اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے لیے ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) پر ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) چارجز وصول کرنے کی 45 سال پرانی پالیسی کو مستقل طور پر ختم کردیا ہے اور اس کا باقاعدہ سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ اسکیم 1980 کی دہائی میں بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کے تحت حکومت بینکوں کو ترغیب دینے کے لیے خود ٹی ٹی چارجز ادا کرتی تھی اور بینک 44 سال تک ہر ترسیل پر 25 سعودی ریال کے مساوی رقم حکومت سے وصول کرتے رہے، جبکہ ایک سال قبل 200 ڈالر تک کی ترسیلات کو اسٹیٹ بینک نے مفت کردیا تھا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ٹیلکس ٹیکنالوجی برسوں پہلے متروک ہونے اور جدید ذرائع آنے کے باوجود حکومت کا بینکوں کو ٹی ٹی چارجز دیتے رہنا حیران کن تھا۔
نئے سرکلر کے مطابق حکومت اب بینکوں کو ترسیلاتِ زر کی مد میں کوئی ٹی ٹی چارجز ادا نہیں کرے گی، تاہم بینک اور ایکسچینج کمپنیاں صارفین کو بیرونِ ملک سے رقم منگوانے کے لیے مفت سروس پہلے کی طرح ہی فراہم کرتی رہیں گی۔