سُسر کو قتل کرنے کے بعد بہو کا حقِ دفاع کا دعویٰ: ’تمہارے لیے کماتا ہوں، میری خواہشات پوری کرو‘

پولیس افسر کے مطابق 28 سالہ خاتون نے اپنے سسر کے رویے کے بارے میں اپنی ساس کو بھی بتایا تھا، جس کے بعد ساس اور سسر کے درمیان تکرار بھی ہوئی تھی۔
انڈیا
Getty Images
ملزمہ کا دعویٰ ہے کہ اُن کے شوہر کی وفات کے بعد سے اُن کے سُسر انھیں جنسی طور پر ہراساں کر رہے تھے (فائل فوٹو)

انڈیا کے شہر چنائی میں پولیس نے ایک خاتون کے خلاف اپنے سُسر کو قتل کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، خاتون کا دعویٰ ہے کہ اُن کے سُسر مبینہ طور پر انھیں ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

چنائی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں تاحال ملزمہ کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

مقامی پولیس افسر کے مطابق ’خاتون کے خلاف قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ مبینہ طور پر اُن کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ عمل اپنا دفاع کرتے ہوئے کیا ہے۔‘

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا مگر انھیں اب اپنا یہ کیس عدالت میں ثابت کرنا ہو گا اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔

قتل کا یہ واقعہ یکم جولائی کی صبح چنائی میں پیش آیا تھا۔ پولیس کے پاس درج کروائی گئی ایک شکایت میں 28 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ اُن کے بزرگ ساس سُسر، جو مچھلی کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں، اُن کے ساتھ غلط برتاؤ کرتے تھے۔

ملزمہ کے شوہر چار ماہ قبل وفات پا گئے تھے جس کے بعد یہ اپنے بچوں کے ہمراہ اپنی سسرال میں مقیم تھیں۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کا کہنا ہے کہ خاتون نے ابتدائی تفتیش میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے سُسر گذشتہ کئی ہفتوں سے انھیں جنسی طور پر ہراساں کر رہے تھے۔

پولیس افسر کے مطابق ’ملزمہ نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے بیان میں جنسی ہراسانی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے سُسر انھیں کہتے تھے کہ میں تمہارے اور تمھارے بچوں کے لیے لیے کماتا ہوں، اسی لیے اب تم میری جنسی خواہشات پوری کرو۔‘

پولیس افسر کے مطابق 28 سالہ خاتون نے اپنے سُسر کے اس مبینہ رویے کے بارے میں اپنی ساس کو بھی آگاہ کیا تھا، جس کے بعد ساس اور سسر کے درمیان تکرار بھی ہوئی تھی۔

’اس تکرار کے بعد ملزمہ کی ساس ناراض ہو کر اور اپنا گھر چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے گھر چلی گئی تھیں۔‘

پولیس نے خاتون کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟

India
Getty Images

تمل ناڈو ویمن لائرز ایسوسی ایشن کی سربراہ شانتاکماری کہتی ہیں کہ ’انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 34 کے مطابق ہر شخص کو اپنے دفاع میں مزاحمت کا حق حاصل ہے، اور بظاہر اسی لیے پولیس نے خاتون کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

’ملزمہ کے ابتدائی بیان کے مطابق وہ شخص خاتون کا مسلسل استحصال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس لیے اس واقعے کو قتل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ حق دفاع کے طور پر۔‘

شانتاکماری کے مطابق ’خاتون کے سسر اس لیے مارے گئے کیونکہ وہ اپنی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی عدالت میں اپنی بےگناہی ثابت کرنا خاتون کی ذمہ داری ہے۔‘

کیا ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں؟

شانتاکماری نے اس حوالے سے پنجاب میں پیش آنے والے ایک معروف واقعے کی مثال دی۔

سنہ 1991 میں درشن سنگھ نامی شخص نے پنجاب کے شہر لدھیانہ میں زمین کے جھگڑے کے دوران اپنا دفاع کیا تھا اور اس دوران شخص ہلاک ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کے فیصلے میں کہا تھا کہ قانون کے تحت یہ جرم نہیں بلکہ حق دفاع کا کیس تھا۔

شانتاکماری کہتی ہیں کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی جان کے تحفظ کے لیے کسی کو قتل یا زخمی کر دے تو اسے جرم نہیں سمجھا جائے گا۔‘

ایسا ایک اور واقعہ انڈیا کے ضلع مدورئی میں سنہ 2012 میں پیش آیا تھا جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ وہ اپنی 19 سالہ بیٹی پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

عدالت نے اس خاتون کو بھی رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے کیونکہ اس کے مطابق خاتون اپنی اور اپنی بیٹی کی جانوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اس وقت مدورئی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسارا گرگ نے کہا تھا کہ ’تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ اقدام اپنے دفاع اور لڑکی کی حفاظت کے لیے اُٹھایا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے انھیں رہا کر دیا۔‘

اس جوڑے کے درمیان طلاق سنہ 2007 میں ہوئی تھی، تاہم وہ 2011 سے دوبارہ ایک ساتھ رہ رہے تھے اور ان کے درمیان اکثر تکرار ہوتی تھی۔

پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ ویرن نامی شخص اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ نامناسب سلوک روا رکھا ہوا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US