گلشن اقبال لاہور میں حالیہ نصب ہوا مجسمہ جہاں عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے وہیں بڑی تعداد میں لوگوں کی دل آزاری کا سبب بھی ہے۔ جس کی وجہ مجسمے میں قومی شاعر کو سگار پیتے ہوئے دکھایا جانا ہے۔ یہ مجسمہ اگر علامہ اقبال کی زندگی میں بنایا جاتا تو خود کو اس حال میں دیکھ کر یقینی طور پر ان کی روح بھی کانپ جاتی ۔ مجسمے کی تصویر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی زد میں ہے ۔ عوام شاعرِ مشرق کی منفی تصویر پیش کرنے پر مجسہ ساز اور پارک کی انتطامیہ کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں بلکہ
مجسمہ ہٹانے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔
ایک صارف نے طنزیہ طور پر لکھا کہ مجسمے کی تصویر میں کوئی مسئلہ نہیں سوائے اس کے کہ یہ علامہ اقبال کا نہیں لگ رہا۔ ایک اور صارف اسماء نسیم نے ٹوئیٹ کیا کہ علامہ اقبال کے خاندان کے وکلاء کہاں ہیں اور اس مجسمے کے خلاف کورٹ پر کیس کیوں نہیں کررہے؟ جبکہ ایک اور صارف علی رشید نے موجودہ حکومت پر طنز کرتے ہوئے ایک سرکاری تقریب میں کیک پر قائدِاعظم کی غلط تصویر بنانے اور علامہ اقبال کے مجسمے کی تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے عنون دیا گیا کہ موجودہ دورِحکومت میں قومی ہیروز کا حال۔