سوشل میڈیا پر ان گنت ایسے واقعات جاننے کو ملیں گے جس میں ایک ناقابل یقین کہانی موجود ہوگی۔ ویسے تو ہم سب کسی نہ کسی مشکل سے دوچار ہیں مگر اس مشکل سے نکل کر ہمت کر کے اس مشکل کو سمجھنا اور پھر اس کا حل نکالنا ہی اصل امتحان ہے۔ ایسے امتحان کو سر کرنے والے ہی کامیاب قرار پاتے ہیں۔
ان مشکل حالات کو سمجھنا ماں باپ کے لیے کوئی مشکل بات نہیں، اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی خواہشات کو پورا کرنا، اپنی خواہشات کو سولی پر چڑھاکر خود بچوں کے لیے جینا آسان نہیں۔ لیکن کراچی کی ایسی ہی ایک ماں نے یہ بات ثابت کردی کہ ماں باپ اولاد کے لیے ہر مشکل سے لڑ سکتے ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی رخسانہ شعیب بھی ایک ایسی ہی باہمت خاتون اور والدہ ہیں جو کہ سنگل پیرنٹ ہیں۔ اور وہ اپنے بیٹے کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہر مشکل سہن کرسکتی ہیں۔
رخسانہ ویسے تو فزیوتھیریپسٹ ہیں مگر وہ ایک بہترین شیف اور انفارمیشن ٹیکنولوگی (آئی ٹی) میں ڈپلومہ ہولڈر بھی ہیں۔ رخسانہ ایک باہمت خاتون ہیں جو کہ بنا کسی جھجھک کے اپنے بیٹے کی بہترین تعلیم کے لیے کام کررہی ہیں۔
رخسانہ گھر کا خرچہ پورا کرنے کے لیے فزیوتھیریپی بھی کرتی ہیں، کھانے کے آرڈر بھی بک کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آن لائن ٹیکسی بھی چلاتی ہیں۔ عام طورپر ایک عورت کے لیے ٹیکسی چلانا آسان کام نہیں، وہ بھی اس معاشرے میں جہاں عورت کو خطرات لاحق ہوں۔
رخسانہ کا روزمرہ کا دن کچھ یوں گزرتا ہے۔ وہ فزیوتھیرپی کے مریضوں کو وقت دیتی ہیں، جبکہ سفر کو فائدہ مند بنانے کے لیے رخسانہ نے اپنی گاڑی آن لائن ٹیکسی میں رجسٹرڈ کروائی ہوئی ہے جس سے وہ مریضوں کو دیکھ بھی لیتی ہیں اور ساتھ ساتھ رائیڈ بھی بک کرلیتی ہیں۔ اور دن کا اختتام کھانے کے آرڈر پورے کرنے پر ہوتا ہے۔
رخسانہ کا ایک دن کسی کھیت میں اکیلے حل چلانے جیسا ہے، کیونکہ ایک عورت ہوتے ہوئے وہ مریضوں کو بھی دیکھ رہی ہیں، کھانے کے آرڈر بھی تیار کرتی ہیں جبکہ آن لائن ٹیکسی بھی چلانا۔ یہ سب کام رخسانہ ایک دن میں کرتی ہیں۔
رخسانہ بھی ایک عام ماں جیسی ہی ہیں، جو کہ اپنے بیٹے کے لیے، اسے ہر ممکن آسائش فراہم کرنے کے لیے وہ ہر مشکل سے لڑجانے کا عزم رکھتی ہیں۔
رخسانہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ تھکتی نہیں ہیں، اتنا کام کرکے؟ تو رخسانہ نے بڑے مطمئن انداز میں جواب دیا 'میرا بیٹا میری موٹیویشن ہے، وہ مجھے تھکنے نہیں دیتا۔ چونکہ میں ایک سنگل پیرنٹ ماں ہوں، تو مجھے مشکلات پیش آتی پیں۔ مگر اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کے لیے یہ مشکلات کچھ نہیں۔
رخسانہ بھی اسی قوم کی ماں، بہن اور بیٹی ہے۔ ہر قدم پر رخصانہ اس بات کو ثابت کررہی ہیں کہ اس قوم کی بیٹی بھی کسی سے پیچھے نہیں اور ہر لحاظ سے تعریف کے قابل ہے۔