مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں عدم موجودگی اور اِس سے جنم لیتی قیاس آرائیاں

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے ہیں، جس کے بعد اُن کی صحت اور موجودہ حالت سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تصویر
Getty Images

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے ہیں، جس کے بعد اُن کی صحت اور موجودہ حالت سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین سے متعلق سات روزہ تقریبات، جن کا باقاعدہ آغاز جمعہ (تین جون) کو ہوا تھا، تہران میں جاری ہیں۔ اس دوران ہزاروں افراد نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس موقع پر ایرانی حکومت اور ریاستی اداروں کی متعدد اعلیٰ شخصیات بھی گاہے بگاہے نظر آتی رہی ہیں۔

علی خامنہ ای کے تین بیٹے، مسعود خامنہ ای، مصطفیٰ خامنہ ای اور میثم خامنہ ای، اپنے والد کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ اُن کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی سمیت کئی اعلیٰ حکام نے بھی جنازے میں شرکت کی تھی۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کے باعث اُن کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں اور بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اُسی فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس میں اُن کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اہلخانہ ہلاک ہوئے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے اوائل میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔

تصویر
Getty Images
علی خامنہ کے تین دیگر بیٹوں، مسعود، مصطفیٰ اور میثم، نے اپنے والد کے جنازے میں شرکت کی تھی

علی خامنہ ای کی تدفین اور جنازے کی سرکاری سطح پر منعقدہ تقریبات کا آغاز جمعہ کے روز ہوا، جبکہ رواں ہفتے کے دوران ایران اور عراق میں مزید تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

ایرانی حکام کے مطابق ان تقریبات میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے اور اس جنازے کو ’صدی کا سب سے بڑا جنازہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت ابتدائی طور پر تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں رکھی گئی تھی اور اب اُن کے جنازے کا جلوس تہران کی سڑکوں پر موجود ہے۔ نمازِ جنازہ اور دیگر مذہبی رسومات معروف شیعہ عالم جعفر سبحانی نے ادا کیں، جو 97 برس کے ہیں اور قم کے ایک دینی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔

حملے کا خوف

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں سوگواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
Getty Images
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں سوگواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

علی خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر ایران بھر میں اتوار کے روز عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں ہونے والی تمام تقریبات کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی ہے اور انھیں منظم انداز میں سرانجام دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی ان تقریبات سے غیر موجودگی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر وہ منظر عام پر آتے ہیں تو اسرائیل ممکنہ طور انھیں نشانہ بنا سکتا ہے۔

اگرچہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اسے نازک قرار دیا جا رہا ہے۔ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں فریق خبردار کر چکے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر وہ دوبارہ ایک دوسرے پر حملے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ جنازے کی تقریبات کے باعث امن مذاکرات ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ایرانی حکومت کے کئی سینیئر عہدیدار ایک ہی مقام پر موجود تھے اور اگر امریکہ چاہتا تو انھیں ’ایک ہی حملے‘ میں ہلاک کر سکتا تھا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’ہم ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ پھر مذاکرات کرنے کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا۔‘

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیران ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں لگا تھا لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’شاید یہ آنسو بھی اصلی نہیں بلکہ جعلی ہوں۔‘

سوگواروں میں شامل 50 سالہ ایرانی خاتون زہرا صفائی نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے 47 سال پہلے انقلاب کے لیے کوشش اس وجہ سے نہیں کی تھی کہ جعلی آنسو بہائیں، ہم نے اپنے اتنے ’شہدا‘ کی قربانیاں بھی جعلی آنسو بہانے کے لیے نہیں دیں۔‘

شدید گرمی کے باعث شرکاء پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا تاکہ انھیں گرمی کی شدت سے بچایا جا سکے
AFP via Getty Images
شدید گرمی کے باعث شرکاء پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا تاکہ انھیں گرمی کی شدت سے بچایا جا سکے

’ہم بدلہ لیں گے‘ کے نعرے

خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور دی گارڈین کی رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز جنازے کی تقریبات کے دوران لوگوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا اور سُنا گیا۔

شاعر محمد رسولی نے نماز سے قبل اپنے کلام کے دوران کہا کہ ’اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹرمپ کو قتل کریں۔‘

اس موقع پر ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ شہر بھر میں ایسی تحریروں پر مبنی مختلف بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔

ان بینرز پر ’ٹرمپ کو قتل کرو‘ اور ’بی بی کو قتل کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

یہاں ’بی بی‘ سے مراد اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو ہیں۔

شرکا کے ہاتھوں میں ایسے بینرز موجود تھے کہ جن پر ’ہم انتقام لیں گے‘ جیسے نعرے درج تھے۔

حکام کے مطابق صرف تہران میں ہی ان تقریبات کے سلسلے میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا نے عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے کیونکہ بھگدڑ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق اتوار کے روز گرینڈ مصلیٰ اور اس کے اطراف میں قائم طبی مراکز میں چار ہزار سے زائد افراد نے طبی امداد حاصل کی، تاہم اب تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

جنازے میں شامل افراد نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے کہ جن پر ’ٹرمپ کو قتل کرو‘ اور ’بی بی کو قتل کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔
Getty Images
جنازے میں شامل افراد نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے کہ جن پر ’ٹرمپ کو قتل کرو‘ اور ’بی بی کو قتل کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

جنازے کی تقریبات کی ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث شرکا پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا تاکہ انھیں گرمی کی شدت سے بچایا جا سکے جبکہ طبی عملہ ایک معمر خاتون کو سٹریچر پر منتقل کرتا بھی دکھائی دیا گیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کو اُن کے خاندان کے چار دیگر افراد کے تابوتوں کے ساتھ رکھا گیا ہے، جو تہران میں ہوئے ابتدائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں اُن کی لگ بھگ ایک سالہ پوتی زہرا محمدی گلپایگانی بھی شامل تھیں۔

اپنے دورِ قیادت میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے مغربی ممالک کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل مخالف مسلح گروہوں، جن میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی شامل ہیں کی طویل عرصے تک حمایت کی۔

پیر کے روز تہران میں جنازے کے جلوس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت منگل کو قم لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد بدھ کے روز اسے پڑوسی ملک عراق میں واقع ایک اہم شیعہ مذہبی مقام منتقل کیا جائے گا، جبکہ جمعرات کو اُن کی تدفین مشہد میں ہو گی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US