اب ATM مشین سے پیسے نکالتے وقت رسید کے کتنے پیسے کٹیں گے؟

image

ملک کے مختلف بینکس اب اے ٹی ایم سے رقوم نکالنے کے بعد مشین سے نکلنے والی ریکارڈ رسید پر ڈھائی روپے وصول کررہے ہیں۔

اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے بعد ملنے والی وہ رسید جس پر آپ اپنی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ، اکاؤنٹ میں موجودہ رقم اور مزید رقم کی ٹرانزیکشن کی حدود سمیت دیگر ریکارڈ کو دیکھ سکتے ہیں اب اس رسید کو حاصل کرنے پر آپ کو ڈھائی روپے کی ادائیگی کرنی پڑے گی جو آپ کے اکاؤنٹ سے خود ہی کاٹ لیے جائیں گے جب کہ ان ڈھائی روپے کی کٹوتی کا ریکارڈ رسید پر موجود ہوگا۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے قیاس آرائیاں ہیں اور بعض بینک صارفین کا ماننا ہے کہ بینک مالکان اپنی من مانی کرتے ہوئے خود سے یہ پیسے وصول کررہے ہیں لیکن سچائی کچھ اور ہی ہے۔

متعدد بینکوں نے صارفین کو ایس ایم ایس یا سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وہ رسید حاصل کرنے کی صورت میں ڈھائی روپے کی کٹوتی نہیں کر رہے اور نہ ہی انہیں مرکزی بینک کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت کی گئی ہے۔

اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کی رسید پر یہ ڈھائی روپے کاٹنے کا قدم اے ٹی ایم کا نیٹ ورک چلانے والی کمپنی ون لنک کی جانب سے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ون لنک نے ایک مہم ’گو گرین‘ کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے۔

کمپنی نے اپنی مہم سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گو گرین مہم کے تحت یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ معاشرے میں پرنٹڈ کاغذ کے استعمال کو کم کیا جائے کیونکہ صارف عام طور پر یہ رسید پھینک دیتے ہیں۔

اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے بعد رسید لینے پر یہ ڈھائی روپے تمام بینکس نہیں کاٹ رہے بلکہ ابھی صرف چند بینکوں کی جانب سے ہی ایسا کیاجا رہا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ بینک صارفین کی جانب سے اے ٹی ایم سے رقوم نکالنے کے بعد کاغذ کی رسید حاصل کرنے کا آپشن ان کے اختیار پر چھوڑا گیا ہے لہٰذا صارفین چاہیں تو مشین سے رسید حاصل کرنے کے لیے ’ہاں‘ کا بٹن دباکر رسید حاصل کرسکتے ہیں جس پر انہیں ڈھائی روپے ادا کرنا ہوں گے۔

بینکوں کی جانب سے رسید لینے پر ڈھائی روپے کاٹنے کی خبر سننے کے بعد سوشل میڈیا صارفین غم و غصے کا اظہار کیا جارہا تھا تاہم متعد بینکوں نے اپنےصارفین کی غلط فہمی دور کر نے کے لیے سوشل میڈیا پر تمام چیزیں کلئیر کر دیں ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US