پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل نیشا راؤ نے مزدور رہنما ناصر منصور اور کراچی بار کے وکیل ممتاز تنولی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 30 جون کو خواجہ سراؤں پر ہونے والے پولیس لاٹھی چارج اور اپنے خلاف درج ہونے والی مبینہ جعلی ایف آئی آر پر شدید احتجاج کیا۔
نیشا راؤ نے الزام لگایا کہ درخشاں تھانے کی پولیس خواجہ سراؤں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے اور ان کی کمیونٹی کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ درخشاں تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کر کے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور خواجہ سراؤں کو تعلیم و بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
اس موقع پر وکیل ممتاز تنولی نے کراچی بار کی جانب سے پولیس گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کو انسان سمجھ کر ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ایسا نظام بنایا جائے جہاں پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی ممکن ہو۔