'والد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں، لاش تلاش کی جائے' محمد علی کے بیٹے کا دل دہلا دینے والا بیان

image

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ساجد سدپارہ ہمت ہار گئے، والد کی لاش تلاش کرنے کی درخواست۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ساجد سدپارہ نے اسکردو پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں والد کی لاش تلاش کرنے کی درخواست کی ہے، انہوں نے کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ ٹیم نے کے ٹو سر کر لیا ہے، لگ رہا ہے واپسی پر کوئی حادثہ ہوا ہے، والد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں، لاش تلاش کی جائے'۔

ساجد سدپارہ نے میڈیا کو بتایا کہ 'ہم نے آخری بار 5 فروری کو رات 11 بجے مہم جوئی شروع کی تھی، میں آکسیجن کے بغیر بوٹل نیک پہنچا تھا، 8 ہزار 200 میٹر پر احساس ہوا کہ بغیر آکسیجن کے مہم جوئی ممکن نہیں رہی، اس دوران آکسیجن استعمال کرنے کی کوشش کی مگر ریگولیٹر لیک کر گئے تھے'۔

ساجد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے، والد اور جان اسنوری نے ساجد کو واپسی کا مشورہ دیا اور پھر وہ بوٹل نیک سے واپس آگئے تاہم ٹیم ان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے کے ٹو تو سر کر لیا ہے مگر ممکن ہے کہ واپسی میں کوئی حادثہ پیش آیا ہو۔

ساجد سدپارہ کا کہنا ہے کہ 'اتنی سردی میں تین دنوں تک زندہ رہنے کی امید نہیں، اب صرف لاشیں تلاش کرنے کے لیے سرچ آپریشن ممکن ہے'۔

دوسری جانب کوہ پیماؤں کی کوئی خبر نہ ملنے کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کی باحفاظت واپسی کے لیے صارفین دعا گو ہیں اور اس حوالے سے ٹوئٹر پر علی سدپارہ کا ہیش ٹیگ 'alisadpara#'بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ٹوئٹ کیا گیا ہے جس میں حکومتِ پاکستان نے پیغام دیا ہے کہ 'ہمارے ہیرو محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیماؤں کی باحفاظت واپسی کے لیے دعا گو ہیں'۔

واضح رہے کہ کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتا ہونے والے کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم میں شامل غیرل ملکیوں کی تلاش کے لیے آج بھی سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا لیکن تاحال ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US