بھارت یا کسی بھی ملک میں رہنے والی ہندو عورتوں کے چہرے پر ہم نے ہمیشہ لال یا کسی اور رنگ کی بندی یعنی ایک گول سا نشان دیکھا ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے یہ کیا ہے اور اس کو لگانے کا کیا مقصد ہے؟
اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں ایسی معلومات جو جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے کہ واقعی اس چھوٹی سی بندی کو لگانے کے پیچھے یہ وجہ ہے۔
ہندو عورتیں لال بندی کیوں لگاتی ہیں؟
بندی یا بندیا ہندو عورتوں کی خاص علامت ہے، یہ صدیوں قبل سے چلی آ رہی ایک روایت ہے شروعاتی دور میں صندل یا سندور کا ٹیکہ ہوا کرتا تھا، آج بھی مندر کے پجاری اسی شکل میں پیشانی پہ مردوں کو صندل یا سندور کا ٹیکہ لگاتے ہیں۔
تاہم اب وقت مختلف ہے اس لئے بازاروں میں بندی بھی جدید قسم کی موجود ہیں، یہ بندی ہندو تہذیب کا حصہ ہے، اس بندی کو لگانے کا مقصد بے حد عجیب ہے، ہندو اس بندی کو تیسری آنکھ قرار دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ جو چیزیں انسان اپنی قدرتی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا وہ اس آنکھ کے زریعے دیکھ سکتا ہے اور محسوس کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ ہندو مرد بھی اس بندیا کا استعمال کرتے ہیں۔
خاص طور پر اپنی عبادت کے وقت یہ مرد اور عورتیں اس بندی کو لگانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ یہ ایک فیشن بھی ہے۔
اس بندی کو ماتھے پر اس لئے لگایا جاتا ہے کیوںکہ آنکھوں کے بلکل بیچ کے اس پوائنٹ کو فوکس پوائنٹ اور احساسات کو ایک جگہ ملانے والا پوائنٹ بھی کہا جاتا ہے، اس لئے یہ لوگ مانتے ہیں کہ ماتھے پر بندی لگانے سے انہیں اپنے اردگرد کی وہ چیزیں دِکھائی دیں گی یا محسوس ہو جائیں گی جو یہ دیکھ نہیں سکتے۔
ہے نہ حیرت انگیز معلومات؟ مگر بحیثیت مسلمان ہم ان باتوں کو صرف فرضی سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے لیکن کلاسک فیشن کہ لحاظ سے پرانے وقتوں میں مسلمان خواتین بھی یہ بندی لگایا کرتی تھیں۔