میرے 5 بچے ہیں اور ہم سڑک پر سوتے ہیں کیونکہ گھر ۔۔۔ مجبور اور غریب ماں کی کہانی

image

ماں اپنے بچوں کی خاطر ہر مشکل وقت کو ہنس کر گزار دیتی ہے کہ اس کے بچے خوش رہیں، ان کا پیٹ کبھی خالی نہ رہے، جسم کپڑوں سے ڈھکا رہے اور چہروں پر کھلکھلاتی ہوئی ہنسی نظر آئے۔ کچھ یہی حال سیالکوٹ میں رہنے والی اس خاتون کا ہے۔ یہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ ایک نجی ہوٹل کے قریب سڑک پر دن رات رہتی ہے اور گڑیا بیچ کر اپنا گزارہ کرتی ہے۔

آخر یہ ایسا کیوں کرتی ہے؟

اس عورت کے مطابق: '' ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے، گھر اتنا چھوٹا ہے کہ ہمارا گزارہ پورا نہیں ہو پاتا، میرے 5 بچے ہیں، ایک بیٹا سڑکوں پر ماسک بیچتا ہے، وہ 10 سال کا ہے، تین بچے چھوٹے ہیں میں ان کو خود سے دور نہیں کر سکتی اس لئے یہ تینوں میرے ساتھ مل کر سڑک پر بیٹھتے ہیں۔ میری چھوٹی بچی جس کی خود عمر گُڑیا سے کھیلنے کی ہے اس عمر میں یہ گُڑیا بیچتی ہے، کبھی کبھی کہتی ہے اماں اس سے میں کھیل لوں۔۔

مگر ایسے حالات ہی نہیں۔ میں اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں یہی بہت ہے۔ میں مجبور ہوں میرا شوہر مستقل بستر پر ہے اور میری ایک بڑی بیٹی ہے جس کی شادی میں نے اپنے حالات کو دیکھ کر جلدی کر دی تھی، لیکن میں کمانے والی اکیلی تھی جنتا ہوسکا جہیز دیا، مگر اس کے سسرالیوں نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ جاؤ تمہاری ماں نے تمہیں دیا ہی کیا ہے، کچھ جہیز نہیں لائی ۔۔۔ اور اس کو طلاق دے دی۔

ہم لوگ یہاں سڑک پر بیٹھتے ہیں تو لوگ ہمارا مزاق اڑاتے ہیں ہمیں یہاں سے مار کر بھگاتے ہیں کہ جاؤ یہاں ہوٹل ہے بڑے لوگوں نے آکر کھانا ہے تم لوگ سڑک کو روک کر بیٹھے ہو، کوئی ہم سے نہیں پوچھتا کہ ہم نے کھانا کھایا ہے یا نہیں۔۔۔

ایک گڑیا 500 روپے کی بتاتی ہوں مگر لوگ 300 دیتے ہیں کبھی 450 روپے ، جبکہ میں 250 روپے کی ایک گڑیا لیتی ہوں اس کے پر 50 یا 100 روپے میں ملتے ہیں، ہم یہاں رات کو بھی اسی لئے سردی میں سو جاتے ہیں کیونکہ گھر میں اتنی جگہ نہیں ہوتی، ہم پُل کے نیچے کونے پر ایک کوٹھری میں رہتے ہیں لیکن شوہر بستر کے بغیر نہیں رہ سکتے اور جوان بیٹی کو گھر میں ان کے پاس چھوڑ کر آتی ہوں۔

ہم گڑیا بیچ کر لوگوں کے بچوں کو تو خوش کرتے ہیں مگر میرے بچے اور میں دن رات خون کے آنسو روتے ہیں جس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میرا کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہے صرف میرا خُدا ہی ہے۔ لوگ کسی قسم کی مدد نہیں کرتے میری درخواست ہے کہ کوئی مسیحا ہماری بھی بات سنے اور ہماری مدد کرے۔ ''


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US