سردی میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں یا ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک کرنٹ لگ جاتا ہے۔ یا کبھی کسی دھات کی بنی ہوئی چیز کو چھو لیں تو اس سے بھی کرنٹ محسوس ہوتا ہے، بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ سر کے اوپر پہنی ہوئی ٹوپی جب اتاریں تو بال ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے کرنٹ لگ گیا ہو اور ہلکا سی آواز بھی آنے لگتی ہے مگر کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
وجہ:
٭ دراصل ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جب دو مختلف قسم کے مادے ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتے ہیں تو ان میں سے ایک اپنے الیکٹرون چھوڑ کر منفی(-) چارج ہو جاتا ہے اور دوسرا مثبت(+) چارج ہوجاتا ہے۔
٭ جب دونوں چارج شدہ مٹیریل کسی مخالف چارج رکھنے والے اجزاء سے ملتے ہیں تو منفی چارج والے مادے سے الیکٹران مثبت چارج والے مادے کی طرف کشش کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سردی میں چیزوں کو ہاتھ لگاتے ہیں تو الیکٹران کی منتقلی کی وجہ سے کرنٹ لگتا ہے۔
اس قسم کے کرنٹ کو
اسٹیٹک شاک کہتے ہیں جو کہ گرمیوں میں بہت ہی کم لگتے ہیں کیونکہ گرمیوں میں ہوا میں نمی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے باعث جسم سے چارج مستقل ہوا میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ سردیوں میں ہوا خشک ہونے کی وجہ سے یہ جسم پر ہی جمع رہتے ہیں اور بالآخر کسی چیز کو چھو کر جھٹکے کی شکل میں نکلتے ہیں۔