بچپن ہی سے مشرقی گھرانوں میں لڑکیوں کو خصوصی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ باہر نہ جاؤ لڑکوں سے نہ ملو اور اگر ساتھ پڑھ رہے ہوں تو ان ہم جماعتوں کا ذکر کرنے پر بھی لڑکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔
ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے لیکن جوانی میں چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہر وقت شادی شادی کا نعرہ لگائے رکھتے ہیں اور جب تک شادی کا لڈو کھا نہ لیا جائے جان نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔
آخر وہ کونسے جملے ہیں جو آزاد نوجوانوں کی زندگی کو شادی کا ٹیگ لگا کر اس بندھن میں باندھ دینے میں استعمال کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔
1. تمھاری عمر نکلی جارہی ہے شادی کرلو
کسی لڑکی کی عمر اٹھارہ سال ہوجائے تو مانو اس پر دنیا بھر کے لوگوں جن میں محترم ماں باپ ہی نہیں ، محلے والے اور رشتے داروں کی نظریں ٹک جاتی ہیں ، یوں معلوم ہونے لگتا ہے گویا محض شادی ہی زندگی کا مقصد رہ گئی ہو۔۔۔۔ آنے جانے والا خواہ وہ کوئی دوست احباب ہو یا محلے دار ہر شخص گھر بیٹھے بیٹا عمر ہوگئی تمھاری اب تم شادی کے لائق ہوگئی ہو ، گھر کے کاموں میں دل لگاؤ۔ جیسے جملوں کو سماعت کے پردوں پر ڈالتا سنائی دیتا ہے
2. نانی/ دادی کی آخری خواہش ہے کہ تمھاری شادی فلاں جگہ ہوجائے
نوجوان بچے ، بچیوں کو یہ کہہ کر بھی شادی لے لئے بلیک میل کیا جاتا ہے کہ بیٹا تمھارے نانا نانی، دادا دادی کی آخری خواہش ہے کہ وہ تمھاری شادی کو اپنی زندگی میں ہوتے ہوئے دیکھ سکیں۔۔۔
کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ بھی تمھاری شادی جیسی زندگی کی اہم تقریب میں تمھارے ساتھ خوشیاں بانٹیں۔۔۔
مطلب اس جملے کے بعد انسانی نفسیات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بیچارے گھر والوں کے فیصلے کے آگے جھک جاتے ہیں۔۔۔
3. پھو پھو کا بیٹا/ بیٹی سے شادی
پھو پھو کا رشتہ کسی بھی بھتیجا بھتیجی کے لئیے بڑا نوک جھوک والا ہوتا ہے جس میں کبھی تو ایک مذاق بھی صدیوں کی ناراضگی اور کبھی ایک سنجیدہ بات بھی ہمیشہ کے لئے چھیڑ چھاڑ کا ذریعہ بن جاتی ہے،،ایسے حالات میں اکثر گھر والے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر تم نے کسی اور سے شادی نہیں کرنی تو کوئی بات نہیں ہم تمھاری پھوپھو کی لڑکی / لڑکے سے شادی کر دیتے ہیں۔۔۔
جہاں اس مسئلے سے نکلنے کا کوئی حل کنوارے لڑکے/لڑکی کو نہیں مل رہا ہوتا وہاں پھوپھی کی اولاد زندگی میں تہلکہ مچا دیتی ہے۔۔۔ جب تک کہ آپ یا تو پھوپھو کی اولاد سے شادی نہ کرلیں یا پھر اس ان چاہے انسان سے جس کی خواہش آپ کے ماں باپ نے کی ہو۔۔۔
4. جب آپ گھر کے بڑے ہوں اور چھوٹے بھائی بہن بھی کنوارے ہوں
اکثر اوقات گھر کے بڑے بچے/بچیوں کی شادی جلد از جلد کروا دی جاتی ہے کیونکہ ان کے پیچھے چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی شادی ہونی ہے،،، اس لیے بڑے بچوں کو جلدی قربانی کا بکرا بنانے کی پلاننگ کردی جاتی ہے۔۔۔
5. ذمہ داری کا احساس دلوانے کے لئے
ذرا کھل کر مذاق کرلیا جائے یا کسی بات پر زور سے ہنس کر جواب دے دیا جائے تو اسی لمحے سے بس گھر والے اس بات کے پیچھے لگ جاتے ہیں کہ اب اس کی شادی کروا دینی چاہیے تاکہ اس کو اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس ہوجائے۔۔۔
6. بچوں کی اولاد کی خواہش
اپنے بچوں یا اپنے نواسا/نواسی یا پوتا/پوتی کے بچوں کی خواہش بھی مشرقی گھرانوں میں پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ناسمجھ اور کم عقل لوگوں کی بھی شادی کروا دی جاتی ہے تاکہ ان کے بچوں کے ساتھ پر دادا دادی بھی کھیل سکیں۔۔۔
یہ وہ روزمرہ کی عام باتیں ہیں جس کو ہم سن رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ لوگ نظرانداز کردیتے ہیں اور کچھ لوگ دل پر لے لیتے ہیں۔۔۔