یوں تو ہر شخص کی زندگی میں جدوجہد کا ایک دور ضرور آتا ہے، مگر شوبز ستارے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرتے ہی جہاں انہیں دنیا بھر میں پہچان مِل سکے۔
ایسی ہی ایک کہانی ہے پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے اُبھرتے ستارے فرقان قریشی کی، ان کی شوبز میں آنے اور مرکزی کردار حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کی متاثر کُن کہانی نے انٹر نیٹ پر خوب توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
معروف اداکار فرقان قریشی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنے ماضی میں ہونے والے واقعات سمیت زندگی کے مشکل دور سے گزرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور ہمت نہ ہارنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ''انڈسٹری میں مجھے مرکزی کردار آفر ہی نہیں کیے جاتے تھے، کسی بھی ڈرامے میں کام کرنے کی کال آتی تھی یا کہانی سننے کے لیے بلایا جاتا تھا تو یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ کردار بھی بہت چھوٹا اور سائیڈ رول ہے''۔
فرقان نے بتایا کہ وہ ہر بار ہی بہت دلبرداشتہ ہو جایا کرتے تھے مگر ایک دن ان کی محنے رنگ لے آئی اور ان کو ایک ایسی کال موصول ہوئی جس نے ان کی زندگی بدل ڈالی۔
فرقان قریشی کا کہنا تھا کہ ’اُنہیں جب بھی کال آتی تھی وہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ کردار بھی کچھ خاص نہیں ہوگا انہوں نے بتایا کہ ایک بار انہیں ڈرامے کی آفر ہوئی اور کال آئی کہ آ کر کہانی سُن لیں، وہ کہانی سننے گئے تو انہیں یہ معلوم ہوا کہ ڈرامے میں اُن کا کردار اہم اور مرکزی ہوگا، جس پر وہ کافی حیران ہوئے اس کے بعد جب انہیں کردار کے معاوضے سے متعلق بتایا گیا تو وہ معاوضے کی رقم سُن کر حیرانی کے سبب اندر سے بالکل ہل کر رہ گئے تھے'۔
فرقان نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ''جب سب کچھ طے ہو جانے کے بعد وہ آفس سے باہر نکلے تو اپنی اس کامیابی اور پہلے مرکزی کردار ملنے پر آفس کے باہر کے بیٹھ کر ہی خوب روئے تھے''۔
فرقان نے ماضی کی تلخ کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ ''ایک دن اچانک میرے والد دنیا سے چلے گئے والد کے جانے کی خبر تو ایک دکھ تھا ہی لیکن ساتھ ہی یہ پہاڑ بھی تکلیف دہ تھا کہ جاتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ میں اتنا بھی نہیں تھا کہ گزارا ہو سکے، ان کے اکاؤنٹ میں صِرف بارہ سو روپے تھے۔
فرقان نے اپنے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'میں بہت دُبلا پتلا تھا، جیب میں دو سو سے ڈھائی سو روپے ہوتے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ وزن بڑھاؤ، انڈے کھاؤ، پروٹین شیک پیو، میں کہتا تھا کہ پیٹ بھر کھانا نہیں کھاتا تو یہ سب چیزیں کہاں سے لاؤں، ایسا نہیں ہے کہ کھانا ہوتا نہیں تھا لیکن میری غیرت کھاتے ہوئے میرے ہاتھوں کو زیادہ کھانے سے روکتی تھی'۔
فرقان کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیئے اگر آپ محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں تو ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے، تاہم وہ میرے خوشی کے آنسو تھے۔
فرقان قریشی کا یہ حالیہ انٹرویو سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہو رہا ہے اور ساتھ ہی فرقان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔