پاکستان میں اگر 90 کے دہائی کی بات کی جائے تو چند ایسی چیزیں سامنے آتیں ہیں جو ماضی کی یادوں کو رنگین بنا دیتی ہیں۔
نوے کی دہائی میں جب کمپوٹر گیمز ، ٹیکنالوجی اور جدید سمارٹ فونز کی آمد نہیں ہوئی تھی تب اس زمانے کی ٹیکنالوجیز اور آلات بھی اپنی مثال آپ ہوا کرتے تھے اور سب گھر والے ایک ساتھ مل کر نئی آنے والی ٹیکنالوجی سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔
ماضی کی چند یادیں ایسی بھی ہوا کرتی تھیں جنہیں یاد کرکے آج بھی ماضی حسین نظر آتا ہے۔نوے کی دہائی کی چند یادیں مندجہ ذیل ہیں۔
1- وی سی آر
وی سی آر ماضی کی ٹیکنالوجی میں ایک ایسی چیز تھی کہ شاید اب اس کا وجود نہیں لیکن اس یادیں ابھی ذہنوں میں تازہ ہیں، وی سی آر کو بالی ووڈ فلمیں دیکھنے اور شادیوں کی بنائی گئی فلموں کو دیکھنے کے لئے زیادہ تر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد سی ڈی لیکن موجودہ دور میں اس کی مکمل جگہ ڈی وی ڈی نے لے ہے۔
2- واک مین
چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے گانے سننا ہر ایک نوجوان اور بچے کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے آج کے دور میں گانےسننے کے لئے ہر وقت موبائل فون آپ کے پاس موجود ہوتا ہے، لیکن نوے کی دہائی میں گانے سنے کے لئے واک مین کا استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اس دور کی ایک جدید چیز تھی اور جس کسی کے پاس ہوتی تھی اسے بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ لوگ اپنی جیب میں رکھے واک مین کے ذریعے چلتے پھرتے اپنی پسند کی کیسٹ کو سن سکتے تھے۔
3-ریل والی تصویر
نوے کی دہائی کو بہت یاد کیا جاتا ہے اور اس دور ایک اور خوبصورت چیز یہ تھی کہ کسی بھی تقریب میں جانے سے قبل 24 یا 36 تصاویر کا رول خریدتے تھے پھر اس کو کیمرے میں لگا کر اہتمام سے تصویریں لیا کرتے تھے۔ پھر اس رول کو دھلنے کے لیے کسی قریبی فوٹو اسٹوڈیو میں دے کر تصاویر آنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور جب تصاویر دھل کر آجاتیں تو باقاعدہ پورے خاندان کے ساتھ دیکھی جاتی تھیں۔ بلاشبہ وہ دور محبت بھرا دور تھا۔
4- دوربین
دوربین بھی ایک پرانی ایجاد ہے۔ جسے دور دراز چیزوں کو دیکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ دوربین کا استعمال آج بھی کیا جاتا ہے۔ اسے دو چشمی دوربین بھی کہا جاتا ہے۔
5- میوزک کیسٹ
میوزک کیسٹس کئی نسلوں کی پسندیدہ ترین ایجاد تصور کی جاتی تھی۔ 1970ء سے 1990ء کی دہائی تک کمپیکٹ کیسٹس آواز کی دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایجاد تھی۔
6- ریڈیو
ریڈیو جو اوپر موجود ٹیکنالوجیز سے بھی کئی پرانی اور کامیاب ترین ایجاد تصور کی جاتی ہے۔ ریڈیو کی ایجاد 80 کی دہائی میں ہوئی ۔ ماضی قریب میں ریڈیو کو ایک بہترین ذریعۂ ترسیل و ابلاغ تصور کیاجاتا تھا۔ اس کی پہچان ایک ذریعۂ تفریح وثقافت کے طور پر تھی۔ مگر ٹی وی آنے کے بعد ریڈیو کی مقبولیت ماند پڑ گئی تھی۔