب سعودی عرب بھی شاید اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہورہا ہے۔
 
یہ بھی  یاد رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیلی  پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی  وزیر خارجہ  فیصل بن فرحان ال سعود کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتے جب تک اسرائیل  فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی  طور پر تسلیم شدہ امن معاہدے  پر دستخط نہیں  کرتا۔
 
 جس طرح  یہ معاملات چل رہے ہیں، سیاسی ماہرین  کا یہی دعوٰی ہے کہ شاید اگلا اسلامی ملک سعودی عرب ہوگا، جوکہ اسرائیل کو تسلیم کرلے گا۔
 
تاہم اب کچھ مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ عمان ، اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا اسلامی ملک ہوسکتاہے ، کیونکہ عمان کی اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی تجارت گزشتہ کچھ برسوں سے جاری ہے۔ 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عمان کا دورہ بھی کیاتھا اور انہوں نے عمان کے اُس وقت کے رہنما سلطان قابوس سے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
 
لہذا اب عمان کے حوالے سے بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں ، تاہم اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا اسلامی ملک سعودی عرب ہوگا یا عمان ، یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 Sep, 2020 Views: 921

Comments

آپ کی رائے