کہا جاتا ہے ارسطو نے انسان کے چہرے کے خدوخال سے اس کو جاننے کی کوشش کی اور اسی جستجو میں لگے رہے۔ اور انسان کے خدوخال کے ذریعہ پرکھنے کے عمل کو قیافہ شناسی کہا جاتا ہے اور شخصیت کو پرکھنے کی جستجو میں انسان کے چہرے کا رنگ، بال،ناک، کان سمیت مختلف اعضاء آجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسان کا چہرہ، ناک، کان ، آنکھیں سمیت دیگر اعضاء سے انسانی فطرت کی ترجمان ہوتی ہیں۔
مختلف ادوار میں قیافہ شناسی کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں جس طرح چینی قیافہ شناسی میں ہاتھوں اور پیروں کے پریشر پوائنٹس کے ذریعے سے بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔
اسی طرح چینی چہرہ شناسی میں بھی انسان کے چہرے کا چارٹ بنایا جاتا ہے جس سے جگر، قلب اور آنتو کا حال بھی جانا جاسکتا ہے۔
قیافہ شناسی میں کانوں کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کی اشکال بھی انسان کی شخصیت کے چھپے راز کو ظاہر کرتی ہے۔ کہاجاتا ہے چھوٹے کان رکھنے والے اشخاص حریص اور محنتی ہوتے ہیں تاہم یہ خود اعتمادی میں کمی کی وجہ سے مار کھاجاتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص جس کی کانوں کی لوئیں نوکیلی ہوں تو ان کو شمار گستاخوں میں کیا جاتا ہے۔
ایسے ہی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے کانوں کے اندر یا پھر اردگرد بال بہت اگتے ہیں ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے لوگ محنتی ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی محنت ضائع کردیتے ہیں۔ گول کان والے اشخاص عام طور پر دولت مند شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ کان جن کے دائرے چوڑے ہوں یہ اشخاص اچھے منتظم ہوتے ہیں اور اپنے کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔