قصے اور کہانیاں زُبان در زُبان جب آگے بڑھتی ہیں تو حقیقت کو اپنے اندر دفن کر دیتی ہیں اور لوگ اُن پر اندھا اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
آج ہم آپ کو انسانی جسم کے متعلق مشہور ایسی ہی چند باتوں کو شامل کر رہے ہیں جن پر نہ صرف ہم خود یقین رکھتے ہیں بلکہ دُوسروں کو بھی سمجھاتے ہیں مگر ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
1- ہم صرف 10 فیصد دماغ استعمال کرتے ہیں
ایسا اکثر آپ نے اپنے بڑوں سے سنا ہوگا یہ اپنے استادسے کہ عام انسان اپنے دماغ کا صرف 10 فیصد استعمال کرتا ہے اور آئن سٹائن وہ واحد آدمی تھا جس نے اپنا دماغ 20 فیصد سے زیادہ استعمال کیا تھا لیکن سائنس اس بات کو نہیں مانتی اور اُسکا کہنا ہے کہ دماغ کا زیادہ تر حصہ ہر وقت 100 فیصد کام کرتا رہتا ہے اور چاہے ہم جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں۔
2- شیمپو بال ٹھیک کر دیتا ہے
شیمپو بنانے والی متعدد کمپنیاں اس حوالے سے دعویٰ کرتی ہیں کہ اُن کے شیمپو اور کنڈیشنر بالوں کو ٹھیک اور مضبوط بنا دیتے ہیں مگر یاد رکھیں بال صرف کاٹنے سے ٹھیک ہوتے ہیں کیونکہ شیمپو سے ملائم ہو کر وہ کُچھ دیر کے لیے محسوس نہیں ہوں گے لیکن ختم نہیں ہوں گے۔
3- ہاتھوں کی لکیریں شخصیت کے راز بتاتی ہیں
ہاتھوں کی لکیریں ہاتھ کی جلد کے مُڑنے کے ساتھ قُدرتی طور پر ہاتھ کی بناؤٹ کے حساب سے وجود میں آتی ہیں اور کبھی غائب بھی ہو جاتی ہیں اور ان کا آپ کی صحت، مستقبل اور شخصیت سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر پھر بھی یہ بات جانتے ہُوئے بھی بہت سارے لوگ اس کو نہیں مانیں گے اور کہانی دل کے بہلانے سے شروع کریں گے اور اندھے یقین پر ختم کردیں گے۔
4- جلے پر فوراً تیل لگانا چاہیے
جلد اگر جل جائے تو اس پر فوراً کوئی ٹھنڈی چیز لگانی چاہیے کیونکہ تیل لگانے سے جلد کے مسام بند ہوجاتے ہیں اور زخم کی حدت اندر ہی رہ جاتی ہے جس سے تکلیف میں اضافی ہوجاتا ہے۔
5- گاجر کھانے سے عینک اُتر جاتی ہے
یہ نصیحت تو اُن بچوں کو کی جاتی ہے جن کی نظر کمزور ہونے کے سبب اُنہیں عینک لگی ہو مگر گاجر کھانا مسلز ڈیجنریشن کے عمل کو روکتا ہے اور کمزور نظر کو ٹھیک نہیں کرتا۔