ملک کے حالات آج کل اس قدر خراب ہیں کہ ہر کوئی اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے پریشان ہے، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہی ملک میں ایک ایسا علاقہ بھی موجود ہے جہاں کبھی کوئی چوری ہوئی ہی نہیں ہے۔
جی ہاں آپ نے بلکل صحیح سُنا، گلگت اور بلتستان کو جوڑنے والے ضلع گانچھےکا علاقہ خپلو ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چوری نہیں ہوتی، یہ علاقہ اپنے حسین نظاروں کے باعث کشش رکھتا ہے۔
اس علاقے کی سب سے خاص بات یہاں کی غیر معمولی سیکیورٹی ہے يہاں سب گھروں کے دروازے کھلے رہتے ہيں، یہی نہیں بلکہ اگر یہاں کسی کا مويشی کھو جائے تو اِسے مسجد تک پہنچا ديا جاتا ہے اور مويشی کا خيال اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک اصل مالک نہ مل جائے۔
ہے نہ حیرت انگیز بات! اس علاقے میں 3 صدی قبل بنی مسجد "چقچن" آج بھی آباد ہے، اس خوبصورت علاقے کو یہاں کے لوگ اِسے بلتستان کا دل اور راجوں کی سر زمین کہتے ہیں، پہاڑوں میں گِھرے علاقے نے نہ صرف لوگوں کے دلوں ملائے بلکہ گلگت اور بلتستان کو بھی جوڑے رکھا ہے۔
اس ضلع کی تاریخ میں آج تک کوئی چوری اور ڈکیتی نہیں ہوتی، یہاں جب لوگ نماز پڑھنے جاتے ہیں تو دُکانیں بھی یونہی کھُلی چھوڑ جاتے ہیں اس حسین بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کہ لوگ بہت ایماندار ہیں۔
ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رُخ کرتے ہیں اور اس حسین وادی اور یہاں کے لوگوں کی روایات سے محضوض ہوتے ہیں۔
اگر پورے ملک میں اس ہی طرح امن اور سکون کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دِلوں میں ایمانداری کا سچا جذبہ پیدا ہو جائے تو یقیناَ یہ ملک ایک دن ریاستِ مدینہ بن جائے گا۔