کبھی کبھار انسان کی حرکات یا یوں کہہ لیں کہ مذاق اتنا دہشت ناک ہوجاتا ہے کہ انہیں دوسروں کا خیال ہی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ آج کل کے حالات سب کے سامنے ہیں جہاں معاشرے میں جرائم، قتل و غارت گری، ڈکیتی ، جنسی زیادتی کے واقعات، اغواء، اور تشدد کے واقعات منظرعام پر آنے لگے ہیں انسان پہلے ہی سب منفی طرز کی چیزیں دیکھ کر خوفزدہ اور پریشان رہتا ہے وہیں چند افراد کی غلطی اور غفلت کی وجہ سے مزید پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر چند ماہ قبل ایک تصویر شئیر ہوئی جو بظاہر ایک منفی پہلو کو اُجاگر کر رہی ہے اور برائی کو جنم دے رہی ہے۔
قومی شاہراہ پر سفر کرتے ایک صاحب کو دیکھا گیا تھا جنہوں نے اپنی گاڑی میں ہاتھوں کا پتلہ اس طرح لگایا ہوا تھا کہ دیکھنے والا محسوس کرتا کہ شاید کسی انسان کو بند کر کے لے جایا جارہا ہے۔ اب یہ منظر دیکھ کر ہمارے ذہن میں یہ آتا ہے کہ آیا یہ شخص جرم انجام دے کر اپنے راستے جا رہا ہے۔
بعد ازاں ہوا کچھ یوں کہ موٹروے پولیس نے بروقت کاروائی کر تے ہوئے مذکورہ شخص کو روکا اور تلاشی کی تو معلوم ہوا کہ گاڑی کی ڈگی میں صرف ہاتھوں کا پتلہ ہے جو صرف اپنی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے گیا ۔اس طرح کے رویوں کی سماجی طور پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
یہ تصویر دیکھ کر بہت سے چونک اٹھے کہ آخر اس شخص نے ایسا کیوں کیا اور کیا پیغام دینا چاہ رہا تھا۔ بہرآل معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائی کو مددنظر رکھتے ہوئے کسی مثبت اور حوصلہ افزاء کام سرانجام دینا چاہیئے تاکہ لوگوں کے ذہنوں سے خوف نکل سکے۔