نیدرلینڈز میں کرفیو کے خلاف مظاہرے لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی میں تبدیل۔
تفصیلات کے مطابق نیدرلینڈز میں کورونا پابندیوں کے خلاف مظاہرے پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور لوٹ مار میں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ایمسٹرڈیم میں کرفیو کے خلاف سینکڑوں لوگوں نے احتجاج کیا، جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو پورے ملک کے شہروں میں لوٹ مار کی گئی ہے۔
جبکہ جنوبی شہر آئندو ون میں پولیس نے کئی سو لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور 30 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ملک بھر میں 240 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نہ صرف کئی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ساتھ ہی پولیس والوں کو بھی زندہ جلایا گیا اور آئندو ون سنٹرل سٹیشن پر موجود کاروبار بھی لوٹ لیے گئے۔
دی ہیگ، بریڈا، ارنہم، ٹلبرگ اور وینلو سمیت اور بھی کئی شہروں میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جبکہ شمال کے گاؤں یرک میں بھی ایک کورونا ٹیسٹنگ سنٹر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔
آئندو ون کے میئر جان جورٹسما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ملک اسی راستے پر چلتا رہا تو میرا خیال ہے کہ ہم خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
دوسری جانب رات نو بجے سے صبح ساڑھے چار تک کرفیو کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے خلاف 95 یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے نیدرلینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے کا کہنا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی کے لیے یہ ضروری ہے۔
واضح رہے کہ نیدرلینڈ میں اب تک کورونا کے نو لاکھ 48 ہزار نو سو 33 کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 13 ہزار پانچ سو 40 ہے۔
یاد رہے کہ نیدرلینڈز میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کرفیو نافذ کیا گیا ہے، جو 10 فروری تک جاری رہے گا۔