پرانے دور کو یقیناً ہر فرد بے حد یاد کرتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں رشتوں میں محبت، اپنائیت اور خلوص ہوتا تھا۔ منافقت لفظ کا کوئی مطلب بھی نہیں جانتا تھا جبکہ آج لوگ سامنے کچھ اور جبکہ پیٹ پیچھے کچھ اور ہوتے ہیں۔
آج ہماری ویب اپنے پڑھنے والوں کے لیے بہترین کہانی لے کر آئی ہے جسے پڑھنے کے بعد آپ کے دِل میں بھی محبت اور رشتوں کے لیے عزت بیدار ہوجائے گی۔
پاکستان کی معروف میک اپ آرٹسٹ نتاشہ علی لاکھانی نے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے اپنے نانا اور نانی کی تصاویر شئیر کیں اور کیپشن میں ان کی کہانی بتائی۔
نتاشا کے نانا نے دو شادیاں کی تھیں، اس لیے ان کی دو ہی نانیاں تھیں۔
میک اپ آرٹسٹ لکھتی ہیں کہ ''ہماری فیملی میں تعلقات اور رشتوں کا بے حد احترام کیا جاتا ہے، جو مجھے بہت پسند ہے۔ یہاں کبھی رشتوں کی درجہ بندی نہیں کی گئی، نہ کبھی سگے اور سوتیلے کا لیبل لگایا گیا''۔
نتاشا کا کہنا تھا کہ ''میری چھوٹی نانو، کیونکہ میں نے انہیں ہمیشہ سے یہ ہی کہہ کر پکارا ہے، اور میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ ہمارا بچپن اِن کے گھر لاہور میں گزرا، جہاں چھوٹی نانو مزے مزے کے کھانے کھلاتی تھیں اور ہمیں اچھے برے میں فرق بتاتی تھیں''۔
نتاشا نے اپنی سوتیلی نانی کی تعریف میں لکھا کہ '' وہ ایک شاندار خاتون ہیں، چھوٹی نانو بیوی اور ماں کی شاندار مثال ہیں۔ انہوں نے جس طرح نانا کو آخری وقت میں الوداع کہا وہ بے حد دل شکشتہ تھا''۔
انہوں نے مزید بتایا کہ '' جب میری سگی نانی زندہ تھیں تو ہم سب محبت اور اپنائیت سے مِلتے تھے، چھوٹی نانو ہمیشہ خود سے بڑوں کی عزت کیا کرتی تھیں، جب میری نانی کا انتقال ہوا تو چھوٹی نانی ان کے پاس بیٹھی قرآن شریف پڑھ رہی تھیں''۔
نتاشا نے یہ بھی لکھا کہ '' اس دور میں انا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، لوگ مخلص اور میں نے ان لوگوں سے رشتوں کی قدر کرنا اور پیار ہی سیکھا ہے''۔
٭ اِس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔ ہماری ویب کے فیسبک پیج پر کمنٹ کر کے بتائیں۔