وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کراچی کے دورے کے دوران پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے ارکان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی ایجنڈے اور حکومت کی اقتصادی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل کو ملکی کاروباری برادری کے نمایندہ ادارے کے طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے اور حکومت کے درمیان اہم معاشی اور پالیسی امور پر تعمیری مکالمے کے فروغ میں کونسل کا کردار قابلِ قدر ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معیشت نے توقعات سے زیادہ استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ وہ ممالک جو ساختی اصلاحات پر کاربند رہے، معاشی استحکام اور ترقی برقرار رکھنے میں زیادہ کامیاب رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی میکرو اکنامک استحکام، مسابقت میں اضافے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری کے لیے مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سال بجٹ سازی کا عمل معمول سے پہلے شروع کیا گیا تاکہ مالیاتی منصوبہ بندی کو زیادہ منظم اور جامع بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں برآمدات کے فروغ، برآمد کنندگان کو مالی سہولیات کی فراہمی اور برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اہم ٹیکس اور مالیاتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے پالیسیوں کے تسلسل اور پیش بینی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت درمیانی مدت کی ٹیکس حکمتِ عملی پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ مستحکم اور مستقل ٹیکس نظام کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری اور طویل المدتی اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے ناگزیر ہے۔
اس موقع پر پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں نے مختلف برآمدی شعبوں اور حکومت کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ساختی اصلاحات، پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔