کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگوں کی رنگت سیاہ، گندمی یا کچھ کی سفید ہوتی ہے؟ اس کا جواب ہے سورج کی تپش سے حفاظت کے لئے جلد کی سب سے اہم ضرورت وٹامن ڈی۔
ایسا ہی ایک سوال اکثر دماغ میں آتا ہے کہ آخر یہ انگریز اتنے گورے کیوں ہوتے ہیں؟
دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ جلد (اسکِن) ہمارے جسم کی ریپنگ یعنی پرت ہے، قدرت نے ہر انسان کو مختلف رنگ عطا کیا ہے جس کا انحصار ہمارے رہنے کی جگہ پر مبنی ہے، یعنی جہاں ہم رہتے ہیں یا ہمارے آباواجداد رہتے آ رہے ہیں اُس جگہ کا موسم کیسا ہے۔
جہاں ہم سالوں سے مقیم ہوں اگر وہاں کا موسم گرم اور سورج کی تپش کی لپیٹ میں ہو تو وہاں کی جلد کا رنگ بھی گہرا ہو جاتا ہے جیسا کہ ایشیاء میں رہنے والے لوگ ہیں، بلکل اِسی طرح انگریز اور اِن کے آباواجداد صدیوں سے جہاں مقیم ہیں وہاں کا موسم ٹھنڈا اور سورج کی تپش میں نرمی انگریزوں کی گوری رنگت کا سبب بنی ہے۔
انگریزوں کی قوتِ مدفعیت زیادہ اور وٹامِن ڈی کی مکمل مقدار بھی اُن کے گورے رنگ کی ایک وجہ ہے، انسان کی جِلد وٹامن ڈی کی تیاری اور فولیٹ کے مابین توازن برقرار رکھتی ہے۔
عام طور پر جِلد کا رنگ کسی آبادی کے شمسی تابکاری یعنی سورج کی تپش والے علاقے پر مبنی ہوتا ہے، کتنے وقت سے انسان کس جگہ اور کس موسم والے علاقے میں رہتا ہے یہی اس کی رنگت کی اصل وجہ ہے۔
تاہم انگریزوں کی گوری رنگت اصل وجہ اُن کے خاندان کی صدیوں سے چلی آ رہی ٹھنڈے موسم والی رہائش کی جگہ اور وٹامن ڈی کی مکمل مقدار ہے۔